کیا پاکستانی حکمرانوں کی مذمت کرنے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی
اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوئی شاہ رنگ جو ہاتھ میں مسواک لے کر گاہک کے انتظار میں راہ تھک رہی تھیں۔ شاہ رنگ دبے ہوئے آواز میں کہنے لگی
میں ایک بیوہ عورت ہوں! اٹھارہ سال قبل میرا شوہر جہاد کے لئے افغانستان گیا تھا۔ پھر لوٹ کے نہیں آیا۔ بس اتنا ہوا کہ محلے کے مولوی صاحب چند پڑوسیوں کے ساتھ اکر یہ اطلاع دے گئے کہ تمھارے میاں نے تم لوگوں کے لئے جنت میں مکان تعمیر کر دیا ہے۔
کیسا مکان
کہاں ہے وہ؟
میں نے سوال کیا
وہ کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گیا مگر اس نے مرتے ہوئے کئی کافروں کو بھی جہنم رسید کر دئے اور اس بات کا ہمیں فخر ہے۔
اچھا
میں اتنا کہہ سکی کہ پڑوسی آنے لگے۔
کوئی مبارکباد دیتا تو کوئی تسلی دیتا۔
مولوی صاحب کی بیوی بھی آئی، کہنے لگی تم خوش قسمت ہو کہ تمھارے مرد نے تم لوگوں کے لئے جنت میں ٹھکانہ بنا دیا۔
میں کچھ دیر کے لئے سہم گئی اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی اور پوچھا!
ٹھکانہ
اور دنیا میں میری ذمہ داری
اپنے بچے کی ذمہ داری
اس کا کیا ہو گا
میں کم عمر تھی اور روایات کی پابند تھی۔ میں جس علاقے سے تعلق رکھتی تھی وہاں کی عورتیں اپنی مردوں سے زیادہ اپنی روایات کی پابند ہوتیں ہیں۔
میں بھی ان میں سے ایک تھی۔ تین روز تک سب آتے رہے۔ دور دراز سے بھی لوگ ملنے آتے رہے اور میرے شہید میاں کے بہادری کے قصے سناتے رہے۔ اور پھر سب لوگ چلے گئے۔ بچہ کیسے پالا یہ میں جانتی ہوں۔ نہ ہی مولوی صاحب جانتے تھے اور نہ ہی اس کی بیوی اور نہ ہی وہ لوگ جو دور دراز سے آئے تھے۔
جنہوں نے میرے شوہر کے بہادری اور جوانمردی کے قصے سنائے تھے وہ بھی نہیں جانتے تھے اور نہ جاننے کی کوشش کیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کہاں کہاں میں نے مزدوری اور کیا کیا میں جھیلا کوئی نہیں جانتا اور نہ کسی نے میری مدد کی۔
جوانی کی بیوہ اور ایک بیٹے کی ماں اور چھوٹا بیٹا کیسے زندہ تھے یہ ہم دونوں یا میرا خدا جانتا ہے۔ میرے شہید نے اچھا نے اچھا کام کیا ہو گا جنت میں گیا ہو گا۔ یہ تو اللہ کو معلوم ہو گا کہ ہمارے واسطے جنت میں گھر بنایا ہو گا کہ نہیں۔ مگر اس دنیا میں فی الحال تو ہمیں اکیلا چھوڑ گیا۔ انیس سالہ بیوہ اور ایک سال کا بیٹا۔
میں پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن بچے کو پڑھایا جوان کیا بچے نے بھی محنت مزدوری کی اور خوب پڑھا اور یونیورسٹی میں پہنچ گیا اور اپنی قابلیت کی وجہ سے پروفیسر بن گیا۔ آج پھر چند پڑوسی میرے گھر مبارکباد دینے آئے اور کہنے لگے تمھارا بچہ بہت بہادر تھا اس نے یونیورسٹی کے کئی دوسرے بچوں کی اکیلے جان بچائی۔ غمگین مت ہو۔ رونا بھی نہیں تم ایک شہید کی ماں ہو۔
میرے بیٹے نے دس گولیاں اپنے سینے پر کھائیں
میں پہلے شہید کی بیوہ اور اب شہید کی ماں تھیں یہ سب اللہ کو منظور تھا
لیکن وہ لوگ کون تھے جنہوں نے میرے بچے کو ایسا مارا
مجھے آج معلوم ہوا کہ وہ بھی مسلمان تھے
کسی دینی مدرسے میں پھرتے تھے
سنا ان کا بھی کوئی مقصد تھا
آج پھر بے سہارا ہو گئی
اور اب میں سوچ رہی ہوں کہ واقعی میرے شوہر نے میرے لئے جنت میں گھر بنایا ہو گا یا ان لوگوں نے جنہوں نے میرے بیٹے کو قتل کیا۔ ان لوگوں کے بیواؤں اور ماؤں کو بھی کہا ہو گا کہ تمھارا شہید جنت گیا ہو گا اور اس نے تم لوگوں کے لئے جنت میں گھر بنایا ہو گا۔ میں لوگوں سے اور حکمرانوں سے پوچھتی ہو ہمارے شوہروں اور بچوں کے جانے کے بعد اس دنیا میں ہمارے لئے گھر کون بنائے گا۔
شاہ رنگ کی ان باتوں نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کیا۔ سوچنے لگا پاکستان میں رواں ماہ جنوری میں سیکورٹی فورسز اور عام لوگوں پر کتنے دہشت گردی کے کتنے حملے ہوئے جس میں کئی لوگ جان بحق ہوئے جس پر حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذمتی بیانات جاری کیے کیا مذمتی بیانات سے یا دہشت گردی کے خلاف بیس نکاتی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے؟


