دوست نما دشمن


دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں
دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

ایران کو عالمی سطح پر پابندیوں کا سامنا ہے، اس وجہ سے پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے امریکہ میں ایران کی جگہ سفارتکاری کرتا آ رہے ہے۔

اس پس منظر میں اہم سوال یہ ہے کہ ایک ایسا ملک (ایران) جس کی پاکستان عالمی سطح پر سفارتکاری کرتا آیا ہو اس نے کیسے اور کن وجوہات کی بنا پر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی اور غیرمتوقع محاذ کھول دیا؟

دہشت گردوں کی تنظیم جیش العدل جس کو سامنے رکھ کر پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی گئی ہے کو پاکستان اور ایران دونوں ہی اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور ماضی میں دونوں ممالک ایسے گروہوں کے خلاف کارروائیاں بھی کرتے رہے ہیں۔ جنداللہ جو اب جیش العدل ہے، کے سربراہ عبدالمالک ریگی کی گرفتاری بھی پاکستان کی انٹیلی جنس شیئرنگ سے عمل میں لائی گئی تھی، جب متحدہ عرب امارات سے عبدالمالک ریگی کرغزستان کے لیے طیارے پر جا رہے تھے تو ایران نے اس طیارے کو ایران میں ہی اتار کر اس سے عبدالمالک ریگی کو گرفتار کر لیا اور دو ماہ میں پھانسی بھی دے دی۔

دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔

دوست جب دشمنی کرے تو زیادہ محتاط ہو جانا چاہیے۔ ایران پاکستان دوستی بہت پرانی ہے مگر پچھلے دنوں ایران نے تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی بلا اشتعال فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت ہے جسے چھپانے کے لیے جیش العدل کی فیک اور جھوٹی اسٹیٹمنٹس کا سہارا لیا گیا۔

اس طرح کی یک طرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران کا یہ خیال کے پاکستان اس واقعہ کو کسی بھی صورت نظر انداز کرے گا اس کی بہت بڑی بھول ہے۔

پاکستان نے بلوچستان پر حملے کے جواب میں آپریشن مرگ بر سرمچار کے ذریعے ایران کو جواب دے تو دیا ہے مگر نہایت افسوس کے ساتھ ایران پاکستان کو اس معاملے میں کانفیڈنس میں لے سکتا تھا مگر اس اچانک حملے نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے جس کے بعد اب پاکستان ہائی الرٹ پر ہے اور یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد ایران کیا ردعمل دے یا سفارت کاری کے ذریعے معاملہ سلجھایا جائے گا۔

پاکستان کے لیے ایران کا حملہ حیران کن تھا، ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے ایک سرحدی گاؤں ’سبزکوہ‘ میں رہائشی علاقے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی جانب سے کی گئی اس ’غیر قانونی‘ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔ اس حملے میں کسی تنظیم کے کارکنوں کے مرنے کی شہادت نہیں ملی یعنی یہ حملہ بھی رائے گا گیا اور ایک اچھے دوست ملک کا ساتھ بھی گیا۔

پاکستان آج بھی امن کا حامی ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ پاکستان یہ جانتا ہے کہ جنگ مذاق نہیں۔ دو ممالک کی دشمنی پوری دنیا کے لیے امتحان ہے۔ دوستی اور امن سے جو معاملات حل ہو جائیں وہ ہر خطے کے لیے فائدہ مند ہے۔

Facebook Comments HS