سیاستدانوں کی غیر سنجیدگی اور ٹکٹ تقسیم کا مرحلہ
آج کل پارٹی ٹکٹس کے حوالے سے بڑی باتیں ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹکٹ تقسیم اپنی جگہ پر، نون لیگ نے بھی اس میں بظاہر بہت بے وقوفی کا مظاہرہ کیا۔ لوگ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ وہ امیدوار جو نون لیگ کو سر عام چور اور ملک دشمن کہتے تھے۔ میاں صاحب مشکل میں ساتھ کھڑے رہنے والے وفاداروں کو چھوڑ کر ان بے وفاؤں اور موقع پرستوں کو ٹکٹس دے رہے ہیں۔ اب یہ معاملہ ایسا ہے کہ اگر یہ سیاسی جماعتیں اتنی اصول پرست ہوتیں تو ان پر جب مشکل وقت آتا ہے تو کیا یہ لوگ انہیں چھوڑ کے بھاگتے؟
ان پر مشکل وقت اسی لیے آیا ہوا ہے کہ کارکنان انہیں برے وقت میں تو یاد آتے ہیں، لیکن اچھے وقتوں میں کارکنان کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے۔ میرے خیال میں سیاسی پارٹیز اس بات پر ضرور غور کرتی ہوں گی کہ کون سا امیدوار ووٹروں کو گھروں سے نکال سکتا ہے۔ انہیں ووٹ دینے کے لیے راضی کر سکتا ہے۔ یہ ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ کیونکہ آپ کی پارٹی جتنی مرضی اچھی ہو اگر آپ ووٹ لینے کا ہنر نہیں جانتے تو پھر کس کام کی؟
لیکن یہی کام مخلص امیدوار بھی کر رہا ہو اور موقع پرست بھی، تو ظاہر ہے مخلص کو ہی ٹکٹ ملنا چاہیے۔ اس الیکشن مرحلہ میں ایک تکنیک مدنظر رکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، میں ایک پارٹی بناتا ہوں اور اپنے ایک بہت قریبی عزیز کو میری پارٹی جوائن کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ وہ جوائن کر لیتا ہے۔ پارٹی کے لیے محنت کرتا ہے۔ ساتھ ساتھ مشکلات سہتا ہے۔ سفر کرتا ہے۔ اب الیکشن آ جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یار ووٹ کامیاب تب ہوں گے جب اکثریت حاصل ہوگی۔
اب میں نے اگر اپنے اس دوست کو ٹکٹ دیا تو اکثریت تو آنی کوئی نہیں، بلکہ الٹا خسارہ گلے پڑنا ہے، تو کیوں نا اس بندے کو ٹکٹ دیا جائے جو سیٹ جیت سکتا ہے۔ چنانچہ میں دوستی یاری کو اپنی جگہ فٹ کرتے ہوئے سیاسی ضرورت کے تحت اگر کسی ایسے بندے کو ٹکٹ دے دوں جو ووٹ نکلوا سکتا ہے، اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے تو ظاہر ہے میں ٹکٹ دینے کی ترجیح اسے ہی دوں گا۔ ایسے میں امیدواروں کو پارٹی قیادت سے ناراضگی کے بچائے اپنی قابلیت اور صلاحیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
پھر اس میں ایک اور چیز بھی ہے۔ ہمارے لوگوں میں لچک نہیں ہے۔ لحاظ نہیں ہے۔ ہر صورتحال کے لیے تیار رہنے والا مزاج نہیں ہے۔ عمران خان کو دیکھیے۔ جب یہ موصوف سیاست میں تو بے نظیر چور کا نعرہ لگایا۔ یہ سب سے پہلا بے نظیر کے پیچھے پڑے۔ پھر خان صاحب نے دیگر سیاست دانوں کا پیچھا کیا۔ دور اقتدار میں خصوصی طور پر اور آج کل بھی کسی حد تک چوہدریوں کے ساتھ خان صاحب کے اچھے مراسم ہیں۔ وہی چوہدریوں کا خاندان جس کے ایک سپوت پرویز الٰہی کو موصوف نے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا۔
اسی طرح شہباز شریف نے کہا تھا میں زرداری کو کراچی لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ یہ سب ہمارے سامنے ہے۔ بات یہ ہے کہ جب ملک میں رہنا ہے، ایک ملک کے عوام کی قیادت کرنی ہے تو بہتر نہیں بعد میں تھوک کر چاٹنے کے بجائے اپنے اندر لچک رکھی جائے؟ ہو سکتا ہے آج جسے آپ بدترین دشمن یا گالم گلوچ سے نواز رہے ہیں کل کو اس سے کام بھی پڑھ سکتا ہے! اس لیے ہمارے سیاستدان اپنے اندر لچک پیدا کریں اور سوچ سمجھ کر بولیں۔


