یٹزک ربین کا خطبۂ امن


نوٹ: یٹزک ربین وہ اسرائیلی رہنما تھے جنہیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات سے ہاتھ ملانے کی وجہ سے ایک طرف امن کا نوبل انعام ملا اور دوسری طرف ایک بنیاد پرست اور متشدد یہودی نے انہیں قتل کر دیا۔

اس طرح مشرق وسطیٰ کے امن کے خواب کا اسقاط ہو گیا۔
یتزک ربین کے 1994 کے خطبہ امن کا ترجمہ حاضر خدمت ہے۔

بادشاہ سلامت، ناروے کی نوبل کمیٹی کے معزز ممبران،
محترمی وزیراعظم مادام گروہارلم برنٹ لینڈ،
وزرائے کرام، پارلیمنٹ کے ممبران، دیگر انعام یافتہ اصحاب،
مہمانان عزیز، پارلیمنٹ کے ممبران اور خواتین و حضرات،

نوجوانی میں جب طلبا و طالبات ریاضی کے مسائل حل کرنے، انجیل کے اسرار و رموز جاننے اور اپنی پہلی محبت کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، میرے ہاتھ میں ایک بندوق تھما دی گئی تاکہ میں اپنا دفاع کر سکوں اور اپنی جان کو خطرے میں پاؤں تو قتل کر سکوں۔

بندوق حاصل کرنا میرا خواب نہیں تھا۔ میں تو ایک انجینئر بننا چاہتا تھا۔ میں ایگریکلچر کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تاکہ تعلیم ختم ہونے کے بعد انجینئر بن سکوں۔ میرا خیال تھا کہ مشرق وسطیٰ کے صحراؤں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کا انجینئر بننا ایک اچھا پیشہ ہو گا۔ میں آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں، لیکن میں بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔

میں نے کئی دہائیوں تک فوج کو اپنی خدمات پیش کیں۔ میری سپہ سالاری میں وہ نوجوان مرد اور عورتیں جو زندہ رہنا چاہتے تھے، موت کی وادیوں مین اتر گئے۔ میری قیادت میں انہوں نے ان دشمن فوجیوں کے سرقلم کر دیے جو ان کا سر قلم کرنے کے لیے گھروں سے نکلے تھے۔

خواتین و حضرات! اب جبکہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہوں، مجھے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے اوپر سے ہوائی جہاز سے سفر کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ جہاز سے جو منظر دکھائی دیتا ہے وہ حیران کن ہے۔ گہری نیلی جھیلیں، سبز لہلہاتے کھیت، لق و دق صحرا، اونچے مٹیالے پہاڑ، چاروں طرف سفیدی کیے ہوئے سرخ چھتوں والے گھر اور ان کے ساتھ دور دور تک پھیلے قبرستان۔

مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں قبرستان ہیں جو نہ صرف میری مادر وطن اسرائیل میں ہی بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک شام، اردن، لبنان اور عراق میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہوائی جہاز کی کھڑکی سے ہزاروں کتبے دکھائی دیتے ہیں جو خاموش ہیں۔ لیکن ان کی خاموشی چیخ چیخ کر اپنی بپتا ساری دنیا کو سناتی ہے۔ آج میں یہاں کھڑے ہو کر اپنے دوستوں اور دشمنوں سب کو سلام کرتا ہوں۔ میں ساری دنیا کی ساری جنگوں میں جان کی قربانی دینے والے سارے سپاہیوں کو اور ان کے عزیزوں کو، جنہوں نے نہ مندمل ہونے والے زخم سہے، خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج کا انعام ان کے نام ہے اور صرف انہی کے نام ہے۔

ایک وہ وقت تھا جب میں جوان ہوا کرتا تھا۔ اب میں زندگی کے بہت سے نشیب و فراز دیکھ چکا ہوں، اور اس بہتر سالہ زندگی کی تمام یادداشتوں میں سے جو میں زندگی کے آخری دن تک یاد رکھوں گا۔ وہ خاموشی کے لمحے ہیں

جنگ کا فیصلہ کرنے کے بعد کے خاموشی کے بھاری لمحے اور
حملے سے پہلے کے خاموشی کے تکلیف دہ لمحے۔

ایک فوجی کمانڈر ہونے کے ناتے میں نے بیسیوں کیا سینکڑوں فوجی حملوں کا فیصلہ کیا ہو گا اور حکم صادر کیا ہو گا، اور ہر موقع پر فتح کی خوشی اور عزیزوں کی موت کے دکھ کے ساتھ ساتھ مجھے وہ لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے جب حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد افسران اعلیٰ اور وزرائے کرام اپنی اپنی کرسیوں سے اٹھے تھے، کمرے سے نکلنے کے لیے مڑے تھے، میں نے ان کو کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا، دروازہ بند کرنے کی آواز آئی تھی، اور پھر کمرے میں ایک مہیب خاموشی پھیل گئی تھی۔ اس خاموشی میں میں اکیلا تھا۔

اس خاموشی کے لمحے میں مجھے احساس ہوا تھا کہ ہم نے جنگ کا جو فیصلہ کیا تھا اس کی وجہ سے بہت سی جانیں موت کے گھاٹ اتر جائیں گی۔ ہماری قوم کے اور دوسری قوم کے بہت سے لوگ مر جائیں گے اور انہیں اس لمحے کی کوئی خبر نہیں تھی۔

مجھے احساس تھا کہ اس لمحے نجانے کتنے لوگ ہنس کھیل رہے ہیں، خوابوں کے تانے بانے بن رہے ہیں، محبت کے منصوبے بنا رہے ہیں، اپنا گھر سجا رہے ہیں اور باغ لگا رہے ہیں، اور انہیں بالکل خبر نہیں کہ وہ اس دنیا میں ان کی زندگی کی آخری چند گھڑیاں ہیں۔ ان کے خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔

ان میں سے کس نے مرنا ہے؟
کس کی تصویر کل کے اخبار میں سیاہ حاشیے کے ساتھ چھپنی ہے؟
کس کی ماں نوحہ کناں ہوگی؟
اور کس کی زندگی دکھوں کے بوجھ تلے دب جائے گی؟
کسی کو کیا خبر۔

ایک فوجی ہونے کی وجہ سے مجھے وہ لمحات بھی نہیں بھولیں گے جب حملے کا وقت قریب آ رہا تھا۔ جب گھڑی کی سوئیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں۔ اور میں جانتا تھا کہ ایک گھنٹے کے بعد ، ایک منٹ کے بعد قیامت آنے والی ہے۔ اس اذیت ناک لمحے میں جب میری انگلی لبلبی پر تھی، اس خاموشی کے لمحے میں میں سوچ رہا تھا کہ

کیا حملہ کرنا ضروری ہے؟
کیا جنگ کے بغیر، قتل و غارت کے بغیر، مسائل حل نہیں ہوسکتے؟
کسی بھی مقصد کے لیے کسی کی جان لینا کیوں ضروری ہے؟
اور اس لمحے کے بعد جنگ کا حکم دیا جاتا ہے۔ اور جنگ کی قیامت برپا ہوجاتی ہے۔

خدا کنڈر گارٹن کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں پر رحم کھاتا ہے، ہمارے ایک شاعر یہودا امیچائی نے اپنی ایک نظم میں لکھا ہے۔ وہ شاعر آج اس محفل میں موجود ہے۔ اور میں اس کی نظم کی چند سطریں پڑھنا چاہتا ہوں :

خدا سکول کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں پر زیادہ رحم کھاتا ہے
اس سے کم سکول کے بڑے بچوں پر رحم کھاتا ہے
اور ان بزرگوں کو نہیں بخشتا
جو بچوں کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
بعض دفعہ انہیں
اپنا فرض ادا کرنے کے لیے
مدد لینے کے لیے شفا خانے تک
تپتی ہوئی ریت پر
خون میں لت پت
کہنیوں اور گھٹنوں کے بل رینگ کر جانا پڑتا ہے
کئی دہائیوں سے خدا نے مشرق وسطیٰ کے بچوں اور بزرگوں پر رحم نہیں کھایا۔
کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ پر کسی نے رحم نہیں کھایا۔

خواتین و حضرات! میں ایک زمانے میں نوجوان تھا، لیکن اب زندگی کے کئی نشیب و فراز سے گزر چکا ہوں۔ اس بہتر سالہ زندگی میں جو یادداشتیں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں وہ امید کے وہ لمحے ہیں۔

ہماری عوام نے ہمیں اس لیے اپنا رہنما چنا ہے کہ ہم ان کی زندگیوں کی حفاظت کریں۔ یہ ایک تکلیف دہ بات ہے لیکن حقیقت ہے کہ ان کی زندگیاں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ امشب ان کی نظریں ہم پر جمی ہوئی ہیں اور ان کے دل ہم سے پوچھ رہے ہیں،

کیا ہم انہیں امن کا پیغام دیں گے یا جنگ کا؟
کیا ہم انہیں قہقہوں کی نوید سنائیں گے یا آنسوؤں کی خبر دیں گے؟

ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک غیر جمہوری دنیا میں آتا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کا چناؤ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی جنس، نسل مذہب یا قومیت کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ اسے یہ اختیار نہیں کہ وہ ایک جھگی میں پیدا ہویا محل میں، وہ ایک جمہوری حکومت کا حصہ بنے یا مطلق العنان سلطنت کی رعایا بنے۔ وہ بچہ جب مٹھیاں بھینچتا ہوا اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے مستقبل کا دار و مدار اس کی قوم کے رہنماؤں پر ہوتا ہے چاہے وہ اسے سکون کی زندگی گزارنے دیں یا پریشانی کی۔ وہ خوف کے سائے میں زندہ رہے یا آشتی کی زندگی گزارے۔ اس کا مستقبل اس قوم کے صدر، وزیراعظم، سیاسی رہنماؤں اور حکومت پر منحصر ہوتا ہے۔ چاہے وہ حکومت جمہوری ہو یا آمرانہ۔

خواتین و حضرات! جس طرح دنیا میں کوئی دو انسان ایک جیسے نہیں ہیں، اسی طرح کوئی دو قومیں بھی ایک جیسی نہیں ہیں، جس طرح دو انسانوں کے انگوٹھوں کے نشان مختلف ہوتے ہیں، اسی طرح مختلف قوموں کے قوانین، روایات، اور ثقافتیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن ایک یہودی روایت ایسی ہے جو سارے انسانوں اور ساری قوموں کے لیے اہم ہے اور وہ روایت انسانیت کے احترام کی روایت ہے۔ جس کے تحت ہم سب کو انسانی زندگی کا احترام کرنا چاہیے۔

ہر قوم کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قوم کو ایسے حالات مہیا کریں جس کے سائے میں عوام آزادی سے اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرسکیں، انہیں روٹی، کپڑے اور مکان کی فکر نہ ہو اور ان کی زندگی خطرے میں نہ ہو۔

ہر ملک کی حکومت پر اپنے شہریوں کی زندگی کا تحفظ فرض ہے۔

عوام کی زندگی کے تحفظ کے لیے ہم اپنی قوم کے نوجوانوں کو فوج میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں پھر ان فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہم ہوائی جہازوں اور ٹینکوں پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے فوجیوں اور عوام کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ساری دنیا کے فوجی قبرستان اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ان کے رہنما ان کی جانوں کی حفاظت نہ کرسکے۔

انسانی زندگی کا تحفظ نہ تو ہوائی جہازوں سے ہو سکتا ہے، نہ ٹینکوں سے اور نہ قلعے بنانے سے۔ اس کا واحد طریقہ امن کی راہ اختیار کرنا ہے۔

خواتین و حضرات!

فوج کا پیشہ ایک بنیادی تضاد کا آئینہ دار ہے۔ ہم فوج میں اپنی قوم کے بہترین اور سب سے بہادر نوجوانوں کو لیتے ہیں۔ ہم ان کی تعلیم و تربیت پر کثیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ ہم ان کو اس دن کے لیے تیار کرتے ہیں جب انہیں اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔ لیکن ہم یہ بھی دعا کرتے رہتے ہیں کہ وہ دن نہ آئے جب ہمیں اپنے اپنے ٹینک اور جہاز میدان جنگ میں بھیجنے پڑیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے فوجی لڑیں، کیونکہ ہم دعا کرتے رہتے ہیں کہ جنگ نہ ہو، کیونکہ ہم زندگی کا احترام کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ عمومی طور پر اور جدید تاریخ خصوصی طور پر اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مختلف قوموں کے رہنماؤں نے اپنی عوام کو جنگ کی آگ کا ایندھن بنایا اور مختلف نظریاتی نظاموں کو جواز کے طور پر پیش کیا، اس المیے کی مثال نازی بھی ہیں اور فاشزم کے پیروکار بھی۔ ہم سب نے وہ تصویریں دیکھی ہیں جن میں معصوم بچے اور سہمی ہوئی عورتیں قتل گاہوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسی تصویروں سے ہماری نسل کو اور آنے والی نسلوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ وہ تمام حکومتیں جنہوں نے انسانیت کا احترام نہیں کیا وہ اس دنیا سے نیست و نابود ہو گئیں۔

لیکن یہ حقیقت کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ یہ ہے کہ زندگی کی حفاظت کے لیے بعض دفعہ ہمیں زندگی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ بعض دفعہ عوام کے لیے اور کوئی راستہ نہیں رہتا کہ وہ اپنی زندگیوں کے دفاع کے لیے لڑیں اور یہ مشکل وقت ہر جمہوری ریاست پر آ سکتا ہے۔

خواتین و حضرات!

اسرائیل کی ریاست کی فوج نے جس کا میں سپہ سالار ہوں، زندگی کا ہمیشہ احترام کیا ہے۔ ہم صرف ان حالات میں جنگ پر گئے ہیں جب کسی خوفناک تلوار نے ہمارے سرقلم کرنے کوشش کی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی فوج کے جیالوں نے زخمی سپاہیوں اور بے گناہ عوام کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ ہماری روایت ہے کہ ہمارے فوجی زندگی کے احترام اور تحفظ کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔

میری دعا ہے کہ جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے اور ہم سب زندگی کا تہہ دل سے احترام کریں اور آئندہ خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہائیں۔

خواتین و حضرات! ہم زندگی کے اس موڑ پر آ پہنچے ہیں جہاں ہم جنگ کو خیر باد کہہ کر امن تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور امن کے معمار جانتے ہیں کہ انہیں یہ عمارت ایک ایک اینٹ کر کے بنانی ہوگی اور وہ بھی بڑی احتیاط کے ساتھ، کیونکہ اگر اس کی تعمیر میں غلطی ہوئی تو وہ ساری عمارت دھڑام سے نیچے گر سکتی ہے، اور یہ عمارت ہمیں ہر حال میں تعمیر کرنی ہوگی چاہے ہمیں اس راستے میں امن کے دشمنوں کا مقابلہ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ہمیں اس راہ میں استقامت اور مستقل مزاجی کا سامنا کرنا ہو گا۔

ہم اس راہ میں ہمت نہ ہاریں گے
ہم اس راہ میں بددل اور مایوس نہ ہوں گے

آخر کار ہم امن کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ اور وہ منزل نہ صرف ہمارے بچوں کے لیے بلکہ ہمارے ہمسایہ ممالک کے بچوں اور ساری دنیا کے بچوں کے لیے بھی ایک اچھا خاصا شگون ہو گا۔ امن کی راہ میں روس، امریکہ، ناروے اور دیگر ممالک نے جو خدمات پیش کی ہیں اور ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے وہ ہمیں بہت عزیز ہے۔

جب سے امن کے مذاکرات شروع ہوئے ہیں ہمارے بچوں کی آنکھوں میں ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ہمارے فوجیوں اور عوام کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی دکھائی دے رہی ہے، جو ایک خوش آئند خبر ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے ان کے امن کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں۔ ہمیں انہیں مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

میں یہاں صرف اکیلا ہی امن کا پیامبر نہیں ہوں، میرے ساتھ اور بھی بہت سے انسانیت کا احترام کرنے والے انسان ہیں، جو ایک امن کی نئی صبح کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
آج سے پہلے بہت سے شاعروں نے امن کے خواب دیکھے ہیں۔

امن کے خواب دیکھنے والوں میں یہودی قوم کے بہت سے سپوت شامل ہیں جن میں آئن سٹائن، سپینوزا، فرائڈ، کافکا بھی شامل ہیں۔ مجھے ان جانوں کا دکھ ہے جو ہولوکاسٹ میں ضائع ہو گئیں، ان میں نجانے کتنے آئن سٹائن اور فرائڈ ہوں گے۔

افسوس صد افسوس کہ ساری انسانیت کیسے کیسے انسانوں کی تخلیقات، کوششوں اور تحفوں سے محروم ہو گئی۔

آج میں یروشلم کا پیمبر بن کر آیا ہوں کیونکہ میں اس کے محافظوں میں شامل تھا، جب اس کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت تھا اور آج بھی ہے۔ وہ یہودیوں کا دل ہے کیونکہ وہ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔

آج میں ان بچوں اور ان مہاجروں کا بھی نمائندہ بن کر آیا ہوں جو امن کے خواب دیکھ رہے ہیں آج میں آنے والی نسلوں کا نمائندہ ہوں جو اس انعام کی مستحق ہوں گی کیونکہ وہ امن کی تعمیر میں ہمارے خوابوں کو بڑھاوا دیں گی۔

آج میں ان ہمسایوں کا بھی نمائندہ ہوں جو مصیبتیں جھیلتے رہے اور انسانیت کی خدمت کرتے رہے۔

آج میرے ہمراہ پچاس لاکھ اسرائیلی ہیں جن میں یہودی بھی شامل ہیں اور عرب بھی۔ ان کے دل امن کے لیے دھڑک رہے ہیں اور ان کی آنکھیں ہماری طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ہم امن کی منزل کی طرف جانے والے قافلے میں ان کی رہنمائی کریں۔

خواتین و حضرات!
میں ان اسرائیلیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ مل کر امن کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

میں اپنے ساتھیوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں جن میں مصر، اردن اور فلسطین کے شہری شامل ہیں او ر خاص طور پر پی ایل او PLOکے چیئرمین یاسر عرفات کا، جو ہمارے ساتھ مل کر امن کا نوبل انعام حاصل کر رہے ہیں، وہ امن کی راہوں میں ہمارے ہمسفر ہیں۔ ہم مل کر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا نیا باب لکھ رہے ہیں۔

میں اسرائیلی حکومت اور اپنے رفیق کار شیمون پیریز کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے میرے امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں میری مدد فرمائی۔

میں اپنے اہل خانہ کا بھی مشکور ہوں جو ہر قدم پر میرا ساتھ دیتے رہے۔
آخر میں نوبل کمیٹی کا ممنون ہوں جنہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہ اعزاز بخشا۔
خواتین و حضرات!

میں آج کے خطاب کو ایک یہودی دعا کے ساتھ ختم کرنا چاہتا ہوں جو اچھے وقتوں میں بھی پڑھی جاتی ہے اور برے وقتوں میں بھی۔ یہ دعا نسلوں سے پڑھی جا رہی ہے اور ہمارے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔
”اے خالق! تو ہمارے لوگوں کی ہمت قائم رکھ، تو ہم سب پر اپنی رحمت بھیج تاکہ ہم امن و سکون کی زندگی گزار سکیں“ ۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail