اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے


ایک دن سکول میں حافظ عبیدالرحمٰن صاحب ملے اور مجھ سے دریافت کیا کہ ڈاکٹر کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ میرے انکار پر بولے کہ عظیم آباد میں چوہدری عبدالغفور کی بیٹی بھی ڈاکٹر ہے۔ وہاں دیکھ لو۔ نہایت بھلے انسان ہیں۔ گھر آ کر لوکل ڈائریکٹری سے چوہدری صاحب کا نمبر لے کر انہیں فون کیا اور حافظ صاحب کے ریفرنس سے آنے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹی بھی آج کل آئی ہوئی ہے۔ آپ جب چاہیں تشریف لے آئیں اور ہم اگلے ہی دن تشریف لے گئے۔

سلیکشن بورڈ کے بقیہ دونوں ارکان ماں جی اور میجر صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ چار کنال کے وسیع و عریض احاطے میں دیسی طرز کے بنے ہوئے گھر کے درمیان شیشم کے بڑے بڑے درختوں کے نیچے چارپائیوں پر بیٹھنے کا دیسی طرز کا انتظام تھا۔ ایک طرف کھرلی پر بندھی ہوئی تین چار نہائی دھوئی سیاہ کالی بھینسیں بندھی ہوئی تھیں۔ ماں جی کو یہ منظر خوب بھایا۔ وہ خود بھی بھینسوں کی بڑی شیدا تھیں۔ ہم جب تک گاؤں میں رہے۔ ماں جی نہ صرف دو تین بھینسیں رکھا کرتیں۔ بلکہ انہیں ہم سے بھی بڑھ کر عزیز جاں رکھتیں۔

گرمیوں کی راتوں کو جب حبس زیادہ ہوتا تو گھر کا واحد ٹیبل فین ہماری چارپائیوں کے سامنے سے اٹھا کر بھینسوں کو ہوا دینے کے لیے ان کے سامنے لگا دیا کرتیں اور ساتھ ہی وضاحت بھی کرتیں کہ ہم تو دستی پنکھے سے بھی ہوا لے سکتے ہیں۔ یہ بے چارے بے زبان جانور ہمیں دعا دیں گے۔ اگر انہیں دو چار دن کے لیے کہیں گھر سے باہر جانا پڑ جاتا تو واپسی پر ان کی بھینسیں منہ سے چھوٹی چھوٹی آوازیں نکالتے ہوئے ان کا باقاعدہ استقبال کیا کرتیں۔ ایسے معلوم ہوتا کہ شکایت کر رہی ہیں کہ آپ کہاں چلی گئیں تھیں۔

ماں جی کو یہ سارا دیسی اور دیہی ماحول اس قدر خوبصورت لگا کہ انہوں نے متعلقہ لڑکی کو دیکھے بغیر ہی یہیں پر رشتہ طے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میجر صاحب لڑکی کے والد چوہدری عبدالغفور صاحب سے محو گفتگو تھے۔ دونوں کی باتوں میں محویت اور دلچسپی سے ایسے ظاہر ہو رہا تھا جیسے کہ سالوں سے ایک دوسرے کے شناسا ہوں۔ میری توجہ رہن سہن اور گھریلو ماحول پر تھی۔

اسی دوران کبھی کبھار مردوں کی گفتگو میں شامل ہونے کی کوشش کرتا اور کبھی عورتوں کی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے تھوڑی بہت ہوں ہاں کر لیتا۔ کچھ دیر کے بعد لڑکی چائے لے آئی۔ سب لوگوں کا دھیان اپنے اپنے کاموں میں لگا رہا۔ لڑکی پر سرسری سی نظر ڈالی۔ میجر صاحب نے بس دو ایک واجبی سی باتیں کیں اور بس۔ یہاں پر ہمارا دل کچھ ایسے لگا کہ اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ بہرحال کافی دیر کے بعد ہم لوگ واپس ہو لیے۔ واپسی ہماری تانگے پر ہوئی۔

تانگے سے ہمارے گھر کا فاصلہ تقریباً پچیس تیس منٹ کا تھا۔ اسی دورانیے میں تانگے پر بیٹھے بیٹھے ہی سلیکشن بورڈ کی متعلقہ موضوع پر میٹنگ ہوئی۔ ماں جی نے بھینسوں کی صحت مندی، صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال کی خوب خوب تعریف کی۔ میجر صاحب نے چودھری صاحب کی سادگی، شرافت، علمی طرز عمل اور رویے کو بہت سراہا اور میں نے گھریلو ماحول میں شامل دیہی روایات اور اقدار پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ اس میٹنگ میں بورڈ کے ہر رکن نے اپنے اپنے پسندیدہ موضوع پر خوب کھل کر اظہار خیال کیا اور آخر میں میجر صاحب نے لڑکی کی تعریف بھی ایک ہی فقرے میں مکمل کر دی کہ ماشاء اللہ بچی دراز قد، خوبصورت اور بہت لائق ہے۔

گھر پہنچنے سے پہلے پہلے بورڈ کے تمام اراکین امیدوار کو سو فیصد نمبروں سے متفقہ طور پر کامیاب قرار دے چکے تھے اور اس بات پر بھی متفق ہو چکے تھے کہ جاتے ہی فریق ثانی کو اپنی رضامندی سے آگاہ کر دینا ہے تاکہ کسی دوسرے آپشن کے زیر غور آنے کے امکانات نہ رہیں اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ چار پانچ دنوں کے بعد فریق ثانی جائزہ مشن کی تشریف آوری ہوئی۔ یہ مشن لڑکی کے والدین، بھائی اور دو عدد کلاس فیلوز پر مشتمل تھا۔

بھائی کا ساتھ آنے کا واحد مقصد لڑکے کے قد کی پیمائش کرنا تھی۔ اس بات سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ وہ فیتا لے کر قد کی پیمائش کے لیے آیا تھا۔ بلکہ اس نے موقع پا کر ہمارے والے لڑکے کے ساتھ کھڑا ہو جانا تھا۔ تاکہ مشن کو اس کے قد کی نسبت سے اندازہ ہو جائے۔ لڑکی کے والد اور والدہ تو ہمارے جیسے ہی سیدھے سادھے سے تھے۔ انہوں نے تو کوئی خاص چھان پھٹک نہ کی۔ لیکن لڑکی کی کلاس فیلوز کا رویہ اس معاملے میں بڑا جارحانہ رہا۔

ہمارے لڑکے کو انہوں نے شروع میں ہی چت کر لیا۔ اسے پسینے آ رہے تھے اور گھبراہٹ چہرے سے نمایاں تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد میجر صاحب نے فریقین کے درمیان مداخلت کر کے ہمارے جوان کی جان چھڑائی۔ یہ جائزہ مشن تقریباً پورا دن ہمارے ہاں ٹھہرا رہا۔ کسی نے بھی گھر میں جگہ کی کمی اور نئے بننے والے جوڑے کی رہائش کے متعلق کوئی استفسار نہ کیا کہ وہ کہاں رہیں گے اور کیسے رہیں گے۔ شام کو اس مشن کی واپسی ہوئی تو ہم نے ان کی رضامندی کے لیے ان کے فون کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔

لیکن فون نہ آیا۔ بلکہ اگلے دن بھی نہ آیا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری بے تابی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ خدا خدا کر کے فریق ثانی کی طرف سے ٹیلیفون آ ہی گیا اور یہ بھی ہماری ہی طرح رضامندی کا فون تھا۔ ایک دو مزید ملاقاتوں میں اس فرض منصبی سے جلد از جلد سبکدوش ہونے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ ایک چیز کی وضاحت کرتا چلوں کہ ایسے وقت میں ہمارے جھمہ پن کے خاندانی اوصاف بہت سے مشکل کاموں کو بھی آسان کر دیتے ہیں۔

اس وقت ہمارے پاس شادی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ نئے جوڑے کے رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔ کوئی عقل مند، دانا اور منصوبہ ساز قسم کا خاندان ہوتا تو ایسے حالات میں جلد شادی کا کبھی بھی نہ سوچتا۔ پہلے ان کے رہنے کا بندوبست کرتا پھر شادی کے لیے پیسے اکٹھے کرتا اور باقاعدہ حساب کتاب لگا کر اس کے کے بعد شادی کے دن مقرر کرتا۔ اور اس سارے کام میں پتہ نہیں کتنا عرصہ لگ جاتا اور اس دوران فریقین میں سے کوئی ایک آدھ پھسل جاتا اور بات پھر صفر پر آ جاتی۔

ہم نے اس کے برعکس اور اپنے خاندانی خصائص کے عین مطابق ایک ڈیڑھ ماہ کے بعد 25 دسمبر کی تاریخ شادی کے لیے مقرر کر دی۔ اب ہم نے اپنی اپنی جیبوں کا جائزہ لیا۔ میجر صاحب تو سات آٹھ سال سے پنشن پر ہی گزارہ کر رہے تھے۔ ابھی ابھی انہوں نے نوکری شروع کی تھی پھر بھی کچھ رقم دینے کا وعدہ انہوں نے کر لیا اور کچھ لوگوں کے بل تھوڑے عرصے کے لیے میں نے روک لیے اور اس طرح شادی خانہ آبادی کی یہ مبارک اور سعد تقریب حسب معمول اور حسب رواج بخیر و بخوبی اپنے انجام کو پہنچی۔

ہمارے گھر کے اوپر ایک چھوٹا سا کمرہ اور واش روم موجود تھا۔ وہاں پر ہم نے نئے جوڑے کو سیٹ کر دیا۔ اس طرح تمام معاملات بغیر کسی مناسب منصوبہ سازی کے محض ہمارے خاندانی وصف جھمہ پن کی بدولت بڑی سہولت اور آسانی سے پایہ تکمیل کو پہنچے اور ڈاکٹر نورین دلہن بن کر ہمارے گھر رونق افروز ہوئیں۔ ہمارے آنگن میں ڈاکٹر نورین کی آمد بہت مبارک اور متبرک ثابت ہوئی۔ وہ صوم، صلٰوۃ اور اسلامی اقدار کی پابند ایک وضع دار خاتون ہیں۔

ہماری منصوبہ بندی کے عین مطابق انہوں نے اپنی سنجیدگی اور ذمہ دارانہ رویے کے محاسن سے ہمارے جوان کے لا ابالی پن کو ڈھانپتے ہوئے ایک نئے اور مضبوط خاندانی ادارے کی بنیاد رکھی۔ ہمارے خاندان کو بھی ہمیشہ اپنے ہی خاندان کا حصہ سمجھا اور اسے درپیش مسائل کے حل میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہیں۔ بلکہ ہمارے تمام بچوں کی تعلیم اور شادی بیاہ کے معاملات کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کا کردار ہم سے بھی کہیں بڑھ کر رہا۔ اللہ تبارک تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی سے نوازے۔ خوش و خرم رکھے نیک نصیب کرے اور دونوں جہانوں میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے سرفراز کرے۔ آمین۔ ثم آمین

Facebook Comments HS