ہمارے شہر کی مائیں اداس ہیں


ایک دن عالمی مشاعرہ سن رہا تھا، پاکستانی شعراء کرام اس میں شریک تھے، ان میں جو نظامت کر رہا تھا وہ ہندوستانی شاعر کمار وشواس تھا، اس کے کچھ اشعار اچھے لگے، اس کا مشاعرہ سنا تو اس نے کئی بار صدر محفل کا ذکر کیا، میں نے پورا مشاعرہ سنا اور ان صدر محفل کی شاعری سنی، ان سے پہلے راحت اندوری کی شاعری تھی، کیا کمال شاعری تھی، لیکن جب صدر محفل جناب منور رانا صاحب کی شاعری سنی تو نہ چاہتے ہوئے بھی جذباتی ہو گیا، ایک ایک شعر کوئی تار کھینچ رہا تھا اور ان کا انداز بیاں، شعروں کی ادائی اور لکھنؤ کے لہجے کا ٹھہراؤ، میں نے اس کے بعد سے ان کا بہت کلام سنا، اور ان کی شاعری کا سب سے اہم اور مقبول حصہ وہ ہے جو ہم سب کے دلوں کے قریب ہے، وہ ایسے اشعار کہہ گئے ہیں کہ ہر انسان اس سے اپنا ربط محسوس کر سکتا ہے، جی بالکل! ان کی شاعری کے اس حصے سے سب واقف ہیں، اور آج میں اسی کا تذکرہ کروں گا یعنی ”ماں“ ۔

منور رانا صاحب کی ماں پر کی گئی شاعری کا کوئی ثانی نہیں ہے، انہوں نے جتنے اشعار کہے بے مثال کہے، منور صاحب 1952 ء میں رائے بریلی میں پیدا ہوئے، بعد ازاں ہجرت کر کے لکھنؤ میں قیام پذیر رہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے برصغیر کے مشاعروں کا اہم نام رہے، اور ہر دل میں اپنا مقام بنایا، سرکاری ایوارڈ ملا تو واپس کر دیا۔ اردو، ہندی اور بنگالی زبان میں شعر کہتے رہے، ان کے کچھ اشعار میں نے منتخب کیے ہیں جو کہ ماں سے محبت اور عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 14 جنوری 2024 ء میں وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، ان کی وفات سے بھارتی کوی سمیلن یا مشاعروں میں ایک بڑا ادبی خلا پیدا ہو چکا ہے، راحت اندوری مرحوم اور منور رانا کے بعد اب یہ خلا شاید ہی پر ہو سکے۔

ماں کی موجودگی ہمارے لئے باعث رحمت بھی ہے اور باعث حفاظت بھی، ان کا شعر ہے کہ
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

ماں کی دعا لے کر نکلنے والے جانتے ہیں کہ یہ شعر ان کے لیے کتنی خاصیت رکھتا ہے، ان کا ماں پر لکھا گیا ایک ایک شعر ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی چھاپ رکھتا ہے، جیسے گھر میں چھوٹے بیٹے جو ہیں ان کے لئے ان کا شہرہ آفاق شعر ایک الگ مقام رکھتا ہے

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

حالانکہ مجھ ایسے گھر کے بڑے بیٹوں کو ان سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ شعر اولاد کا ماں سے محبت کا بیاں ہے۔

کہتے ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے، اسی جنت کے استعارے کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

اذاں، جنت یہ مذہبی اشارے ہیں، اس دنیا میں مذہب کی اہمیت سے سب واقف ہیں اور ہر مذہب کا آخر جنت، سورگ کی صورت میں نظر آتا ہے، اور ماں کے قدموں تلے سے جنت نکال کر ماں کو ہی جنت کا استعارہ قرار دے دینا منور رانا کا ہی خاصہ ہے۔

ماں اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ دعاگو رہتی ہے، وہ اپنے رب کے حضور دعا کرتی رہتی ہے، اور اپنے بچوں پر مصائب کی وجہ نہیں بنتی ہے، منور رانا صاحب کہتے ہیں کہ

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

یہ خاصیت بھی ماں ہی کے پاس ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتی، وہ اپنے آنسوؤں میں بھی اولاد کی بھلائی کی دعا کرتی رہتی ہے۔

ماں ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ اس کے بچے سلامت رہیں محفوظ رہیں، چاہے پھر وہ انسان کی ماں ہو یا کسی بھی ذی روح کی، گزشتہ عرصے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک پرندے کا بچہ مین ہول میں گر جاتا ہے جس کے بعد وہ شور مچاتی ہے اور لوگ مدد کے لئے آ کر اسے باہر نکالتے ہیں، اسی طرح متعدد مواقع ہیں جہاں اپنی زندگی داؤ پر لگا کر بچوں کو بچانی کے جتن کرتی نظر آتی ہے ماں، یہ رشتہ ہی ایسا ہے۔

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

منور رانا صاحب نے ایک مشاعرے کے دوران بتایا کہ میری عمر پینسٹھ سال سے تجاوز کر چکی ہے مگر ابھی تک مجھے نظر کا مسئلہ نہیں ہوا، میری نظر بالکل ٹھیک کام کر رہی ہے، اور اس کا ایک اکسیر نسخہ بھی بتایا کہ میں اپنی ماں کے قدم چوما کرتا تھا، میرا عقیدہ ہے کہ میری آنکھیں کبھی خراب نہیں ہو سکتی ہیں، اسی سے ملتا جلتا ایک شعر ان کا ہے کہ

مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجے روشنی بڑھ جائے گی

ماں پر کہی گئی ان کی شاعری پر اگر نگاہ دوڑائی جائے تو ایک بے پناہ عقیدت و محبت نظر آئے گی، ان کے کچھ متفرق اشعار پیش خدمت ہیں جن میں سے متعدد ریختہ اور یوٹیوب سے ان کے مشاعروں سے لیے گئے ہیں :

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
۔
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
۔
منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
۔
یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا
۔
برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
۔
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے
۔
ماں بیٹھ کے تکتی تھی جہاں سے مرا رستہ
مٹی کے ہٹاتے ہی خزانے نکل آئے
۔
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
۔
دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
۔
ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتے
بچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتے
۔
شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا
۔
ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز
بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں
۔

منور رانا صاحب جس دن فوت ہوئے اسی دن میرے کزن بھی فوت ہوئے، ایک عجیب سی کیفیت رہی سارا دن، دعا ہے مالک سے کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، منور صاحب کو ماں سے عقیدت و محبت کے عوض ماں کے قدموں تلے جگہ ملے، اور اردو ادب کا یہ نقصان اب تا دیر رہے گا، اور منور صاحب کے لئے ساجد رحیم صاحب کا یہ شعر اس دکھ کی عکاسی کرتا ہے کہ

کل سے کوئی چراغ منور نہیں ہوا
کل سے ہمارے شہر کی مائیں اداس ہیں

Facebook Comments HS