بھٹو زندہ ہے لیکن پیپلز پارٹی؟
4 اپریل 1979 کو جب راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں جلاد تارا مسیح سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گلے میں پھانسی کا پھندا کس رہا تھا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ طبعی موت کے باوجود بھٹو پاکستان کی سیاست میں آئندہ آنے والی کئی دہائیوں میں ایک استعارہ بن جائے گا اور پاکستان کی سیاست بھٹو کے حامیوں اور بھٹو کے مخالفین میں تقسیم ہو جائے گی۔
بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کی سزا کے خلاف معافی کی درخواست مسترد کرنے والے جنرل ضیاءالحق کا سیاسی جانشین بننے والے میاں محمد نواز شریف اب اپنی سیاست کو نہ صرف پیپلز پارٹی سے جوڑ چکے ہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی جانشین مریم نواز شریف لاڑکانہ کے نواح میں واقع گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں حاضری دے کر بھٹوز کی سیاست کو پاکستان کے مفاد کی سیاست قرار دیتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھٹوز کے کردار کا اعتراف کر چکی ہے۔
سندھ کے اہم سیاسی مرکز لاڑکانہ میں پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کا آغاز فیلڈ مارشل ایوب خان کی کابینہ کے ایک وزیر کے طور پر کیا لیکن پھر جب حالات نے ایوب خان کو کمزور کر دیا تو بھٹو 30 نومبر 1967 کو پنجاب کے شہر لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نعرہ تھا، اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، سوشل ازم ہماری معیشت ہے۔ اس نعرے پر کبھی عمل ہو سکا یا نہیں لیکن بھٹو کی کرشماتی شخصیت نے پاکستان کے غریب طبقے کو اپنی جانب کھینچ لیا۔
اگلے تین سال میں پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی اور کہا گیا کہ ”بھٹو کھمبے کو بھی ٹکٹ دے گا تو وہ جیتے گا“ اور عملی طور پر ایسا ہی ہوا کہ ملک کے بڑے جاگیرداروں کے مقابلے میں عام سیاسی کارکن اور دانشور اور وکلاء میدان میں اترے اور میدان مار لیا۔ وفاق کے علاوہ سندھ اور پنجاب میں پیپلز پارٹی نے حکومتیں بنا لیں لیکن بھٹو کی پارٹی کی چاروں صوبوں میں موجودگی نے اسے پاکستان کی زنجیر بنا دیا۔
بھٹو نے پاکستان کو 1973 کا متفقہ آئین دیا اور اس آئین کی منظوری کے لیے اس نے اپنے کٹر مخالفین کے نخرے برداشت کیے اور ان کے جائز و ناجائز مطالبات تسلیم کیے۔ بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاؤس کی نیٹ پرافٹ کا ایک خاص تناسب صوبائی حکومت کو دینے کے حوالے سے خان عبدالولی کا مطالبہ بھی بھٹو نے تسلیم کر لیا۔ بھٹو کی کوششوں سے ہی مولانا مفتی محمود، پروفیسر عبدالغفور احمد اور خان عبدالولی خان جیسے قد آور قومی رہنماؤں نے 1973 کے آئین پر دستخط کیے اور اس کو ایک قیمتی، قومی دستاویز میں تبدیل کر دیا۔
جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی سیاست سے بھٹو کے اثرات ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو توڑ کر غلام مصطفے ٰ جتوئی کی سربراہی میں نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی جس میں غلام مصطفیٰ کھر اور حنیف رامے بھی شامل تھے۔ این پی پی کسی بھی طرح عوام کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی اور کچھ ہی عرصے میں اس کے دو ٹکڑے بھی ہو گئے اور این پی پی کھر گروپ کے نام سے نیا دھڑا بن گیا۔ پیپلز پارٹی سے الگ ہونے والے بھٹو دور کے وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی نے پروگریسو پیپلز پارٹی قائم کی لیکن یہ سوائے مولانا کوثر نیازی کے ذات سے آگے نہ بڑھ سکی۔
بے نظیر بھٹو کی 1986 میں پاکستان واپسی نے پیپلز پارٹی میں نئی جان ڈال دی اور بے نظیر نے پارٹی سے الگ ہونے والوں کو ”انکلز“ کا نام دیا جو وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھوتے چلے گئے۔
بے نظیر بھٹو کے لیے بڑا چیلنج خود ان کے اپنے بھائی مرتضی بھٹو کی طرف سے قائم کردہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو کا قیام تھا لیکن بے نظیر کی وزارت عظمیٰ کے دور میں کراچی میں 70 کلفٹن کے گھر کے قریب پراسرار حالات میں مرتضی بھٹو کی موت نے جہاں ایک طرف کئی سوالات کھڑے کیے وہاں بے نظیر بھٹو کے راستے کی بڑی رکاوٹ بھی دور کر دی۔ اب شہید بھٹو پیپلز پارٹی کی سربراہ مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو ہیں جبکہ ان کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر ایک ثقافتی سفیر کا روپ دھار چکا ہے جبکہ بیٹی فاطمہ کتابیں لکھتی اور شاعری کرتی ہے۔
1988 کے عام انتخابات میں انتخابی نشانات کی فہرست سے الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کا روایتی انتخابی نشان تلوار ختم کر دیا تو بے نظیر بھٹو نے تیر کا انتخابی نشان حاصل کر لیا جو جارح دشمن کو نشانہ بنانے کی علامت تھا۔ ان عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو پاکستان کے عوام نے بھٹو کی قربانی کا ووٹ دیا۔ 1993 میں بے ”بے نظیر بے قصور“ کے نعرے نے کامیابی دلا دی۔ اس سارے عرصے میں باوجود نواز شریف کی بھر پور مخالفانہ سیاست کے بھٹو کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا اور پارٹی کے جیالے ڈھول کی تھاپ پر ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نعرے لگا کر خون پسینہ ایک کرتے رہے۔
2002 کے الیکشن میں جنرل مشرف نے بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی پر پابندیاں عائد کیں تو پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم کی قیادت میں پارٹی نے نئے نام سے انتخابات میں حصہ لیا۔ لیکن بعد ازاں جنرل مشرف کے دباؤ پر پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز پیٹریاٹس کے نام سے دھڑا قائم کر کے پیپلز پارٹی کے کئی سینئر رہنما مشرف حکومت کا حصہ بن گئے جن میں راؤ سکندر اقبال اور فیصل صالح حیات نمایاں تھے۔
بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007 میں لیاقت باغ میں بم دھماکے کے نتیجے میں شہادت کے بعد ایک متنازعہ وصیت کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو زرداری خاندان کی گود میں ڈال دیا اور 2008 میں پیپلز پارٹی کو اقتدار کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔
ہر مشکل اور آزمائش میں مقابلہ کر جانے والی پیپلز پارٹی آج اس رنگ ڈھنگ میں نظر نہیں آتی۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نظریات پر قائم کی جانے والی پارٹی اپنے آخری دور اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کے طور پر کام کر کے ہی پانچ سال پورے کر سکی۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ پاکستان کی سیاست کا یہ اثاثہ کیوں لگتا ہے کہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
2013 اور 2018 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی صرف ایک صوبے سندھ تک محدود ہو گئی لیکن ہر گزرتے لمحے اس کے لیے چیلنجز بڑھتے چلے گئے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور تشویش کی بات یہ ہے کہ 2024 کے متوقع الیکشن میں پارٹی کو سندھ کے اندر بھی سنگین سیاسی چیلنجز درپیش ہیں۔
پنجاب میں خود مسلم لیگ نون کی بھی جڑیں پی ٹی آئی کی اندھی مقبولیت نے کھوکھلی کر دی ہیں لیکن پھر بھی نواز شریف کے پاس واپسی کے راست تلاش کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن پاکستان کی سیاست میں سرگرم سب سے قدیم کو نظریاتی پارٹی ہونے کا دعویٰ رکھنے والی جماعت کے حوالے سے سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں بھٹو ابھی تک زندہ ہے لیکن پیپلز پارٹی؟


