سرائیکی شاعری اور موسیقی
سرائیکی زبان کی مٹھاس سے کس کو انکار ہو گا۔ پھر اس وقت سرائیکی شاعری اپنے عروج کے دور سے گزر رہی ہے۔ اصغر گورمانی، عابد بلال، خالد جاوید سمیت غزل کے بے شمار شاعر اس وقت ایسی غزلیں کہہ رہے ہیں کہ آئے دن سوشل میڈیا پہ ان کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ شاعری صرف سرائیکیوں کو ہی نہیں بلکہ پنجابی اردو اور پوٹھوہاری اہل ذوق افراد سے داد لے رہی ہے۔ حتیٰ کہ وسی بابا جیسے پشتو سپیکنگ دانشور نے بھی متعدد بار سرائیکی شاعری کو وال کی زینت بنایا ہے۔
اگر نظم کی بات کریں تو مخمور قلندری، منشو بھٹہ اور عرشم نیازی کی نظمیں زبان زد عام ہیں۔ ابھی حال ہی میں عرشم نیازی کی نظم ”کڈاہیں وی میڈے خدا نی آکھا“ پولیس کی اک تقریب میں بزدار نوجوان نے پڑھی اور وائرل ہوئی۔ مخمور قلندری کی ”بابا سائیں فرمیندے ہن“ اور منشو بھٹہ کی نظم ”ماء“ بھی ناقدین کا دل جیت چکی ہیں۔ دور حاضر کے معروف اردو شاعر تہذیب حافی اور خالد ندیم شانی اردو کے ساتھ اپنی سرائیکی شاعری سے بھی داد و تحسین وصول کر چکے ہیں۔
حاتم بلوچ کی نظم ”ساکوں ایویں سنڑ جیویں کہیں توں نکھڑیا کوئی سنڑدے ادھ رات کوں غزلاں نصرت دیاں“ نے بھی اک جہان کو متاثر کیا۔
شاعری کے ساتھ اگر سرائیکی موسیقی کی بات کریں تو اک وقت تھا جب سرائیکی گائیکی کا نام آتے ہی عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا نام ذہن میں آتا تھا۔ روایتی آلات غنیٰ یعنی ہارمونیم اور طبلے کے علاوہ بانسری ہی پہ آلات موسیقی ختم ہو جاتے تھے۔ پھر شفاءاللہ روکھڑی نامی اک گلوکار منظر پہ آتے ہیں اور جدید آلات موسیقی کے ساتھ چھا جاتے ہیں۔ سرائیکی موسیقی میں جدت کا کریڈٹ مرحوم شفاءاللہ روکھڑی صاحب کو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ ریلز شارٹس خصوصاً ٹک ٹاک پہ سرائیکی گانے پہ در پہ ٹرینڈنگ میں آ کر ہٹ ہو رہے ہیں۔ سرائیکی ثقافت لباس اور جھومر سے دنیا آشنا ہو رہی ہے۔
چھوٹی ویڈیوز یعنی ٹک ٹاک کا جہاں فائدہ ہے وہاں اک نقصان بھی ہے کہ یہاں اک گانا زیادہ سے زیادہ دس دن ٹرینڈنگ میں رہتا ہے پھر اس کی جگہ کوئی اور گانا یا ڈائیلاگ لے لیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ساتھ ہی گلوکاروں کی اک کھیپ سامنے آئی ہے جو ہر ماہ سینکڑوں گانے ریلیز کر کے عوام میں مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایسے میں اک سنگر ”عابد علی“ کے نام سے منظر عام پہ آتے ہیں جن کا پہلا ہی گانا ”رات آلے میل اچ“ فوری ہٹ ہو جاتا ہے۔ اس وقت تک عابد علی کا خود کا یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا اور یہ گانا اک اور سنگر کے چینل سے اپ لوڈ ہوتا ہے۔ اس کے بعد عابد علی اپنا چینل بناتے ہیں ان کا دوسرا گانا ”تیڈے دل تے راج میڈا ہے“ انسٹنٹ ہٹ ہوتا ہے اور ٹک ٹاک سمیت یوٹیوب پہ لاکھوں ویوز سمیٹتا ہے۔ عابد علی یو اے ای میں ملازمت کرتے ہیں گانے کا شوق تھا تو ڈی جی خان میں سید ابوزر غفاری جیسے کلاسیکل سنگر سے باقاعدہ موسیقی سیکھتے ہیں اور کوالٹی پہ سمجھوتہ کرنے کی بجائے ہر گانا لاہور سے ریکارڈ کراتے ہیں۔ آج کل عابد علی کا لگاتار تیسرا گانا ”خالی ولا ول آیاں“ ٹرینڈنگ پہ ہے۔
دو دن قبل غزل گو شاعر خالد جاوید، کامران احمد قمر، اسامہ خالد اور حماد گیلانی کے ساتھ راقم کو ڈیرہ غازی خان میں شام موسیقی پہ مدعو کیا گیا۔ جہاں سرائیکی کے اک بے پناہ شاعر ملک عامر اور عزیز احسن نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیے اور ہمیں عابد علی کو لائیو سننے کا موقع ملا۔
عابد علی کو لائیو سنتے وقت ہی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس باکمال گلوکار کے متعلق ”ہم سب“ قارئین کو بتانا ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ موسیقی روح کی غذا ہے اگر آپ موسیقی سے شغف رکھتے ہیں تو یوٹیوب پہ سنگر عابد علی لکھ کر کانوں میں رس گھول سکتے ہیں۔


