خواب کی حقیقت


گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی سکول میں کیمپنگ کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں، شہر سے باہر واقع نیشنل پارک میں طلبہ کے لیے کیمپنگ کا انتظام کیا جاتا جہاں انھیں فرسٹ ایڈ، باغبانی اور مختلف نوعیت کی مختصر ٹریننگ کروائی جاتی تھیں۔

حریم اس برس بہت خوش تھی کیونکہ اس کی جماعت کیمپنگ کے لیے جا رہی تھی۔ اس نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر خوب تیاری کی۔ کیمپنگ تین دن کے لیے ہونا تھی اور دو راتیں انھوں نے نیشنل پارک میں خیمے لگا کر رہنا تھا۔

آخر وہ دن آ ہی گیا جس دن سب کو کیمپنگ کے لیے جانا تھا۔ حریم کو اس کے والدین چھوڑنے کے لیے سکول آئے اور حریم کے اساتذہ سے مل کر گئے جو ساتھ جا رہے تھے۔ حریم اپنی سہیلیوں سے مل کر بہت خوش ہوئی اور وہ سب اکٹھے گاڑی میں بیٹھے۔

ایک گھنٹے کا سفر باتیں کرتے کیسے گزرا کسی کو پتہ نہ چلا۔
وہ سب گیارہ بجے پارک میں پہنچ چکے تھے۔ آج کا دن سیرو تفریح کے لیے مختص تھا۔

حریم اور اس کے ہم جماعت، اساتذہ کی نگرانی میں گھومتے پھرتے رہے اور خوب مزے کیے۔ شام سے پہلے ہی وہ کیمپنگ والی جگہ پر واپس پہنچ چکے تھے۔

کچھ ہی دیر میں سب نے مل کر کھانا کھایا اور اس کے بعد اساتذہ بیٹھ کر بچوں کو کہانیاں سنانے لگے۔ کچھ کہانیاں بچوں نے بھی سنائیں، یہاں تک کہ سب کی آنکھیں نیند سے بھر گئیں اور مس اقراء جو سب کی انچارج تھیں انہوں نے سب کو خیموں میں بھیج کر سلا دیا۔

اگلے روز صبح سب ہشاش بشاش اٹھے اور مختصر ورزش کے بعد سب نے ناشتہ کیا۔ ناشتے کے بعد پہلی ٹریننگ فرسٹ ایڈ کی تھی، جس میں سب بچوں نے دلچسپی سے حصہ لیا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد سب سستانے کے لیے کیمپوں میں چلے گئے۔ شام میں دو گھنٹے باغبانی کی ٹریننگ کے بعد بچے جھیل میں کشتی رانی کے لیے چلے گئے۔

رات ہونے سے کچھ دیر قبل سب واپس کیمپوں میں آ گئے۔ آج تھکاوٹ کی وجہ سے سب کھانے کے فوراً بعد سونے کے لیے کیمپوں میں چلے گئے۔

رات کے پچھلے پہر جب سب گہری نیند سو رہے تھے ایک دم چیخوں سے پوری فضا گونج اٹھی۔ مس اقراء اور دیگر اساتذہ فوراً اپنے کیمپ سے باہر آئے، انہوں نے جس کیمپ سے چیخوں کی آواز آ رہی تھی اس طرف دوڑ لگائی یہ حریم اور جائشہ کا کیمپ تھا۔

کیمپ میں داخل ہوتے ہی مس اقراء نے دیکھا کہ حریم کے سر سے خون بہہ رہا ہے اور وہ درد اور خوف سے چیخ رہی ہے اور جائشہ بھی ڈر سے چیخ رہی ہے۔

فوری طور پر حریم کو فرسٹ ایڈ دی گئی لیکن وہ تکلیف کی وجہ سے بے ہوش ہو چکی تھی۔ ایمبولینس آ چکی تھی تھوڑی دیر میں ہی حریم مس اقراء کی نگرانی میں اسپتال پہنچ چکی تھی۔

ڈاکٹروں نے اس کے زخم صاف کرنے کے بعد اسے درد کش انجکشن لگا دیے تھے۔ حریم کے والدین اور سکول انتظامیہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ سب بہت حیران تھے کہ یہ سب آخر ہوا کیسے؟

ادھر کیمپ میں بھی سب پریشان تھے کہ یہ حادثہ کیسے پیش آیا؟
اگلی صبح حریم ہوش میں آ چکی تھی اس کے والدین اور ڈاکٹر صاحب اس کے پاس موجود تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے بہت شفقت سے حریم کو مخاطب کیا۔ حریم بیٹا آپ کو کیا ہوا تھا؟ آپ کچھ بتاؤ گی۔

حریم نے ہچکچاتے ہوئے بولنا شروع کیا، ڈاکٹر انکل میں خود حیران ہوں کیوں کہ میں تو خواب دیکھ رہی تھی پھر یہ حقیقت میں کیسے ہو گیا؟ ڈاکٹر صاحب نے حریم کو خواب سنانے کا کہا۔ ڈاکٹر انکل میں خواب میں دیکھ رہی تھی کہ میں ایک انتہائی خوفناک جگہ پر ہوں جہاں ہر جگہ پر آگ ہے اور خوفناک شکلوں والے لوگ ہیں۔ ایک خوفناک بھوت میرے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ رہا ہے۔ وہ تاج میرے سر پر پورا نہیں آ رہا۔ وہ بھوت زور سے میرے سر پر وہ کانٹوں کا تاج دھنسا رہا ہے اور اس کی تکلیف سے میں رونے اور پھر چیخنے لگتی ہوں، اسی دوران میری آنکھ کھل گئی اور میں نے شکر ادا کیا کہ یہ خواب تھا، لیکن چند لمحوں بعد ہی سر میں شدید درد محسوس ہوا۔ جب میں نے اپنے سر کو ہاتھ لگایا تو میرا ہاتھ خون سے بھر گیا اور میں درد اور خوف سے رونے لگی اور باقی سب آپ کو معلوم ہے۔

سب حریم کا خواب سن کر حیران تھے۔ اب ڈاکٹر صاحب تحمل سے بولنا شروع ہوئے۔ حریم بیٹا ہم نے کیمپ وارڈن سے اور آپ کی رپورٹس سے اندازہ لگایا ہے کہ رات کے پچھلے پہر آپ کے خیمے میں ایک چھوٹی لومڑی کسی طرح داخل ہو گئی اور اس نے آپ کے سر پر کاٹنا شروع کیا۔ بال ہونے کی وجہ سے آپ کا سر کسی گہری چوٹ سے بچا رہا۔ لیکن بار بار کاٹنے کی وجہ سے کافی زخم آئے ہیں۔ گہری نیند میں ہونے کی وجہ سے آپ جلدی محسوس نہ کر سکیں اور دماغ حالت خواب میں چلا گیا۔ اور آپ نے ایک بھیانک خواب دیکھا۔ پھر آپ تکلیف کی شدت بڑھنے سے اٹھ گئیں اور آپ نے یہی محسوس کیا کہ آپ نے خواب دیکھا ہے لیکن دراصل یہ ایک حادثہ تھا۔ امید ہے آپ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔ حریم اور وہاں موجود سب لوگ یہ سن کر حیرت میں ڈوب گئے۔

(نوٹ: یہ کہانی امریکا میں پیش آنے والے ایک حادثے سے ماخوذ کی گئی ہے۔ )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments