حافظ، حاجی اور حلوائی
ایک اندھا، ایک بہرا اور ایک گونگا دوست بن گئے۔ اندھا بس کہنے کی حد تک اندھیرے میں تھا کہ وہ باقی ہر کام میں پورا تھا۔ سارے لوگ اسے حافظ کہتے تھے۔ دعا اور کلام تو پتہ نہیں اسے یاد تھیں یا نہیں مگر اسے محلے میں رہنے والے ہر مرد اور عورت کی ذاتی تفصیلات زبانی یاد تھیں۔ گونگا بہت بڑا حکیم تھا؛ اس کے کشتے چار دانگ عالم میں مشہور تھے اور وہ ختنے بھی کر لیتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ گونگا ہرگز نہیں ہے، بس اسے بولنا نہیں آتا یا پھر وہ بولنے سے ڈرتا ہے۔
سارے اسے حاجی صاحب کہتے تھے اور اسے اس پر قطعاً اعتراض نہیں تھا۔ اور تیسرا جو بہرا تھا، وہ حلوہ پکانے اور پھر اس کو کھانے کا ماہر تھا۔ بہر طور اس کے بہرے پن کا احوال کچھ یوں ہے کہ اسے وہ سب کچھ سنائی دے جاتا تھا جو اس کے مطلب کا ہوتا تھا، چاہے کوئی ہولے ہولے بولتا ہو اور جو اس کو نہیں سننا ہوتا تھا وہ کوئی اسے نہیں سنا سکتا تھا چاہے کوئی لاؤڈ سپیکر اس کے کان کے ساتھ لگا کر چیخے۔ اس کو کسی بھلے انسان نے سمجھایا تھا کہ جب کسی بولتے شخص کی بات سمجھ نہ آئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا کرے، ’یہ میرا ہے، یہ میرا ہے۔ ‘ اس کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی اور اس کا اس کو زندگی میں بہت فائدہ ہوا تھا۔ سارے جانتے تھے کہ حلوہ کھانا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تھا، اس لیے سب اسے چاچا حلوائی کہتے تھے۔
یہ تینوں دوست ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور ایک دوسرے پر صدقے قربان جاتے تھے اور واری واری جاتے تھے۔ سارا محلہ ان کو عزت دار سمجھتا تھا اور ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں آنے دیتا تھا۔ محلے میں کچھ بھی ان کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ کسی نووارد نیانے کے کان میں اذان دینی ہوتی یا کسی کی ماں مر جاتی، حافظ صاحب کے ہزار روپے پکے تھے۔ کبھی کسی کو ختنے یا ختم کا خیال آ جاتا تو وہ حاجی صاحب کے ہاتھ میں دیگ کے چاول اور پانچ سو روپے دے جاتا۔
کبھی کوئی نذر نیاز کے لئے بہرے حلوائی کو لے جاتا تو اس کے بھی وارے نیارے ہو جاتے اور وہ ایسے خوب چمچے کڑچھے بجا بجا کر دیگیں پکاتا کہ اگلے محلے والوں کو بھی خبر ہو جاتی کہ آج حلوے کی خیر نہیں۔ تینوں دوستوں کو معلوم تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر ایک ٹکے کے بھی نہیں لیکن وہ یہ بات ایک دوسرے سے کہتے نہیں تھے، بس ایک دوسرے کے کاروباری مفادات کا خیال رکھتے تھے۔ ہمسائے میں کسی کا آٹھواں بیٹا پیدا ہوتا تو حافظ اس کے کان میں اذان دینے کے بعد اس کے والد کو یاد کراتا کہ اس کے ختنے حاجی صاحب نے کیے تھے اور حاجی ختنے پرفارم کرنے کے بعد لواحقین کو باور کراتا کہ حلوائی کے پکائے عقیقے کے گوشت کی خوشبو سونگھنے فرشتے بھی آتے ہیں۔
تینوں کا تعاون مثالی تھا۔ اندھا حافظ چولا تہبند باندھتا تھا اور جب اس کے کپڑے کبھی ادھر ادھر ہو جاتے تو گونگا حاجی بھاگ کر اس کے کپڑے سیدھے کر دیتا۔ بہرے حلوائی کی ذمہ داری یہ تھی کہ ان کو کہیں جانا ہوتا تو سڑکیں پار وہ کرواتا اور رات کو سونے سے پہلے گھر کی کنڈیاں دروازے بند کرنا بھی اس کی ڈیوٹی تھی۔ لوگوں سے لین دین اندھا طے کرتا تھا اور تینوں کی آمدنی بھی وہ اپنے پاس ایک بکسے میں رکھتا تھا۔ بکسے کی کنجی بہرے کے پاس تھی اور نوٹوں کی گنتی گونگے کی ذمہ داری تھی اور سب میں حسب ضرورت بانٹتا۔
سب کچھ اچھا چل رہا تھا۔ سارے حلوے کھا رہے تھے اور موجیں مار رہے تھے۔ کوئی دن نہیں گزرتا تھا جس دن حافظ آٹھ دس نوزائیدگان کے کان میں اذان نہیں دیتا تھا اور بہرا ان بچگان کے ختنے نہیں کرتا تھا جن کی چیخیں وہ خود نہیں سن سکتا تھا۔ اللہ کے فضل سے ان کا کام اتنا چل پڑا تھا کہ ایک دن میں چار پانچ جنازے اور چھ سات نکاح بہ آسانی مل جاتے تھے۔ لوگ اندھے نکاح خواں کو اس لیے بھی بخوشی لے کر جاتے تھے کہ ایک تو وہ حافظ تھا دوسرا کسی کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔
لوگوں نے جس کا جس مرضی سے نکاح پڑھوانا ہوتا تھا، اس کے سامنے بٹھا دیتے تھے اور حافظ صاحب کی مٹھی میں ہزار روپے دے کر ہنی مون پر چلے جاتے تھے۔ لیکن حافظ کو سب پتہ تھا۔ وہ دلہن کی سانسیں سن کر بتا سکتا تھا کہ وہ گھر سے بھاگی ہوئی ہے یا بن بیاہی ہے۔ بندے جب اس کے سامنے ’قبول ہے‘ کرتے تھے تو اس کو فوراً سے پہلے ادراک ہو جاتا تھا کہ اس کا نکاح پہلے اس نے کب پڑھایا تھا۔ اگر پہلا نکاح کسی اور نے پڑھایا ہوتا تو پھر بھی حافظ صاحب کے اندر ایک سسٹم تھا جو اسے بتا دیتا تھا کہ بندہ دو نمبر ہے۔
سارے محلے کا ’فارم ب‘ حافظ جی کے نشان انگشت میں لوح محفوظ کی طرح کوڈڈ تھا۔ لوگ اسے ولی کا درجہ دیتے تھے کیونکہ اسے ان سب کرتوتوں کا بھی علم ہوتا تھا جو وہ کرنے والے ہوتے تھے۔ حافظ کو بس ایک چیز کا پتہ نہیں چلتا تھا کہ جب وہ اکٹھے بیٹھے کھانا کھا رہے ہوتے تھے تو بہرا اندھے کی پلیٹ سے بوٹیاں اٹھا لیتا تھا۔ اس حرکت پر گونگا شور مچاتا تھا مگر اندھے کو سمجھ کچھ نہیں آتا تھا اور وہ یہی سوچ کر کھاتا رہتا تھا کہ آج شاید صرف شوربا پکا ہے۔
بندے کے پاس پیسہ آ جائے تو وہ سب سے پہلے شادی کرتا ہے۔ جب سے ان کے دن پھرے تھے، ان تینوں کو کھجلی ہو رہی تھی مگر بتا نہیں رہے تھے۔ بتاتے بھی تو کیسے؟ ایک دن تینوں بزنس پارٹنر چولہے کے گرد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے کہ گونگے نے زور سے ایک دھاڑ ماری۔ اندھے نے ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھا کر ادھر ادھر مار کر چیخنا شروع کر دیا، ’کون ہے؟ کیا ہے؟ کس نے میری بوٹی اٹھائی ہے؟‘ وہ جلتی ہوئی لکڑی بہرے کو لگی جو اس وقت ایک بہت بڑا نوالہ منہ میں ڈال کر بیٹھا تھا۔
اس نے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالیں تو اندھا سمجھا کہ یہ آوازیں گونگا نکال رہا ہے۔ اندھے نے پھر پوچھا، ’گونگے، تمہیں کیا ہوا ہے؟‘ اتنے میں بہرے نے نوالہ نگل لیا تھا، وہ بولا، ’یہ میں ہوں، یہ میں ہوں۔ ‘ اندھا کہنے لگا، ’اچھا تمہیں کچھ ہوا ہے؟‘ گونگا اس گفتگو کو سن کر پھر زور سے بڑبڑایا جیسے کہتا ہو کہ آتش پر سوز کو کہاں ڈھونڈتے ہو، وہ تو ہمارے جگر میں ہے۔ بہرے کو جلتی لکڑی ہاتھ پر لگی تھی، وہ ابھی بھی چیخ رہا تھا، ’یہ میں ہوں، یہ میں ہوں‘ ۔ اندھا سوچنے لگ گیا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ دونوں اودھم مچا رہے ہیں۔ پھر اسے یاد آیا کہ پچھلے ایک ہفتے سے ’ہاجرہ‘ گونگے سے ملنے آ رہی تھی۔ پھر اسے سمجھ آیا کہ گونگا کیوں دھاڑا تھا اور اس کی دھاڑ میں وہ سوز و ساز عشق کیوں تھا جس کو سن کر اندھے کے چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔
حافظ صاحب ناشتہ کر کے تیار ہوئے بلکہ آج کچھ زیادہ ہی تیار ہوئے۔ بہرے سے کہا کہ ان کی بے نور آنکھوں میں سرمہ لگائے۔ گونگے نے ان کا تہبند کسا۔ دونوں نے مل کر انہیں کرتا پہنایا مگر انہیں سمجھ نہ آیا کہ اندھا آج کیا کرنے والا ہے۔ وہ لاٹھی ٹیکتا گھر سے باہر نکل گیا، گونگا سارا دن غوں غاں کرتا رہا اور بہرا سارا وقت یہی کہتا رہا، یہ میں ہوں، یہ میں ہوں۔ ’
محلے میں کسی کے گھر سے ڈھول کی آواز آئی۔ گونگے نے اوں آں کر کے بہرے سے پوچھا کہ ڈھول کہاں بج رہا ہے؟ اس نے کچھ سمجھا اور کچھ نہ سمجھا اور کہا، ’یہ میں ہوں، یہ میں ہوں۔ ‘ شام ہو گئی اور آج ہاجرہ بھی نہ آئی۔ گونگے نے شرما کر ناک کے کوکے کا اشارہ کر کے بہرے سے پوچھا کہ آج وہ نہیں آئی۔ بہرہ بھی اس کا اشارہ سمجھ کر شرما گیا اور حیا کی سرخی سے اس کے بے بحرہ کان سرخ ہو گئے۔ اسی وقت دروازہ دھڑ سے کھلا اور محلے کے بچے زردے کے چاول ان کے ہاتھ میں دے کر کلکاریاں مارتے ہوئے واپس چلے گئے۔
گونگا ’باں باں‘ کر کے پوچھتا رہا کہ کس کی شادی کے چاول ہیں؟ بہرا اسے ہنس کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا رہا، ’یہ میری ہے، یہ میری ہے۔ ‘ چاول بڑے مزے کے تھے۔ پتہ نہیں کس ظالم نے پکائے تھے۔ دانے دانے پر لکھا ہوتا ہے کھانے والے کا نام۔ دروازہ ایک دفعہ پھر بجا۔ دونوں نے زردے کی پلیٹ صاف کر کے مڑ کر دیکھا تو حافظ صاحب ہاجرہ کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے تھے۔ حافظ نے پھولوں کی مالا پہن رکھی تھی اور ہاجرہ نے گھونگھٹ نکال رکھا تھا۔ گونگے کی ایک دفعہ پھر وہی صبح والی دھاڑ نکل گئی اور بہرا اونچا اونچا کہہ رہا تھا، یہ میری ہے، یہ میری ہے۔ ’
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بھی اگر اندھے کی پلیٹ سے بہرہ بوٹیاں اٹھائے گا تو گونگا اسے کیسے بتائے گا؟

