عمر سیف الدین
ترک ادب میں مختصر کہانیوں کے بانی، عمر سیف الدین (Ömer Seyfettin) ایک معروف ادیب اور شاعر تھے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے فوجی تھے اور سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کا حصہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ویٹرنر ڈاکٹر، استاد اور ماہر لسانیات بھی تھے۔ لکھنا ان کا شوق تھا خاص طور پہ مختصر کہانیاں اور داستانیں لکھنے کے وہ ماہر ادیب تھے۔ ان کی مختصر کہانیاں بہت مشہور ہیں اور ترک زبان و ادب میں وہ داستان گوئی میں سر فہرست ہیں۔
آپ نے 150 سے زیادہ داستانیں اور کہانیاں لکھی ہیں جن کا 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
وہ 11 مارچ 1884 کو ترکیہ کے شہر بلکسر میں پیدا ہوئے اور 35 سال کے مختصر عمر میں 6 مارچ 1920 کو وفات پا گئے۔ آپ کو استنبول میں دفنایا گیا۔
آپ کے والد عمر شوکی بے بھی سلطنت عثمانیہ کی فوج میں شامل تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے محلے کے سکول سے کیا۔ بعد میں والد کی تعیناتی کی وجہ سے استنبول میں مقیم ہوئے اور یہیں 1893 میں آپ نے عسکری سکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ویٹرنر کی بھی تعلیم لی۔
زمانہ طالب علمی سے ہی آپ نے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ آپ کی چند مشہور تصانیف یہ ہیں ؛
عفت
بہار
اونٹ
ہدیہ
مرغ
صفحہ شام
اصل زادے
جسارت
تنہا ایفہ
ناموس
پری منزل
دیت
سر نہ دینے والا شہید
گھوڑا
بالکونی
خفیہ معبد
حرم
گلابی ملائم خلعت
ثبات
تین نصیحتیں
بہار اور تتلیاں
ترک بچہ پریمو
ہمارے اصحاب کہف
گرز
فرمان
وغیرہ آپ کی مشہور کہانیوں کی کتب ہیں۔
ترک ادب میں آپ کی داستان نویسی خاص طور پر مختصر کہانیاں لکھنے میں مقام بہت نمایاں ہے اور آپ اس صنف میں سر فہرست ہیں۔
آپ نے اپنی کہانیوں میں بہت سادہ اور عام فہم زبان استعمال کی ہے۔ آج بھی آپ کی کہانیوں کی کتب سکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں اور کتب خانوں میں موجود ہیں۔
سلطنت عثمانیہ کی فوج کا حصہ ہونے کے ناتے آپ نے بہت سی جنگوں اور محاذوں میں حصہ لیا۔ بلقان اور طرابلس کی لڑائیوں میں بھی موجود رہے اور پہلی جنگ عظیم میں بھی کارنامے سر انجام دیے۔ آپ سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کا حصہ تھے جو مختلف جگہوں پر تعینات رہے۔
سب سے پہلے آپ کے اشعار اس وقت کے مجلہ ”مجموعہ ادبیہ“ میں شائع ہوئے۔ اسی دور میں 13 اپریل 1902 کو مجلہ ”صباح“ میں آپ کی پہلی کہانی شائع ہوئی۔
آپ نے عسکری خدمات مختلف علاقوں جن میں ازمیر، سلانیک اور بلقانی ریاستیں وغیرہ شامل ہیں۔ فوجی خدمات کے سلسلے میں آپ کو بہت سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ آپ ازمیر کے عسکری سکول میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ اس دوران آپ کی ملاقات مختلف ادیبوں سے ہوئی۔ فوجی خدمات کے دوران بھی آپ نے کہانیاں لکھنا جاری رکھیں جو اس وقت کے ممتاز مجلوں میں شائع ہوتی تھی۔ 1910 میں آپ نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنے آپ کو ادب اور درس و تدریس کے لیے وقف کر دیا۔ آپ ضیاء گوک الپ سے بہت متاثر تھے۔
بلقانی ریاستوں میں شورش کی وجہ سے آپ کو دوبارہ فوج میں بلا لیا گیا۔ آپ عطینہ، یونان کے قریب 20 جنوری 1913 کو اپنے 21 ساتھیوں سمیت جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ اس دس ماہ کی جنگی قید کے دوران آپ نے اپنی توجہ مطالعے اور لکھنے پر مذکور رکھی۔ آپ یونان میں اسیر رہے۔ اسی قید کے دوران آپ کی کہانیاں شائع ہوتی رہیں جنہیں لوگ بڑی دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ 15 نومبر 1913 کو آپ قید سے رہا ہو کر واپس استنبول آ گئے اور پھر درس و تدریس اور پڑھیں لکھنے میں مشغول ہو گئے۔
”ترک سوزو“ مجلے کا اداریہ بھی آپ لکھتے تھے۔ 1915 میں آپ رشتہ ازدواج سے منسلک ہو گئے لیکن جلد ہی یہ رشتہ منقطع ہو گیا۔ ازدواجی زندگی کے مسائل اور جنگ عظیم اول میں شکست کی وجہ سے آپ بہت پریشان تھے۔ اس کا اثر آپ کی تحریروں اور شخصیت پر بھی پڑا۔ ذہنی طور پر اپنے آپ کو بہتر کرنے کے لیے آپ نے اناطولیہ کا طویل سفر اور سیاحت کی تاکہ اس منفی سوچ اور دور سے باہر نکل سکیں۔ اس دوران آپ نے لکھنا بھی جاری رکھا۔
1917 سے 1920 یعنی اپنی وفات تک آپ نے بہت سی کہانیاں لکھیں۔ تقریباً 10 کتابیں اس دوران شائع ہوئیں اور 125 کہانیاں رقم کیں۔ آپ کی تحریریں باقاعدگی سے اس وقت کے مشہور مجلوں جیسے مجموعہ نو اور نئی دنیا وغیرہ میں شائع ہوتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وقت اور افہام جیسے اخباروں میں بھی آپ کی کہانیاں زینت بنتی رہیں۔ لکھنے لکھانے کے ساتھ آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
23 فروری 1920 کو آپ بیمار ہو کر استنبول کی حیدر پاشاہ ہسپتال میں داخل ہوئے۔ آپ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد 6 مارچ 1920 کو 35 سال کی مختصر عمر میں وفات پا گئے۔ آپ کا مزار استنبول میں ہے۔
آپ کے دوست علی جانب نے آپ کی تحریروں کو یکجا کیا اور کتابی شکل دی۔
کہانیوں کے علاوہ آپ نے شاعری بھی لکھی جس میں ہر طرح کے جذبات اور خیالات پائے جاتے ہیں۔
آپ کی کہانیاں تاریخی، سماجی حربی اور سچے واقعات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ذاتی تجربات پر بھی کہانیاں لکھی ہیں۔ آپ نے روزمرہ کی زبان استعمال کی ہے۔ آپ کی داستانیں حقیقت اور حقیقی واقعات پر مبنی ہوتی ہیں اور آپ نے منطقی انداز اپنایا ہے اور اپنی کہانیوں کا اختتام بہت حیران کن موڑ پر لا کر کرتے ہیں۔
آپ کی سوانح آپ کے دوست علی جانب کی طرف سے ”عمر سیف الدین اور حیات“ کے نام سے 1935 میں شائع ہوئی۔
اقوال
نمبر 1 : ایک عارف کا علم ہزار عالموں سے بہتر ہے۔
نمبر 2 اپنی آنکھوں میں یورپ کی عظمت کو اس قدر مت بڑھائیں کہ آپ کو اپنی تہذیب و ثقافت بالکل چھوٹی نظر آئے۔
نمبر 3 : سب سے پہلے اپنے آپ کو پھر دوسروں کو جاننے کی کوشش کریں۔
نمبر 4 : اس دنیا کی مصیبتوں میں ایک بڑی مصیبت یہ خواہش ہے کہ زندگی آسائشوں سے بھرپور ہو۔
نمبر 5 : جب سب بی وقوف بن جائیں تو چند عقلمندوں کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔
نمبر 6 : اس دنیا سے بڑا پر عذاب مزار کہیں نہیں ہے۔
نمبر 7 : جب آپ کا پیٹ خالی اور ذہن خیالات سے بھرپور ہو تو روشن افکار پروان چڑھتے ہیں۔
نمبر 8 : ہر انسان ایک پہیلی اور معمہ ہے۔
نمبر 9 : جو قوم کے لیے مرتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
نمبر 10 : شان و شہرت فقط ایک سائے کی مانند ہے۔ آپ اس کے پیچھے بھاگیں گے تو وہ آگے آگے بھاگے گا اور جو اس سے جان چھڑا کر آگے جاتے ہیں شہرت اس کے پیچھے پیچھے سائے کی طرح آتی ہے۔
نمبر 11 : شاعر اور ادیب قوموں کو غفلت کی نیند سے جگاتے ہیں۔
نمبر 12 : شہر کی زندگی بھی ایک طرح کی اسیری کی زندگی ہے۔




