بھیڑیں اور بھیڑیے


1922 میں مدہیہ پردیش میں پیدا ہونے والے ہری شنکر پرسائی کو جدید ہندی ادب میں طنز نگاری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہری شنکر پرسائی نے ناگ پور یونیورسٹی ستے تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد کل وقتی بنیاد پر ادب سے وابستہ ہو گئے۔ وہ براہ راست اور سادہ انداز میں کاٹ دار طنز کے لئے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ہندی ادب میں طنز نگاری کا انداز ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ 1982 میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہری شنکر پرسائی 1995 میں پرلوک سدھار گئے۔

” بھیڑیں اور بھیڑیے” کے عنوان سے ہری شنکر پرسائی کی اس تحریر کو اشفاق دستی نے اردو کا روپ دیا ہے۔

٭٭٭   ٭٭٭

ایک بار جنگل کے جانوروں نے محسوس کیا کہ وہ تہذیب کے اس درجے پر پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں اچھی حکمرانی کا نظام اپنانا چاہیے۔ اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جنگل کے علاقے میں جمہوریت قائم کی جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتی ایک کمیٹی بن گئی، دیکھتے ہی دیکھتے ایک آئین بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پنچایت کے قائم ہونے کا اعلان ہوگیا۔ جس میں جنگل کے سبھی جانوروں کے نمائندہ ہوں، جو مملکت جنگل کے لئے قانون بنائے اور حکمرانی کرے۔ حیوانی معاشرے میں اس ‘انقلابی’ تبدیلی نے خوشی کی لہر دوڑا دی کہ خوشی، خوشحالی اور سلامتی کا سنہری دور اب آیا کہ اب آیا۔

جنگل کے علاقے میں جہاں ہماری کہانی واقع ہوتی ہے، وہاں بہت سی بھیڑیں تھیں – انتہائی شریف، ایماندار، مہربان، رحمدل اور معصوم جانور، جو گھاس تک کو پھونک پھونک کر کھاتی ہیں۔

بھیڑوں نے سوچا کہ اب ان کا خوف دور ہو جائے گا۔ ہم اپنے نمائندوں کے ذریعے قانون بنائیں گے کہ کوئی جاندار کسی پر تشدد یا قتل نہ کرے۔ سب جیو اور جینے دو۔ معاشرہ امن، پیار، بھائی چارے اور تعاون پر مبنی ہونا چاہیے۔

یہاں بھیڑیوں نے سوچا کہ ان کی مصیبت کا وقت آگیا ہے۔ بھیڑ بکریوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ پنچایت میں ان کی ہی اکثریت ہو گی اور اگر وہ یہ قانون بنائیں کہ کوئی جانور کسی کو نہ مارے تو ہم کھائیں گے کیا؟ کیا ہمیں گھاس چرنا سیکھنا پڑے گا؟

الیکشن قریب آتے ہی بھیڑوں کی خوشی میں اضافہ ہوتا گیا اور بھیڑیئے دل ہارنے لگے۔

ایک دن بوڑھے لگڑبگھے نے بھیڑیے سے کہا، ’’آقا، آپ ان دنوں بہت اداس رہتے ہیں۔‘‘

ہر بھیڑیے کے ارد گرد دو سے چار لگڑبگھے رہتے ہی ہیں۔ جب بھیڑیا اپنے شکار کو کھا لیتا ہے تو یہ لگڑبگھے ہڈیوں پر لگےگوشت کترتے ہیں اور ہڈیاں چوستے رہتے ہیں۔ وہ اپنی دم ہلاتے ہوئے بھیڑیے کے گرد گھومتے ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں اور وقت بہ وقت "ہُوا ہُوا” چلا کر اس کی تعریف کرتے ہیں۔

Hari Shankar Parsai

تو بوڑھے لگڑبگھے نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا، "مہاراج، آپ کے نورانی چہرے پر پریشانی کے بادل کیوں چھائے ہیں؟” وہ لگڑبگھا شاید کچھ شعر لکھنا بھی جانتا ہوگا یا شاید وہ کسی اور کی کہی نظم کو اپنی بنا کر کہتا ہو۔

خیر، بھیڑیا بولا، ”کیا تم نہیں جانتے کہ مملکتِ جنگل میں نئی حکومت بننے والی ہے؟ ہماری سلطنت تو بس اب ختم سمجھو۔‘‘

لگڑبگھے نے دانت نکال کر کہا، ’’ہمیں کیسے پتہ چلے گا مہاراج! ہمارے لئے تو آپ ہی ‘مائی باپ’ ہیں۔ ہم کسی اور حکومت کو نہیں جانتے۔ آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کی ہی مدح سرائی کرتے ہیں۔”

بھیڑیے نے کہا "لیکن اب وہ وقت آنے والا ہے جب سوکھی ہڈیاں بھی چبانے کو میسر نہیں ہوں گی۔”

لگڑبگھا سب کچھ جانتا تھا لیکن اگر وہ جان کر بھی انجان بننے کا ناٹک کرنا نہ جانتا تو لگڑبگھا شیر نہ ہو گیا ہوتا۔

آخر کار بھیڑیے نے بوڑھے لگڑبگھے کو مملکتِ جنگل میں ہونے والے پنچایتی انتخابات کے بارے میں سمجھایا اور بھاری دل سے کہا، ’’اب انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اب یہاں سے بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ پر جائیں بھی تو ہم کہاں؟”

لگڑبگھے نے کہا، ’’آقا، سرکس میں شامل ہوں۔‘‘

بھیڑیے نے کہا ’’ارے وہ شیر اور ریچھ تو وہاں لے جاتے ہیں لیکن ہم اتنے بدنام ہیں کہ وہاں بھی کوئی ہمیں نہیں پوچھتا۔‘‘

’’تو ۔۔۔۔۔‘‘ لگڑبگھے نے غور سے سوچنے کے بعد کہا، ’’عجائب گھر میں چلے جائیے۔‘‘

بھیڑیا بولا ’’ارے وہاں تو جگہ ہی نہیں ہے، سنا ہے وہاں تو اب آدمی رکھے جانے لگے ہیں۔‘‘

بوڑھا لگڑبگھا اب مراقبے میں مگن ہو گیا۔ اس نے ایک آنکھ بند کی، اپنے نچلے ہونٹ کو اوپری دانتوں سے دبایا اور آسمان کی طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ ’’ایشور‘‘ سے تعلق بنا رہا ہو۔ پھر بولا ’’میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔ آقا، اگر پنچائت میں آپ کی بھیڑیا برادری اکثریت میں آجائے تو۔۔۔۔؟”

بھیڑیا چڑ کر بولا ’’ارے کہاں بے پر کی مار رہا ہے۔ ہماری برادری صرف دس فیصد ہے اور بھیڑیں اور دوسرے چھوٹے جانور نوے فیصد ہیں۔ وہ ہمیں کیوںکر چنے گے؟ ارے کیا زندگی کہیں خود کو موت کے حوالے کر سکتی ہے؟ لیکن ہاں، اگر ایسا ہو سکتا ہے تو پھر کیا ہی بات ہو ! ‘‘

بوڑھا لگڑبگھا بولا ”آپ پریشان نہ ہو سرکار! ایک دن کا وقت دیں۔ کل تک کوئی نا کوئی ترکیب نکل ہی آئے گی ۔ لیکن ایک بات ہے۔ آپ کو میری باتوں پر عمل کرنا پڑے گا۔”

مصیبت میں پھنسے بھیڑیے نے آخر کار لگڑبگھے کو اپنا استاد مان لیا اور اطاعت کا حلف اٹھایا۔

اگلے دن بوڑھا لگھڑ بگھا اپنے ساتھ تین لگڑبگھوں کو لے کر آیا۔ ان میں سے اس نے ایک کو پیلے رنگ میں رنگ دیا تھا، دوسرے کو نیلے میں اور تیسرے کو سبز۔

بھیڑیے نے دیکھا اور پوچھا ’’ارے! یہ کون ہیں؟‘‘

بوڑھا لگڑ بگھا بولا ’’ یہ بھی لگھڑبگھے ہی ہیں آقا۔ لیکن رنگے ہوئے لگڑبگھے۔ آپ کی خدمت کریں گے۔ آپ کے انتخابات کی مہم چلائیں گے۔‘‘

بھیڑیے نے شکوہ کیا "لیکن ان کی بات کون مانے گا؟ یہ تو ویسے ہی اپنی دھوکہ دہی کے لئے بدنام ہیں۔‘‘

لگڑبگھے نے بھیڑیے کے ہاتھ کو چوما اور کہا ”سرکار آپ تو بہت معصوم ہو! ارے مالک روپ رنگ بدل دینے سے تو میں نے سنا ہے کہ آدمی تک بدل جاتے ہیں۔ پھر یہ تو پھر بھی لگڑبگھے ہیں۔”

اور پھر بوڑھے لگڑبگھے نے بھیڑیے کا بھی روپ بدل دیا ۔ ماتھے پر تلک لگایا، گلے میں کنٹھ ہار پہنایا اور منہ میں گھاس کے تنکے ٹھونس دیئے۔ کہنے لگا ’’ اب تو آپ پورے سادھو بزرگ بن گئے۔ اب ہم بھیڑوں کی مجلس میں جائیں گے۔ لیکن تین باتوں کا خیال رکھیں اپنی متشدد نظریں مت اٹھائیے گا، ہمیشہ زمین کی طرف دیکھیں اور کچھ نہ کہیں، ورنہ سب پول کھل جائے گا اور وہاں بہت سی بھیڑیں ہوں گی، خوبصورت، ناتواں ملائم، تو کہیں کسی پر ٹوٹ نہ پڑیے گا.”

بھیڑیے نے پوچھا، "لیکن رنگین لگڑبگھے کیا کریں گے؟ یہ کس کام آئیں گے؟”

بوڑھا لگڑبگھا بولا ’’یہ بہت کام کے ہیں۔ آپ کی ساری مشہوری تو یہی کریں کریں گے۔ انہی کے زور پر آپ انتخابات لڑیں گے۔ یہ پیلا والا بڑا دانشور ہے، مفکر، شاعر اور ادیب بھی ہے۔ یہ نیلا لگڑبگھا سماجی کارکن اور صحافی ہے۔ اور یہ سبز مذہبی عالم ہے۔ بس، اب چلتے ہیں۔”

’’ذرا ٹھہرو‘‘ بھیڑیے نے بوڑھے لگڑبگھے کو روکا، ’’شاعر، ادیب، سماجی کارکن، مفکر – میں نے تو سنا ہے کہ یہ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ اور یہ تینوں ۔۔۔۔ ‘‘

بات کاٹ کر لگڑبگھا بولا ’’یہ تینوں سچے نہیں ہیں، بولا نا رنگے ہوئے ہیں مہاراج! اب چلیے دیر مت کریں”۔

اور وہ چلے گئے۔

سامنے بوڑھا لگڑبگھا تھا، اس کے پیچھے برنگے لگڑبگھوں کے بیچ بھیڑیا چل رہا تھا – اس کے سر پر تلک، گلے میں کنٹھ ہار، منہ میں گھاس کے تنکے۔ وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، بہت سنجیدگی سے، سر جھکائے عاجزی کا مجسمہ۔

اور ادھر ایک جگہ ہزاروں بھیڑ بکریاں جمع ہوگئی تھیں۔ اس بزرگ کو دیکھنے کے لیے جن کے بارے میں بوڑھے لگڑبگھے نے خبر پھیلائی ہوئی تھی۔

چاروں لگڑبگھے ‘بھیڑیا سرکار زندہ باد’ کا نعرہ لگاتے ہوئے بھیڑوں کے ریوڑ کے پاس پہنچے۔ بوڑھے لگڑبگھے نے ایک بار اونچی آواز میں بزرگ بھیڑیا زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ بھیڑوں کے درمیان پہلے سے ہی ادھر ادھر بیٹھے لگڑبگھوں نے بھی زندہ باد کا نعرہ لگایا۔

جب بھیڑوں نے دیکھا تو کہنے لگیں، "ارے بھاگو !! یہ تو بھیڑیا ہے۔”

فوراً بوڑھے لگڑبگھے نے انہیں روکا اور کہا ’’بھائیو اور بہنو! اب ڈرو مت۔ بھیڑیا بادشاہ بزرگ بن گیا ہے۔ اس نے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔ اس کا دل بدل گیا ہے۔ وہ آج سات دن سے گھاس کھا رہا ہے۔ دن رات اللہ کی عبادت اور خیرات میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی ہر جاندار کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اب وہ کسی کا دل نہیں دکھاتے، کسی کے بال تک کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ بھیڑوں سے تو انہیں خاص محبت ہوگئی ہے۔ اس برادری نے جو مشکلات دیکھی ہیں ان کو یاد کرتے ہوئے ابھی بھی بزرگ بھیڑیے کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ ان کی اپنی ہی بھیڑیا برادری کے مظالم کی وجہ سے اس بزرگ بھیڑیے کا سر شرم سے جھکا ہے سو جھکا ہی ہوا ہے۔ لیکن اب وہ اپنی باقی زندگی آپ کی خدمت میں گزار کر اپنے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرے گا۔ ابھی صبح کی ہی بات ہے کہ ایک معصوم میمنے کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا تو بزرگ بھیڑیے نے اسے اپنے دانتوں سے نکال دیا۔ دانتوں سے! لیکن جب وہ غریب بیچارہ تکلیف کی وجہ سے چل بسا تو بزرگ بھیڑیے نے احتراماً اس کی آخری رسومات ادا کیں۔ ان کے گھر کے پاس جو ہڈیوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے اسے عطیہ کرنے کا اعلان آج ہی سویرے کیا۔ اب تو انہوں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے۔ اب آپ کو ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں اپنا بھائی ہی سمجھو۔ سب میرے ساتھ مل کر بولیں، بزرگ بھیڑیا زندہ باد!‘‘

بھیڑیا جی ابھی تک عاجزی کا مجسمہ بنے گردن جھکائے بیٹھے تھے۔ بیچ میں کبھی کبھی سامنے جمع بھیڑوں کی طرف دیکھتے اور ٹپکتی ہوئی رال کو نگل جاتے۔

بوڑھا لگڑ بگھا پھر بولا ’’بھائیو اور بہنو، میں بھیڑیا صاحب سے گذارش کرتا کہ وہ اپنے منہ سے آپ سب کو محبت اور امن کا پیغام دیں، لیکن اس کا دل محبت سے لبریز ہوچکا ہے، وہ چکرا گئے ہیں اور انکا گلا بند ہو گیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ جذبات کی وجہ سے وہ بول نہیں سکتے۔ اب ان تین رنگ برنگی مخلوقات کو دیکھیں۔ ہو سکتا ہے آپ نے انہیں پہچانا نہ ہو۔ پہچانے گے بھی کیسے؟ یہ اس دنیا کی مخلوق ہے ہی نہیں۔ یہ تو جنت کے دیوتا ہیں جو ہمیں اچھی نصیحت کرنے کے لیے زمین پر اترے ہیں۔ وہ ایک پیلے مفکر، شاعر اور ادیب ہیں۔ نیلے جنت کے سماجی کارکن اور صحافی ہیں اور سبز مذہبی عالم ہیں۔ اب محترم شاعر آپ کو آسمانی گیت سنائیں گے۔ ہاں تو شاعر صاحب۔۔۔۔‘‘

پیلے لگڑبگھے کو ‘ ہُوا ہُوا’ کے علاوہ کچھ اور تو نہیں آتا تھا۔ ہُوا ہُوا چلا دیا۔ باقی لگڑبگھے بھی ہُوا ہُوا بول پڑے۔ بوڑھے لگڑبگھے نے ایک آنکھ مار کر باقی لگڑبگھوں کو روکا اور بڑی چالاکی سے یہ کہہ کر معاملہ نمٹا دیا، ’’بھائی، شاعرِ محترم تو کورس میں گیت گاتے ہیں ۔ لیکن کیا آپ لوگ کچھ سمجھے؟ آپ کیسے سمجھ سکتے ہو؟ ارے اگر شاعر کی بات سب کو سمجھ آجاتی تو وہ شاعر کیسے ہوا ؟ ان کی شاعری سے لازوال سر ابھر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جس طرح خدا آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بزرگ بھیڑیا ہے۔ اے بھیڑیا صاحب، آپ تو عظیم ہیں! آپ ظلِ الہٰی ہیں، قادر مطلق ہیں۔ صبحِ نو آپ کے ماتھے پر تلک لگاتی ہے، شام کی روشنی آپ کے چہرے کو چومتی ہے، ہوا آپ کے جسم پر پنکھا چلاتی ہے اور رات کو آپ کی ہی اپنی روشنی ذرہ ذرہ ٹوٹ کر آسمان پر لاکھوں ستارے بن کر چمکتی ہے۔ اے شہنشاہ! یہ چھوٹا آدمی آپ کے قدموں میں سلام پیش کرتا ہے۔‘‘

پھر نیلے لگڑبگھے نے کہا "صرف طاقتور ہی کمزور کی حفاظت کر سکتا ہے۔ بھیڑیں ناتواں ہیں، کمزور ہیں، اپنی حفاظت نہیں کر سکتیں۔ بھیڑیے مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے اپنے مفادات کو ان کے ہاتھ میں چھوڑ دیں اور بے فکر ہوجائیں ، وہ بھی تو آپ کے بھائی ہیں۔ آپ کا تعلق ایک ہی ذات سے ہے۔ تم بھیڑ ہو، وہ بھیڑیا ہے۔ کیا فرق ہے؟ اور غریب بھیڑیے کو غیر ضروری طور پر بدنام کیا گیا ہے کہ وہ بھیڑیں کھاتا ہے۔ ارے کھانے والے اور ہیں، ان کے دروازے پر ہڈیاں پھینکی جاتی ہیں۔ انہیں بلاوجہ بدنام کیا جاتا ہے۔ آپ لوگ تو پنچایت میں بول بھی نہیں پائیں گے۔ بھیڑیا طاقتور ہوتا ہے۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی تو یہ ڈٹ کر بہادری سے لڑیں گے۔ اس لیے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھیڑیوں کو چن کر پنچایت میں بھیجیں۔ بولو بزرگ بھیڑیا زندہ باد!‘‘

پھر سبز رنگ کے مذہبی عالم نے تبلیغ کی، "جو یہاں قربانی دے گا اسے اُس دنیا میں ملے گا۔ جو یہاں غم سہے گا وہ وہاں خوشی پائے گا۔ یہاں جو بادشاہ بنائے گا وہ وہاں کا بادشاہ بنے گا۔ جو یہاں ووٹ دے گا اسے وہاں ووٹ ملے گا۔ تو سب مل کر بھیڑیا کو ووٹ دیں۔ وہ ایک سخی ہیں، نیکوکار ہیں، ایک بھیڑ دوست اور ایک ولی ہے۔ میں اسے سلام پیش کرتا ہوں۔”

یہ کسی ایک بھیڑیے کی کہانی نہیں، یہ تمام بھیڑیوں کی کہانی ہے۔ یہ بات ہر طرف پھیل گئی اور بھیڑوں کو یقین ہو گیا کہ ان کے مفادات کا بھیڑیے سے بہتر کوئی خیر خواہ اور محافظ نہیں۔

اور، جب پنچایتی انتخابات ہوئے تو بھیڑوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھیڑیے کا انتخاب کیا۔

اور پنچایت میں بھیڑوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھیڑیے نمائندے بن کر چلے گئے۔ اور پنچایت میں بھیڑیوں نے بھیڑوں کی بہبود کے لیے پہلا قانون یہ بنایا –

"ہر بھیڑیے کو صبح ناشتے میں ایک نرم بھیڑ کا بچہ، دوپہر کے کھانے کے لیے ایک پوری بھیڑ اور شام کو صحت کی وجوہات کی بنا پر کم کھانا چاہیئے، اس لئے آدھی بھیڑ دی جائے۔”

1922 میں مدہیہ پردیش میں پیدا ہونے والے ہری شنکر پرسائی کو جدید ہندی ادب میں طنز نگاری کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ ہری شنکر پرسائی نے ناگ پور یونیورسٹی ستے تعلیم پائی۔ کچھ عرصہ ملازمت کرنے کے بعد کل وقتی بنیاد پر ادب سے وابستہ ہو گئے۔ وہ براہ راست اور سادہ انداز میں کاٹ دار طنز کے لئے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ہندی ادب میں طنز نگاری کا انداز ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ 1982 میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہری شنکر پرسائی 1995 میں پرلوک سدھار گئے۔

” بھیڑیں اور بھیڑیے” کے عنوان سے ہری شنکر پرسائی کی اس تحریر کو اشفاق دستی نے اردو کا روپ دیا ہے۔

Facebook Comments HS