عام انتخابات اور جمال آگیں ”عامیانہ“ خطابات


یادش بخیر آمر ضیاء نے ایک بدنام زمانہ یا کمال ہنر کا شہکار ریفرنڈم کروایا تھا۔ اس میں ووٹرز سے کیے گئے بنیادی سوال پر آج تک کا کالمز اور کتابیں لکھی جاتی ہیں اور جگتیں کسی جاتی ہیں، اور بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ریکارڈ کی کامل مطابقت کے لیے یہ بھی لکھنا واجب ہے کہ سوال کرنے والے تو جیسی تیسی جمہوریت میں بھی اٹھوائے جاتے ہیں۔ آمر جو نا ضیاء تھا نا ہی حق مگر نصیب کی مسخرگی کا درجہ اتم غالباً یہی ہو سکتا ہے کہ ان کا نام ضیا الحق تھا۔ ان کے عہد ظلمت میں کئی اندوہناک حقائق پھر بھی برہنہ ہو جاتے تھے۔

صدیق سالک جو ان کے دست راست بھی تھے اور حاضر سروس برگیڈیر بھی، نے پریشر ککر جیسا ناول لکھ ڈالا۔ شاید وہ ایک ادیب کے طور پر بعد از مرگ زندہ رہنا چاہتے ہوں۔ لیکن بیشتر سویلین اور سمجھداری سے عاری سوچنے والے امن پرست اور ایمان دار لوگوں کو کھل کر بولنے اور لکھنے کی سہولت حاصل نہیں تھی۔ انور مقصود جیسی محدود مستثنیات میری ناقص سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہیں۔ اور یہ ماجرا کبھی نا کھلا کہ وہ کون سا اسم عظم پڑھ کر پی ٹی وی پر جارحانہ و متعصبانہ، ”مزاح“ کو اکثریت اور عسکریت دونوں کے سامنے ہی بلا جھجک اور جھاکا نشر کر دیتے تھے۔

اتنا حبس تھا کہ لو کی دعا مانگتے ہوئے لوگ بھی شہر اقتدار میں ساکن، جوش ملیح آبادی سے ملنے سے کتراتے اور گھبراتے تھے۔ پھر بھی ایک یک سطری راز ”ریفرنڈم پہلے کچھ گھنٹے منصفانہ ہوا پھر آزادانہ ہوا“ کو بطور لطیفہ چند ملی جذبے سے سرشار مگر مالی طور پر قلاش علامتی افسانہ نگاروں یا شرارتی مزاحمتی ادیبوں نے مشہور کیا تھا کہ یہی ممکن تھا اتنی آمریت میں۔ ایسی اور ایسی ویسی کئی آفتوں اور سانحوں پر ہنسنا کم از کم اسلام آباد کی حدود میں تو منع تھا کہ جڑواں بہن پنڈی کا لحاظ مانع بھی تھا اور لازم بھی ) ۔

برسوں کی گردش جاری رہی، صدی تک بدل گئی۔ نا بدلا تو ہمارے چمن ( بلوچستان والا نہیں ) بلکہ وطن کی بات کر رہی ہوں۔ تخت اور تختے کی وہی کہانی ہے۔ بتایا جا رہا کہ جب حکومت ملے گی تو تعلیم، صحت، روزگار پر کام بھی ہو گا۔ بیوہ عورتوں کو (مطلقہ کا ذکر تو ہوتا ہی نہیں ) ، غریبوں کو اور مزدور کو کچھ سہولیات مل جائیں گی۔ سمجھ یہی آ رہا ہے کہ سویرا داغدار ہی رہے گا۔ سماج سازی نہیں ہوگی۔ سٹیٹس کو نہیں تبدیل ہو گا۔ جس کے ہاتھ میں جھاڑو ہے اس کی اگلی سات نسلیں بھی جھاڑو ہی سنبھالنے کے لئے مناسب رہیں گی۔ اشرافیہ اور غیر اشرافیہ کا فرق قائم رہے گا۔ لہجے کی شہنشاہیت اور رعونت کو محکومیت کی مجبوریاں نظر انداز کر دیتی ہیں۔

جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی۔ یہیں عذاب و ثواب ہو گا۔ یہیں سے اٹھے گا شور محشر۔ یہیں پہ روز حساب ہو گا

کسی نے فیض کے یہ مصرعے نہیں پڑھے کہ بنیاد پرستی پر اب صرف بنیاد پرستوں کی اجارہ داری نہیں رہی۔ اور شاید یہ بھی ہو کہ ملک میں توانائی کی کمی ہے اور سٹنٹنگ کی فراوانی تو بہت سی کرتب بازیاں سولر پینلز لگنے کے بعد ہی نظر آنے لگیں۔ فی الحال تو عام انتخابات کے پر مسرت دن کے لئے جمال آگیں عامیانہ خطابات کا بازار گرم ہے۔ 8 فروری کو ہم بھی دیکھ لیں گے کہ کس کس کے پرزے اڑتے ہیں۔ جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو۔ اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا

 

Facebook Comments HS