نوشتہ دیوار – راہ درست نہ ہو تو پرامید کیسے رہیں؟
دنیا ہماری مختصر زندگیوں کے دوران ہی ایک بالکل مختلف جگہ بن چکی ہے اور ہر روز بدل بھی رہی ہے۔ حالانکہ یہی باتیں ہم کئی سالوں سے کرتے آئے ہیں کہ آبادی کو قابو میں کیا جائے، انسانوں کو برابر حقوق دیے جائیں، خواتین کو تعلیم یافتہ اور معاشرے کا فعال رکن بنایا جائے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام ہو، کٹر مذہبیت سے فاصلہ کر کے سیکولر حکومت قائم کی جائے اور دنیا کے دیگر ممالک خاص طور سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جائیں لیکن پچھلے تین سالوں میں ایک عالمی وبا اور پھر فلسطین میں دنیا کی نظروں کے سامنے کھلم کھلا نسل کشی دیکھ کر ان الفاظ کی حقیقت ہمارے سامنے مزید واضح ہوئی ہے کہ کس طرح وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔ کس طرح اس دنیا میں پچھلے کئی ہزار سالوں سے جنگ کی مشین ہر وقت قتل و غارت کے لیے تیار ہے۔ اس کا کام ہی یہی ہے کہ کمزور کا قتل و غارت کرے اور پھر اسی کو اپنی بربادی کا الزام بھی دے۔ اسی طرح یہ مشین دولت جمع کرتی ہے۔ دھرم، چہرے، اور نام بدل جاتے ہیں لیکن یہ مشین چلتی رہتی ہے اور اس کے چڑھتے سورج کی ہی سب پوجا کرتے ہیں۔
تادم تحریر دو ہزار چوبیس کی جنوری کا پندرہواں دن ہے اور نارمن میں شدید سردی پڑ رہی ہے۔ کل میں نے باہر پرندوں کے لیے پانی رکھا تو وہ ایک گھنٹے کے اندر ہی جم کر برف بن گیا۔ سب مریضوں نے اپنی اپوائنٹمنٹ کینسل نہیں کی تھی لیکن دن مختصر تھا اور جلد ہی کام بھی ختم ہو گیا اور اسی لیے مجھے یہ بلاگ لکھنے کے لیے وقت ملا۔
آج صبح میری ایک مریضہ تھائرائڈ کی بیماری کے فالو اپ کے لیے آئی تھیں۔ انہوں نے میری کڑھی ہوئی گلابی قمیض دیکھ کر اس کی تعریف کی۔ میں نے فخریہ انہیں بتایا کہ یہ قمیض میں نے دو دن پہلے ہی خود سی ہے۔ یہ کپڑے کشمیر سے لائے گئے ہیں جہاں خواتین کے سینٹر پر آنے والی مقامی خواتین نے یہ کڑھائی اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔ مجھے یہ تحفہ نائلہ خان کی امی نے دیا تھا، جن کی امی اکبر جہاں نے یہ تاریخی ادارہ شروع کیا تھا۔ حالانکہ وہ میرے پاس کوئی ایک سال سے رکھے ہوئے تھے لیکن پہلے وقت نہ ہونے کی وجہ سے اس ویک اینڈ پر ہی اس کو بالآخر تیار کرنا ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وہ بھی سلائی کڑھائی جانتی ہیں جو ان کی نانی نے بچپن میں ان کو سکھائی تھی۔ لیکن ایک مصروف کلینک کی مینیجر ہونے کی وجہ سے ان کو اس مشغلے پر وقت صرف کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اب چونکہ وہ ریٹائر ہو چکی ہیں، تو ہی اپنے کام سے باہر کچھ بات سوچنے کا وقت ملا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو اپنے خاندان پر توجہ دینے کا موقع ملا اور انہوں نے اپنی عمر رسیدہ ساس کے معاملات کو سنبھالا، ان کے پیسوں، جائیداد اور حساب کتاب پر توجہ دی اور اس کا ریکارڈ جمع کیا۔ یہ خاتون کوئی پینتیس یا چالیس سال سے ایک آفس مینیجر تھیں جہاں ان کو ہر روز پیچیدہ حساب کتاب سنبھالنا ہوتا تھا۔ اب کچھ فارغ وقت ہونے کی وجہ سے وہ اس طرح اپنے خاندان کے الجھے ہوئے مسائل سمیٹنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ اس جدید دنیا کے پیچیدہ نظام کو سمجھے بغیر ہم اس میں فعال کردار ادا نہیں کر سکتے۔
اس خراب موسم والے آہستہ دن میں جب مریضوں کی قطار انتظار میں نہیں تھی، ان خاتون کے ساتھ میری ایک بہت دلچسپ گفتگو ہوئی کہ اس بات سے کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کس کے پاس کس طرح کی نوکری ہے یا کس کے پاس کتنے پیسے ہیں۔ کسی کے پاس بھی آج کی دنیا میں احساس تحفظ نہیں رہا ہے۔ کس طرح پرانے زمانے کے لوگ اپنے دوست، رشتہ داروں اور محلے کے افراد کے ساتھ مل کر کڑھائی، سلائی، مکانوں یا کشتیوں کی تعمیر کرتے، کھیتوں میں کام کرتے یا پاپڑ بیلتے تھے۔ وہ کام کرتے ہوئے ساتھ میں گانے گاتے اور اپنا وقت خوشی کاٹتے تھے۔ کسی کام کو کرنے کی کچھ جلدی نہیں ہوتی تھی۔ لڑائی جھگڑے، جنگ، قتل و غارت اگر ہوتا بھی تھا تو مختصر پیمانوں پر۔ آج کے سرمایہ دار نظام نے سماج کے ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس نظام کے اندر ایک انسان دوسرے انسان پر انحصار نہیں کر سکتا۔ اور دنیا میں جہاں بھی اس طرح آہستگی سے زندگی چل رہی ہو وہاں طاقت ور عناصر ان انسانوں کے نیچے سے کہیں زمین کھینچ لیتے ہیں اور کہیں ان کو بیل گاڑی میں جوت کر جانوروں کی طرح ان کا استعمال کرتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایک آبائی گھر کا کچھ تصور باقی نہیں رہا ہے۔ اگر امریکہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے مکان کا ٹیکس نہ دیں تو حکومت ہمارے گھروں کو نیلام کر دیتی ہے۔
آج ایک 75 سالہ مریض آئے جو قریب دس سال سے میرے مریض ہیں۔ آج میں نے ان سے ایک سوال یہ پوچھا کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد بھی کیا انہوں نے اپنا قانون دان کا لائسنس برقرار رکھا ہوا ہے۔ میں یہ سوال اس لیے پوچھنا چاہتی تھی تاکہ خود بھی اپنے ذہن میں ایک مستقبل کا منصوبہ رکھ سکوں کہ کیا آج سے پندرہ بیس سال بعد ریٹائر ہو جانے کے بعد مجھے اپنا میڈیکل کا لائسنس رکھنا چاہیے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بار ایسوسی ایشن کی باقاعدہ سے فیس ادا کر کے اس کو فعال رکھتا ہوں کیونکہ وقت کیا کیا پتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ مجھے ضرورت پڑ جائے۔
آج سے پہلے میں ذاکر نائک کی طرح کے افراد کو دیکھ کر صرف ان کو ہمارے جنوب ایشیائی معاشرے کے لیے بے کار پرزوں کی طرح دیکھتی تھی جو ہمارے معاشرتی اور ذہنی جمود کا باعث ہیں۔ حالانکہ یہ الفاظ میں نے اس سے پہلے بھی کئی بار لکھے ہیں کہ جو اقوام وقت کے ساتھ نہیں چلتیں اور دنیا کے کاموں میں یا اس کے میلوں میں حصہ نہیں لیتیں، وہ مٹ جاتی ہیں لیکن آج 2024 کی شروعات میں حالیہ تاریخ کی روشنی میں ان قدامت پسند عوامل کا ممالک اور آبادیوں کی بربادیوں میں ہاتھ صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ہم دیوار پر لکھا دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہندوستان اسرائیل کی مثال پر چل رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے رہنماؤں کی غلط سمت میں رہنمائی سے ہم پچھلی کئی صدیوں سے جس راستے پر چلتے رہے ہیں، وہاں اس پھسلن سے بچنے کی اب امید جواب دے رہی ہے۔


