ترقی کا سفر معکوس


لاکھوں جانوں اور سینکڑوں عصمتوں کی قربانی دے کر زمین کا یہ ٹکڑا رب لم یزل سے اس عہد کے ساتھ حاصل کیا گیا کہ ہم اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے۔ جب تک ہم اس عہد پر قائم رہے تائید و نصرت ربی بھی ہمارے ساتھ رہی اور ہم ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔ یہ ساٹھ کی دہائی کا وہ دور تھا جب جنوبی کوریا جیسے ترقی پذیر ملک نے اپنا وفد یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ پاکستان ترقی کے سفر پر بگٹٹ کیسے ہے۔ آج وہی جنوبی کوریا ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل اور ہم ڈیفالٹ کے دہانے پر ۔ صورت حال یہ کہ ہمارے ریلوے اور سٹیل مل جیسے منافع بخش ادارے شدید خسارے میں اور پی آئی اے بستر مرگ پر ۔ یوں تو یہ کہہ دینا بہت آسان ہے کہ یہ سب کچھ مارشل لاؤں کا کیا دھرا ہے۔ تلخ حقیقت مگر یہ کہ صرف آمریتوں ہی نے نہیں، جمہوری آمریتوں نے بھی اس بربادی میں حصہ بقدر جثہ ڈالا۔

ہمارے خیال میں ترقیٔ معکوس کا سفر اس وقت شروع ہوا جب ستر کی دہائی میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صنعتی اور تجارتی منافع بخش منصوبے قومی ملکیت میں لینے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو پر دباؤ ڈالا۔ پھر ایک دن جب ہم سو کر اٹھے تو پتہ چلا کہ ارض وطن کی ہر شے قومی ملکیت میں لے لی گئی ہے جس میں تمام کارخانے، فیکٹریاں، تعلیمی ادارے، بینکس، کارپوریشنز، حتیٰ کہ چاول چھڑنے کی چھوٹی چھوٹی چکیاں تک شامل تھیں۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے یہ طرفہ تماشا دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے پرائمری سکولوں کے مالکان نے ریکارڈ میں گڑبڑ کر کے اپنے آپ کو 18 ویں اور 19 ویں گریڈز کا پرنسیپل بنا لیا۔ ”کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا“ کے مصداق پیپلز پارٹی کے سوشلسٹ بزرجمہروں نے سویت یونین اور چین جیسی سوشلسٹ حکومتوں کی پیروی میں یہ سب کچھ بھٹو سے کروایا۔ باوجود اس کے کہ قومیائی گئی یہ پالیسی بری طرح ناکام ہوئی اور ہم ”ڈی نیشنلائزیشن“ کی طرف پلٹ گئے لیکن ملک سنبھل نہ سکا اور آج یہ حالت کہ ہر شے رو بہ زوال۔

وہ پی آئی اے جس کا نعرہ ”باکمال لوگ، لاجواب سروس“ تھا آج ایڑیاں رگڑ رہی ہے۔ یہ وہی سروس ہے جس نے 1960 ء میں ائرمارشل نور خاں کی قیادت میں بوئنگ 707 خریدا اور یہ جٹ طیارہ استعمال کرنے والی ایشیاء کی پہلی ائرلائن قرار پائی۔ یہی وہ ائرلائن ہے جس کی کراچی کی تربیت گاہ میں سنگاپور، ایمریٹس، مالٹا اور جارڈینین ائرلائنز کے پائلٹس تربیت حاصل کرنے آیا کرتے تھے۔ یہ پی آئی اے ہی تھی جو اپنے عروج کے زمانے میں اپنے طیارے غیرملکی فضائی کمپنیوں کو لیز پر دیا کرتی تھی۔

یہ پہلی ایشیائی غیر کمیونسٹ ائرلائن تھی جس نے 1964 ء میں کمیونسٹ چائنا کے لیے اڑان بھری اور امریکہ، یورپ کے لیے براہ راست پروازیں شروع کیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ وہی ائرلائن ہے جس نے دنیا کی بہترین ائرلائن ایمریٹس کو کھڑا کیا۔ جب 1985 ء میں ایمریٹس ائرلائن نے دبئی سے کراچی تک پہلی اڑان بھری تو اس کے دونوں پائلٹ اور فضائی میزبان پاکستانی تھے۔ اس پرواز کا کو ڈنیم EK تھا جس میں E سے مراد امارات اور K سے مراد کراچی تھا۔

آج بھی ایمریٹس کے جہازوں پر لکھا EK ہمیں ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ غیرملکی ائرلائنز کے پائلٹس کو تربیت دینے والی اس ائرلائن پر ماضی قریب میں وہ دردناک لمحہ بھی آیا جب پوری دنیا نے ہمارے پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا۔ قصور غیرملکیوں کا نہیں ہماری اپنی جمہوری حکومت کا تھا۔ ہمارے وزیر ہوابازی نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ بیان دیا کہ ہمارے پائلٹس کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں تو دنیا نے انہیں گراؤنڈ تو کرنا ہی تھا۔ آج دنیا کو لیز پر جہاز دینے والی اس ائرلائن کے پاس اتنے جہاز ہیں نہ لیز پر جہاز لینے کے لیے اتنا پیسہ جس سے وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔

پی آئی اے کی بربادیوں میں سب سے بڑی وجہ سیاسی مداخلت ہے۔ اس کی انتظامیہ ہمیشہ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کی جاتی رہی اور ایسے من پسند افراد بھی بھرتی کیے گئے جن میں اتنی صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ اس ائر لائن کو منافع بخش بنا سکیں۔ پی آئی اے میں سیاسی بنیادوں پر ہزاروں افراد بھرتی کیے گئے جو آج بھی اس پر بوجھ ہیں۔ یہی حال کراچی سٹیل مل کا بھی ہوا۔ اس کی طرف توجہ تو کسی نے نہیں دی البتہ بیشمار سیاسی بھرتیاں کر کے اسے تباہی کے دہانے پرلا کھڑا کیا۔

1956 ء میں پہلی بار روسی حکومت نے پاکستان میں سٹیل مل لگانے کی پیشکش کی۔ 1968 ء میں ایوب خاں کی حکومت نے پاکستان سٹیل مل کو بطور نجی کمپنی رجسٹرڈ کیا اور 1973 ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا افتتاح کیا۔ 1981 ء میں سٹیل مل میں پیداوار کا آغاز ہوا۔ یہ منصوبہ 27 ارب 77 کروڑ کی لاگت سے تیار ہوا۔ اپنے قیام سے 2004 ء تک سٹیل مل خسارے میں چلتی رہی جس کی واحد وجہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ذاتی مفاد تھی۔ اس دوران 2004 ء ہی میں جنرل (ر) عبدالقیوم کو سٹیل ملز کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

جنرل عبدالقیوم چونکہ 5 سال تک آرڈیننس فیکٹریز کے سربراہ رہ چکے تھے اس لیے ان کے پاس تجربہ بھی تھا اور صلاحیت بھی۔ صرف انہی کے دور میں سٹیل مل اپنے تمام قرضے اتارنے کے بعد 10 ارب منافعے میں تھی۔ جب پرویز مشرف نے اس کی نجکاری کا فیصلہ کیا اس وقت سٹیل ملز کے پاس 6 ارب روپے کی تیار مصنوعات، اسی مالیت کا خام مال اور 10 ارب روپے کے اکاؤنٹ موجود تھے۔ آمر پرویز مشرف نے 22 ارب روپے مالیت کی سٹیل ملز کو 21 ارب 68 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔

قیمت فروخت میں صرف پلانٹ ہی شامل نہیں تھا بلکہ 22 ارب کے اثاثوں کے علاوہ ساڑھے 4 ہزار ایکڑ زمین، 18 ریلوے انجن، 72 کلومیٹر ریلوے ٹریک، 110 کلومیٹر سڑکیں اور رہائشی کالونی سٹیل ٹاؤن شپ بھی شامل تھی۔ یہ سب دیکھتے ہوئے جنرل عبدالقیوم نے استعفیٰ دے دیا۔ اس نجکاری کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر ہوا اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے نجکاری کو کالعدم قرار دے دیا جس پر پرویزمشرف نے چیف جسٹس کو معزول کر دیا۔ اس معزولی کے خلاف وکلاء تحریک چلی، باقی تاریخ ہے۔

جو حال پی آئی اے اور سٹیل ملز کا ہوا وہی پاکستان ریلوے کا بھی ہوا۔ وہاں بھی سیاسی بھرتیوں اور ذاتی مفاد نے ریلوے کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ کالم کا دامن تنگ اس لیے ریلوے کا نوحہ پھر کبھی۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان اداروں کی بربادی میں صرف مارشل لاؤں ہی نے نہیں، برسراقتدار سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور حصہ ڈالا۔ آج اگر ہمارا خزانہ خالی، معیشت کا پہیہ جام، پٹرولیم مصنوعات اور گیس کی کمیابی، مہنگائی کا عفریت اور ڈیفالٹ کے خوف سے لرزہ براندام معیشت کا سامنا ہے تو اس میں قصور اپنا ہی ہے۔ رب کائنات نے تو ہمیں لہلہاتے کھیت، گنگناتی ندیاں، فلک بوس پہاڑ، سونا اگلتی زمینیں اور زمین میں تہ در تہ چھپے معدنی خزانے عطا کیے لیکن ہم اس علیم و خبیر کی غلامی ترک کر کے در غیر پہ سجدہ ریز ہو گئے۔ نتیجہ یہ کہ اب ہمارے ہاتھ میں کا سۂ گدائی اور ہم در در کے بھکاری۔

Facebook Comments HS