ایک بار پھر، گول گول گھوم


سنہ اسی کی دہائی میں معروف پاپ سنگر زوہیب حسن کا ایک گانا مشہور ہوا تھا جس کے بول تھے ”جھوم پوری رات جھوم، گول گول گھوم“ بچپن کے دن تھے، سمجھ نہیں آیا کے ایک بندہ ایک ہی جگہ پر گول گول کیسے گھوم سکتا ہے۔ بڑے ہوئے، ملک میں جاری سسٹم کا حصہ بنے تو جانا کہ گول گول گھومنا کسے کہتے ہیں۔

پاکستان میں الیکشن کا ہونے والا کھیل بھی ایسا ہی ہے جس کی کوئی کل ہی سیدھی نہیں۔ پاکستان دنیا کہ چند ملکوں میں شامل ہے جہاں ہر دور میں الیکشن کرانے والے اپنی ناپسندیدہ جماعت کو جی بھر کر گول گول گھماتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، گزشتہ چار الیکشنز کو ہی دیکھ لیں۔ ہر مرتبہ امیدواروں کے آگے الگ الگ قسم کے بند باندھے گئے۔ گریجوایشن کی شرط سے لے کر شق باسٹھ، تریسٹھ پر پورا اترنا، اور اب انٹرا پارٹی الیکشن وغیرہ وغیرہ۔

بہرحال یہ آج کا موضوع نہیں ہے۔ موضوع تو انتخابات اور اس سے جڑی ان تمام مشقوں کی ساکھ کا ہے جو یورپ و دیگر مہذب دنیا کی دیکھا دیکھی ہم اور ہم جیسی دیگر اقوام نے بھی اپنا لی ہیں۔ کیا واقعی ہم معاشرتی و سماجی طور پر ذہنی سطح کی اس بلندی پر موجود ہیں جس کی مظاہرہ دیگر باشعور ملکوں کے عوام اپنے نمائندوں کو چنے کے لیے کرتے ہیں؟ جواب ہر پڑھنے والے کو پتہ ہے تو پھر یہ انتخابات اور نتائج اور جیت ہار کا ڈھونگ کیسا؟

کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بعض اوقات اچھی تعلیم بھی شعور کو بیدار کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی لیکن ایک امید تو ہوتی ہے کہ پڑھے لکھا ووٹر بہتر امیدوار کو چن سکتا ہے۔ لیکن ایک ایسا ملک جہاں آدھی آبادی اپنا نام نہ لکھ سکے کیا وہ بغیر کسی دباؤ، لالچ کے صحیح نمائندہ چننے کے صلاحیت رکھتی ہے؟ اور یہ فارمولا کہاں سے ایجاد ہوا کے ایک آدمی ایک ووٹ؟ یعنی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل شخص اور ایک دیہات کا عام محنتی کسان کا ووٹ یکساں طاقت رکھتا ہے؟

اگر یہ ہی فورمولا ہے تو نوکری دینے پر کیوں نہیں لاگو ہوتا؟ یعنی ووٹ دیتے وقت تو دونوں ایک صف میں لیکن زندگی کے دوسرے شعبوں میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ یہ کیوں ہے اور کس کے فائدے کے لیے؟ اگر اس فرق کو مٹانا ہے تو بنائیے قانون کے میٹرک پاس کے دو ووٹ شمار ہوں گے، انٹر کے تین، بیچلرز کے چار ور ماسٹرز کے پانچ ووٹ گنے جائیں گے۔ پھر دیکھیے اپنے ووٹر کو جان بوجھ کر تعلیم سے دور رکھنے والے سیاستدان اپنے حلقوں میں کالج اور یونیورسٹیوں کی لائن لگاتے ہیں۔

انتخابات کا کھیل اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کہ مخصوص طبقے کے علاوہ کسی اور شخص کا جیتنا تو دور کی بات انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونا ہی محال ہو گیا۔ کروڑوں کی سرمایہ کاری اور پیسہ ڈوبنے کے خدشات اپنی جگہ پر۔ ایک دس سالہ بچہ بھی بتا سکتا ہے کہ یہ سب عوام کی محبت میں کیا جاتا ہے یا ذاتی مفاد کے تحت؟ لیکن کیا مجال ہے اس سسٹم کو تحفظ دینے والے اس حوالے سے بھی کوئی آئینی، کوئی قانونی شق بنا لائیں۔ کیا عجب تماشا ہے کے 1981 سے کسی نہ کسی طور کابینہ میں شامل لوگ چالیس سال بعد پھر عوام کی خدمت کے لیے خود کو پیش کر رہے ہیں۔ کوئی نئی سوچ کوئی نئی فکر کچھ نہیں۔ ڈبل اے استاد

دنیا بھر میں اسمبلیوں کو آئین اور قانون ساز ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے جن کا کام قومی سطح کی پالیسی کے علاوہ عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے قانون بنانا اور ان پر عمل درآمد کرانا ہے لیکن مذاق یہ ہے کہ گلی کی نالی سے لے کر ریلوے میں کلرک کی بھرتی کا کام بھی منتخب نمائندوں کے ذمہ ڈال دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں ترقیاتی کام مئیر کے کرنے کے ہوتے ہیں لیکن آئین سازی کا اہم جز ہونے کے باوجود بیشتر اسمبلی ممبران آئین کی پیچ و خم سے بالکل نا واقف دکھائی دیتے ہیں اور محض سڑکوں کے گڑھے اور ٹرانسفارمر کا افتتاح کرتے نظر آتے ہیں

اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ قومی اسمبلی الگ اور صوبائی اسمبلی کے ممبرز الگ۔ یعنی اشرافیہ کی وہ اکثریت جن کی عمریں ساٹھ، ستر سال سے زائد ہیں یا جن کی اولادیں فیملی لمیٹڈ کمپنی کی طرح اپنی جماعتوں اور حلقوں کو چلاتی ہیں جنہوں نے کبھی صبح سے شام کی نوکری کبھی نہ کی ہو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اشرافیہ کہ اس بڑی تعداد کو کھپانے کے لیے صوبائی اسمبلیوں کا وجود لایا گیا، اربوں کا پیٹرول، ٹی اے ڈی اے، پروٹوکول، جیٹ، غیر ملکی دورے، لوازمات جن کا خرچہ میرے اور آپ جیسے عام انسان اٹھاتے ہیں اور نتیجہ صفر بٹا صفر

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ انتخابات کا یہ سارا کھیل محض چند خاندان اور ان کے رفقاء کو نوازنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ بیرون ملک اثاثے، کک بیکس، ملکی مفاد کے خفیہ سودے، لاکھوں کی پنشنز اور علاج۔ غرض سب کو سب کا پتہ ہے لیکن عوامی اصول یہ ہے کہ جو کم چور ہو اس کو ووٹ دو۔

گروہوں بندی، گھی کے ڈبے، بریانی یا ہزار روپے کی خاطر ووٹ دینے والی پبلک اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس کا ووٹ اس کے مستقبل کو سنوار دے گا تو یہ محض دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں

مجموعی طور پر ہمارے جیسی تیسری دنیا کی پبلک حقیقی معنوں میں اپنی نمائندگی چاہتی ہیں تو اس سسٹم کو خداحافظ کہنا پڑے گا، یہ سسٹم پڑھے لکھے، باشعور معاشرے کو تو صلہ دے سکتا ہے لیکن ہمارے جیسے کمزور اور جکڑے ہوئے سماج میں اس سسٹم کو بینیفشریز کے جبڑوں سے نکال کر سیدھی راہ پر ڈالنا ہو گا ورنہ میں اور آپ تا قیامت بس گول گول ہی گھومتے رہیں گے

Facebook Comments HS