فلسطین: ماضی و حال
فلسطین مشرق وسطیٰ میں واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کے ہمسایہ ممالک شام، مصر اور اسرائیل ہیں۔ بیشتر انبیا کی سرزمین ہونے کی وجہ سے مسلمان، عیسائی اور یہودی اس سرزمین سے خصوصی انسیت رکھتے ہیں۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور نبی رحمت ﷺ کا سفر معراج بھی اسی مقام سے شروع ہوا تھا۔ اس نسبت سے مسلمانوں کی فلسطین سے عقیدت اور محبت اور بھی زیادہ ہے۔
حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں 18 ہجری ( 638 عیسوی) میں مسلمان فوج نے بیت المقدس کو پہلی بار فتح کیا۔ 1099 عیسوی میں عیسائی افواج نے دوبارہ بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد تیسری صلیبی جنگ کے دوران 1187 عیسوی میں صلاح الدین ایوبی کی زیر قیادت مسلمان فوج نے بیت المقدس کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا۔ 1517 سے 1917 عیسوی تک یہ سرزمین عثمانی سلطنت کا حصہ رہی۔
پس منظر
اس تنازعے کا آغاز انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں صیہونیت (Zionism) اور عربوں کی قومی تحریکوں کے ساتھ ہوا۔ صیہونیت ایک سیاسی تحریک تھی، جو سلطنت عثمانیہ کے زیرانتظام فلسطین میں یہودیوں کے لیے الگ وطن کے لیے کوشاں تھی۔ برطانوی حکومت نے 1917 عیسوی میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے الگ وطن کے خیال کی تائید کی۔
پہلی جنگ عظیم اور سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد ، ایک قرارداد کے نتیجے میں لیگ آف نیشنز نے فلسطین کا انتظامی کنٹرول برطانوی حکومت کو سونپ دیا۔ اس قرارداد میں فلسطین میں یہودی آبادکاری کی شرط بھی موجود تھی اور دوسری طرف فلسطین میں موجود تمام غیر یہودی افراد کے بنیادی حقوق کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔
انگریزوں کی طرف سے کیے گئے متضاد وعدوں کی وجہ سے عربوں اور یہودیوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت کا آغاز ہو گیا۔ ایک طرف یہودی اس سرزمین کو اپنے لیے پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے تھے تو دوسری طرف یہودی آبادکاری کے بعد عربوں کو اپنی شناخت اور زمین چھن جانے کا خدشہ تھا۔
اقوام متحدہ کا کردار
1947 عیسوی میں اقوام متحدہ نے تقسیم کا منصوبہ پیش کیا جس کے تحت فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جن میں سے ایک یہودی اور ایک عرب ریاست، اور یروشلم ایک بین الاقوامی شہر ہو گا۔ یہودیوں نے اس منصوبے کو قبول کیا، لیکن عربوں نے اسے مسترد کر دیا، کیوں کہ ان کے مطابق اس سے ان کے حق خودارادیت کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس سے یہودیوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ زمین اور وسائل ملے ہیں۔ اس منصوبے پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا اور یہودیوں اور عربوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
1948 میں برطانیہ فلسطین سے نکل گیا اور یہودی رہنماؤں نے اسرائیل کی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ہمسایہ عرب ممالک نے اسرائیل پر حملہ کیا اور پہلی عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ 1949 میں جنگ بندی کے ساتھ ختم ہوئی۔ لیکن اس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے، یا ہمسایہ ممالک، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں پناہ گزین بن گئے۔
گزشتہ برسوں کے دوران اقوام متحدہ میں بے شمار قراردادیں پاس ہوئیں اور امن مذاکرات بھی کیے گئے۔ جن میں سے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، اوسلو معاہدہ، Arab Peace Initiative اور Road Map for Peace قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان مذاکرات یا معاہدوں کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
او آئی سی کا کردار
او آئی سی اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اپنے ہر اجلاس اور اعلامیے میں او آئی سی نے ہمیشہ فلسطین کا ساتھ دینے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن اکثر مسلمان ممالک کے باہمی اختلافات اور غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے کبھی موثر آواز نہیں اٹھائی جا سکی اور نہ ہی دنیا کے دیگر طاقت ور ممالک پر اس مسئلے کے حل کے لیے زور دیا جا سکا ہے۔ اس وجہ سے مسئلہ فلسطین صرف ایجنڈے اور مذمتی قراردادوں تک ہی محدود رہا ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت نے بھی فلسطین کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔
مسلم ممالک کا کردار
آج کا مسلمان عمل سے کوسوں دور ہے اور اس کے پاس ماضی کی جاہ و حشمت کے قصوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور یہ عوام و خواص سب کا عمومی مزاج بن چکا ہے۔ مغرب اس تن آسانی اور کاہلی کی عادت کو بہت پہلے بھانپ چکا تھا اور اس نے بتدریج اسلامی ممالک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دی تھیں جس کے نتیجے میں تقریباً تمام اسلامی ممالک مغرب کے دست نگر ہو چکے ہیں اور ان کی آزادی و خود مختاری اب مغرب کے پاس رہن رکھی ہوئی ہے۔ مسلم امہ کے ایک جسم ہونے کا نظریہ بھلا دیا گیا ہے اور اب کہیں پر کسی ظلم یا سانحے پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
آنے والے وقتوں کا مورخ لکھے گا کہ جب غزہ کی تمام زمین معصوم بچوں کے کٹے پھٹے جسموں سے اٹی پڑی تھی تو اس مسلم دنیا کی پانچ طاقت ور ترین شخصیات میں سے ایک اپنے ملک میں رقص و سرود کی محفل سے محظوظ ہو رہا تھا۔ اور اسلام کے نام پر بننے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہولی، دیوالی، ہالووین اور کرسمس جیسے تہوار تو سرکاری سرپرستی میں منائے جاتے تھے۔ ملکی تقریبات اور اداروں کے اندر سرکاری طور پر مجروں کا اہتمام ہوتا تھا۔
لیکن فلسطین کے عوام سے اظہار یک جہتی کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھیاں برسائی جاتی تھیں۔ اور انہیں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جاتا تھا۔ واحد اسلامی ایٹمی ملک میں ایک مذمتی بیان جاری کرنے کی بھی طاقت باقی نہیں بچی تھی اور سینیٹ میں ایک مذمتی قرارداد پیش کر کے امت مسلمہ کے فریضے کو اپنے تئیں پورا کر دیا گیا تھا۔
فلسطینیوں کے لیے تمام امت مسلمہ اہل کوفہ بن چکے تھے، جو دور دور سے اپنی محبت کا اظہار تو کرتے تھے لیکن وقت کے یزید کے سامنے گردن تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔
حماس
حماس ایک فلسطینی اسلامی تحریک ہے جو غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرتی ہے، جو تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل ساحلی علاقہ ہے۔ اس کی بنیاد 1987 میں اخوان المسلمون کی ذیلی تنظیم کے طور پر رکھی گئی تھی۔ حماس غزہ میں ایک سیاسی جماعت اور سماجی خدمات فراہم کرنے والی تنظیم کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد فلسطین کو اسرائیلی تسلط سے آزاد کرانا اور ایک اسلامی ریاست کا قیام ہے۔
7 اکتوبر 2023 کی صبح حماس نے اسرائیل پر 5000 راکٹ برسا کر اچانک حملہ (جسے طوفان الاقصیٰ کہا جاتا ہے ) کر دیا جس میں 1400 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 150 یرغمال بنا لیے گئے۔ جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے گزشتہ چار ہفتوں سے غزہ کو تختہ مشق بنا رکھا ہے اور ظلم کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جن کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ مختلف حلقوں کی طرف سے حماس کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیوں کہ اس کے بعد حماس اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ موثر دفاعی حکمت عملی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مختلف سوال بھی اٹھ رہے ہیں اور اس راکٹ حملے کو اسرائیل کی چال بھی تصور کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ کھل کر جارحیت پر اتر آیا ہے اور غزہ کو کھنڈر بنا چکا ہے۔
مسئلہ فلسطین اور عالمی امن
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ اب شدت اختیار کر چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر جلد اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نہ نکالا جا سکا تو اس تنازعے کا پھیلاؤ کئی دوسرے ممالک تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اور پھر شاید اس آگ سے ترقی یافتہ ممالک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ اس لیے طاقت ور ممالک کو فوراً آگے بڑھ کر اس تنازعے کے حل میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عالمی امن محفوظ رہے۔ کیوں کہ سب کی بقا اسی میں ہے۔
مغرب، امریکہ اور ان کے ذرائع ابلاغ کا منافقانہ رویہ
مغرب اور امریکہ اپنے تئیں خود کو جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق کا علمبردار گردانتے ہیں۔ لیکن فلسطین میں موجودہ دہشت گردی اور قتل عام پر سب کی زبانیں خاموش ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں میں تقریباً دس ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے جن میں سے اکثریت معصوم بچوں کی ہے۔ ہسپتالوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کا رابطہ ساری دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ دن رات بارود کی بارش کی جا رہی ہے لیکن سارے ذرائع ابلاغ اس کو اپنا دفاع ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ جو دہشت گردی کے نام پر عراق اور افغانستان کو کھنڈر بنانے کے بعد اب ایران پر نظریں جمائے بیٹھا ہے وہ اپنے اس ناجائز بچے (اسرائیل) کی کھل کر پشت پناہی کر رہا ہے۔ اور نام نہاد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ اس واقعے نے ان کی چہرے پر پڑی ہوئی منافقت کی نقاب کو نوچ پھینکا ہے اور ان کے غلیظ جسم پر لپٹے آخری چیتھڑے بھی اتار ڈالے ہیں اور یہ اب اپنی تمام تر فطری خباثت کے ساتھ سب کے سامنے عریاں ہو چکے ہیں۔
حرف آخر
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معلم، مبلغ اور مورخ نے ہمارے سامنے صرف یہی راگ الاپا ہے کہ، اسلام امن کا درس دیتا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ امن قائم کرنے کے لیے طاقت بھی ضروری ہے اور اس کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔ اس نے یہ تو بتایا کہ ہر جنگ میں مسلمان قلیل تعداد میں تھے، لیکن یہ بتانا بھول گیا کہ انہوں نے جنگ کی تیاری پوری کی تھی اور اپنی موثر حکمت عملی کی بدولت وہ اکثریت پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اس نے ہمیں صرف تسبیح اور مصلے والے اسلام تک محدود کر دیا۔ تلواروں کی جھنکار، جرات و بہادری، اللہ کی راہ میں تکلیف اٹھانے والا دین اس کے لیے مشکل تھا اس لیے وہ اس نے ہمارے لیے بھی شجر ممنوعہ بنا ڈالا۔ ہمارے آج کے حالات اسی کا شاخسانہ ہیں۔ فلسطین کی موجودہ صورتحال پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہماری مائیں، بہنیں، بچے بے دردی سے ذبح کیے جا رہے ہیں اور ہم صرف احتجاج اور دعا سے جنگ جیتنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
پیارے فلسطینیو! ہم تمہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔ اپنے فلسطینی بچوں کا نوحہ افکار علوی کی زبانی پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں :
مرشد میں جل رہا ہوں ہوائیں نہ دیجیے
مرشد ازالہ کیجیے، دعائیں نہ دیجیے
مرشد وہاں یزیدیت آگے نکل گئی
اور پارسا نماز کے پیچھے پڑے رہے
پردردگار ظلم پہ پرچم نگوں کیا
ہر سانحے پہ صرف ترانے لکھے گئے
مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا
مرشد کوں آکھیں، آ کے ساڈا حال ڈیکھ ونج (مرشد سے کہنا، آکے ہماری حالت زار دیکھے )



The depth of your exploration on is truly commendable. Thank you for your hard work.