سندھو دیش کی راج کماری سوریا، بنت داہر (ناول) میں
بنت داہر، دو لفظوں کی جڑت ہی نہیں، بلکہ دو تہذیبوں کی ایسی داستان ہے جس کے ہم سب صدیوں سے اسیر ہیں۔ یہ دو رویوں کی کہانی ہے جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے۔ یہ دو سوچوں کے دھارے ہیں جو دریا کنارے پھلتے پھولتے تمدن کی روانی اور صحرائی معاشرے کی شدت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ دو تصور کائنات ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں رواں دواں ہیں۔
فاتح اور مفتوح کے درمیان ہونے والا یہ مکالمانہ ناول دو تصورات خدا پر مبنی ہے جس میں ایک کا خدا قادر مطلق ہے جو اپنے اختیارات تقسیم کرنا پسند نہیں کرتا جبکہ دوسرے کا خدا، خدائے مطلق ہرگز نہیں ہے اور اپنے اختیارات تقسیم کرنا پسند کرتا ہے۔ یہ دو تصور انسان کی حکایت ہے جس میں ایک کا ماننا یہ ہے کہ خدا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان خدائی صفات اپنا کر ان جیسے ہو جائیں جبکہ دوسرے کے مطابق بھگوان اس لیے نہیں ہوتے کہ لوگ ان جیسے بن جائیں بلکہ بھگوانوں کے کردار لوگوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔
یہ دو تصور عبادات کی افسانہ نگاری ہے جہاں سندھ دھرتی کے باسی بتوں کی حیثیت کو ایک رابطے کے ذریعے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے اور جہاں مورتیاں پرستش کے لئے نہیں بلکہ تعظیم کے لئے ہوتی ہیں اور دوسری طرف ’دور جاہلیت‘ کا عرب بتوں کو ہی طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ یہ دو دھرتیوں کی تصویر کشی ہے جہاں ایک پرتھوی میں تو بہت سارے دھرموں کے ماننے والے مل جل کر رہ سکتے ہیں جبکہ دوسرے قطعہ زمین میں ایک مخصوص مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے ماننے والوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ دو مذہبوں کی روداد ہے جس میں ایک کو اپنی کتاب آسمانی ہونے پر فخر ہے جبکہ دوسرے کو زمین زادے ہونے کے ناتے اپنی کتابیں زمینی ہونے پر ناز ہے۔ یہ دو سماجوں کی کہانی ہے جس میں ایک معاشرے کو دوسروں کے مذاہب زبردستی بدلنے کی لت ہے جبکہ دوسرے سماج میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو امن اور شانتی کی ضمانت کے ساتھ پناہ حاصل ہے۔ یہ دو طرز حکومت ہیں جس میں ایک کا دامن توسیع پسندی کے سیاسی و معاشی عزائم سے بھرپور کانٹوں سے لیس ہے اور دوسری تہذیب کے آنچل میں امن و آشتی کے پھولوں کے سوا کچھ نہیں۔
یہ ناول نما تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حملہ آور انتہا پسندوں کا یا تو کوئی مذہب نہیں ہوتا یا پھر انتہا پسندی بذات خود ایک مذہب ہے جس کو کوئی بھی کسی اور مذہب کو ماننے والے جب اپناتا ہے تو یہ دو دھاری تلوار بن کر قہر برساتا ہے۔ جہاں راج کماری بتاتی ہے کہ آج تک جتنے بھی اوتار اور بھگوان آئے ان پر سب سے زیادہ ظلم ان کے ماننے والوں نے ہی ڈھائے۔ اصل خرابی دھرم میں نہیں ہوتی اور نہ اس بات میں ہوتی ہے کہ دھرم کی شکل پہلے جیسی نہیں رہتی۔ وچار بدلنے میں کوئی خرابی نہیں۔ ہمارا جسم اور شریر بھی تو سدا ایک جیسا نہیں رہتا لہذا وقت کے ساتھ ساتھ وچار بدل جائیں تو کیا پتہ۔ خرابی تب ہوتی ہے جب دھرم کو راج نیتی یا طاقت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے اور اس مقصد کے لئے بے گناہ انسانوں کے خون کے دریا بہانے کو ثواب کا کام سمجھا جاننے لگے۔
یہ دو ثقافتوں کی کہانی ہے جس میں ایک ثقافت عورت کو بے جا ڈھکنے کی حمایت کرتی ہے جبکہ دوسری ثقافت عورت کے حسن کو سراہنے کی۔ جس میں ایک تہذیب کا رویہ یہ ہے کہ وہ عورت اور مرد کی ٹانگوں کے بیچ تخلیق کے محرک اعضا ء کو ”شرم گاہ“ کا نام دیتی ہے جبکہ دوسری تہذیب اسے ہر مرد اور عورت کے نکلنے کی جگہ مانتے ہوئے اسے مقدس جانتی ہے اور اس بات پر ناز ٰ کرتی ہے کہ شرم تو انسانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناگوار رویے سے ہونی چاہیے، اعضا ء سے نہیں۔
جس میں راج کماری بتاتی ہے کہ انسان کو بنانے والی قوت نے مرد سے انصاف نہیں کیا۔ قدرت نے عورت کے انگ انگ اور پور پور میں جنسی توانائیوں کی چنگاریاں پھوٹنے کے لئے رکھ چھوڑی ہیں جبکہ مرد کی توانائی اور نشاط صرف اس کی ناف کے نیچے ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک اس کے جسم سے مادہ حیات ابل کر باہر نہ نکل آئے۔ راج کماری، ابن قاسم کو بتاتی ہے کہ لنگم ہماری تہذیب میں زرخیزی کی علامت ہے جو ہماری عمارتوں میں کہیں نہ کہیں ایک ستون یا مینار کی شکل میں ضرور مل جائے گا اور یونی تخلیق کی ایک پر اسرار وادی۔ اسی لنگم اور یونی کے ملاپ کے بنا کوئی انسان بھی اس دھرتی پر نہیں آ سکتا۔ تو یہ مقام، مقام فخر ہوا یا مقام شرم۔
راج کماری مزید بتاتی ہے کہ ہماری دھرتی ماں اور عورت ایک ہی جیسی ہیں، دونوں کی کوکھ سے زندگی پنپتی ہے۔ عورت کئی طاقتوں کا دھارا ہے جس سے ہر طرح کی شکتی پھوٹتی ہے۔ ہمارے ہاں عورت کے جسم سے نہیں بلکہ اس کی روح سے ملاپ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اگر انسان تمام مخلوقات سے برتر ہے تو انسانوں کو جانوروں کی طرح ملاپ کرنا زیب نہیں دیتا جو بس عجلت میں ملاپ کر کے ہٹ جاتے ہیں۔ عورت کے جسم میں لگی مہا بھارت سے عورت اکیلی ہی نبرد آزما کیوں ہو، اس کے مرد کو بھی اس یدھ کو لڑنے میں عورت کی مدد کرنی چاہیے۔
بنت داہر (ناول) دو تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ہے۔ یہ ایک جدید مذہب کے ماننے والے فاتح مرد (محمد بن قاسم) اور جدید و قدیم سب مذاہب کو سراہنے والی مفتوح عورت (راج کماری سوریا) کے مابین ہونے والی گفتگو کی جھلکیاں ہیں۔ ہم اسے پدرانہ معاشرے کا مادرانہ طرز معاشرت سے زبردستی کا ملاپ کہہ سکتے ہیں۔ ہم اسے سندھ اور عرب کی کہانی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم اسے عجمیوں کی عریبوں پر تہذیبی برتری کہہ سکتے ہیں۔ ہم اسے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ ناول صرف اور صرف مفتوح کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ اور مفتوح کے ہاتھوں فاتح کے تخت و تاج اچھالے جانے کی عکاسی میں نے بذات خود ناول کے مصنف صفدر زیدی کی زبانی عکس پبلیکیشنز، لاہور کے دفتر میں پچھلے برس کے دسمبر کی ایک سرد ترین رات میں دیکھی۔ اور بقول فیض احمد فیض۔
اے ظلم کے ماتو لب کھولو چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا کچھ دور تو نالے جائیں گے


