موٹر سائیکل اور سماج


تجھے تو پتہ ہے مجھے ذاتی طور پر موٹر سائیکل بہت پسند ہے، اس میں مجھے سردی اور گرمی دونوں موسم کا بھرپور احساس ہوتا ہے، ہنسی آتی ہے جب لوگ بند گاڑی سے اتر کر انتہائی بے شرمی سے کہتے ہیں ”بہت سردی ہے یار“

ایمی سردی تو بہت ہے آج لیکن قسم لے لے میں گاڑی سے نہیں فلیٹ سے اتر کر آ رہا ہوں۔ ویسے لوگ تو گاڑی کا دروازہ کھول کر پان یا گٹکہ بھی پیکتے ہیں، یہ سہولت بائیک پہ زیادہ آسان ہے۔

موٹر سائیکل کیسے یاد آ گئی آج۔

کچھ نہیں یار شاید یہ مسئلہ ہی اک خاص عمر کا ہے جس میں ہڈیوں کو آرام مشکل سے ملتا ہے میں روز ہی دیکھتا ہوں کچھ نوجوان حد سے زیادہ تیز بائیک چلاتے ہیں دائیں طرف مڑنا ہوتا ہے تو پورا جسم بائیں طرف کرلیتے ہیں عجیب بوالہوسی کیفیت ہے یار یہ اور کوئی ایسے میں خدا نخواستہ آگے نکل جائے تو اسے توہین سمجھ کر اس کو پیچھے کرنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور پیچھے چھوڑتے ہی زور سے ہارن مارتے ہیں جو کہ جیت کا الارم ہے ان کے لئے۔

بھائی ناراض مت ہونا تم بائیک کی ریس کیونکہ ہاتھ میں ہوتی ہے اس لیے ایمی ہاتھ چلنے کی رفتار کا عمر کے ساتھ Inverse relationہے جتنی کم عمر اتنا تیز ہاتھ اور جیسے جیسے عمر ڈھلنے لگے ہاتھ آہستہ آہستہ (یہ کہتے ہوئے فیصل نے آواز اور آہستہ کرلی) خود بخود چلنے لگتا ہے۔

یار یہ کیسی ایڈلٹ بات کی، اگر ریس پاؤں میں رکھ دیں تو یہ سدھر جائیں گے؟
اتنے میں اک انکل انتہائی تیز بائیک چلاتے ہوئے گزرے۔ میں نے فیصل کی طرف دیکھا۔
یار مجھے ایسے کیوں دیکھ رہا ہے مجھے سب کا تھوڑی نہ پتہ ہے۔
چل یار بائیک اسٹارٹ کر ہوٹل کی طرف لے۔

تھوڑا ہی آگے گئے ہوں گے تو ایک لڑکا اور لڑکی بائیک پہ انتہائی سست روی سے ایسے گزرے جیسے ’ضرورت کمرہ‘ کا چلتا پھرتا اشتہارہوں۔

فیصل نے فوراً کہا جگہ کا مسئلہ آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے، لیکن ماننا پڑے گا کم جگہ کا اچھا استعمال کر گئے۔

جانے دے یار۔ اک بات بتا تو نے کبھی غور کیا ہے کہ الباکستان میں بائیک میں عورتوں کے بیٹھنے کا جو طریقہ رائج ہے وہ ایسے اہتمام سے پورا کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی شرعی طریقہ ہو۔ اور اسے انتہائی اہتمام سے پورا کیا جاتا ہے یعنی اگر کوئی عورت ایسے بیٹھ جائے جیسے بائیک چلانے والا بیٹھا ہے تو لوگ اسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے کوئی غلط طریقہ ہے، اور جو طریقہ خواتین کے لئے رائج ہے یہ انتہائی غیر محفوظ طریقہ ہے اور حادثے کی صورت میں خواتین کا نقصان زیادہ ہے۔ جس نے بائیک بنائی ہوگی اول اول اسے بھی نہیں پتہ ہو گا کہ مردوں کا بیٹھنے کا طریقہ الگ اور عورتوں کا الگ ہوتا ہے۔

یار یہ بات تو تم نے بہت اہم کی، میں نے اس طرف کبھی غور نہیں کیا کہ یہ مردوں اور عورتوں کے الگ الگ طریقے کیسے رواج پڑ گئے ویسے اگر منٹو ہوتے تو ٹانگوں کی اس بدلتی ہوئی ترتیب پہ کچھ تو لکھتے۔ خواتین کے لئے ویسے ہی بہت مشکلات ہیں تو اس مسئلے کو عام کر کے مزید مشکلات میں اضافہ نہ کر یار۔

اسی گفتگو کے دوران ہم ہوٹل پہنچ چکے تھے اور چائے ہمارے سامنے تھی۔ برابر میں ایک مذہبی حلیہ کے حامل شخص ہمیں بار بار دیکھ رہے تھے جیسے وہ کچھ کہنا چاہ رہے ہوں۔ پھر خود ہی گویا ہوئے کہ پیارے بھائی یہ کتابچہ آپ دونوں کے لئے۔

ہم نے کتابچہ دیکھا تو ایک معروف مذہبی و غیر سیاسی تنظیم کی طرف سے ایک ’تکیہ‘ کا تعارفی کتابچہ تھا۔
میں نے پوچھا حضرت یہ کیا ہے؟

بڑی عاجزی سے فرمانے لگے پیارے پیارے بھائی شیطان کب انسان پہ اپنی گرفت کر لے اور کب وہ مائل بہ گناہ ہو جائے یہ کوئی نہیں جانتا۔

میری حیرت بڑھنے لگی، میں نے پوچھا ارے حضرت گھبراہٹ ہو رہی ہے جلدی بتلائیے کیا ہوا؟

اک بار اور بڑی عاجزی سے قریب قریب رقت آمیز شکل بنا کر فرمانے لگے جب دو مرد بائیک پہ اس قدر قریب بیٹھتے ہیں تو کیا معلوم شیطان کب حملہ کردے اس لئے امیر۔ نے یہ تکیہ نکالا ہے اسے بائیک چلاتے وقت دو افراد اپنے درمیان میں رکھ لیں تاکہ شیطان کے بہکاوے اور گناہ کے گمان کی طرف دھیان ہی نہ جائے۔

ہیں! یہ بھی سوچ لیا۔ (ہم دونوں یک زبان بولے )
فیصل نے مزید حیرت سے پوچھا، حضرت اگر ایسا خیال کبھی آیا ہی نہ ہو؟

تو فرمانے لگے معزز دوست ہماری کابینہ میں یہ مسئلہ آیا تھا تو اس میں عام مشاہدہ یہی آیا کہ جو آگے اور جو پیچھے بیٹھا ہو دونوں ہی اس بات کا اقرار نہیں کرتے۔

ہم دونوں کے منہ سے بیک وقت چائے فوارے کی طرح نکلی اور ہم دونوں تکیہ اور کتابچہ چھوڑ کر کا ؤنٹر پر گئے اور وہیں سے ان حضرت کو آواز لگائی قبلہ! آپ کے پیسے بھی ہو گئے ہیں۔

ہنسی ہے کہ رکنے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔
ایمی تو ابھی پوچھ رہا تھا عورتوں کا طریقہ کیسے رواج پایا یہاں تو ہمارے لالے پڑے ہوئے ہیں بھائی

بائیک اسٹارٹ کی اور واپسی کو نکلے۔ اور یہی بات کرتے ہوئے ہنستے ہوئے جا رہے تھے کہ اچانک میں نے بائیک روکی۔ بائیک سے اترا اور فیصل سے کہا یار خدا پوچھے اس بھائی صاحب کو

بائیک تو چلا یار اب۔

دونوں نے زور دار قہقہہ لگایا اور پھر ہم بائیک پہ بغیر بیٹھے اس اسلامی بھائی کو یاد کرتے ہوئے پیدل ہی چل پڑے۔

Facebook Comments HS