لندن مہنگا ہے لیکن۔ ( 4 )
پاکستان میں ابھی بھی ستر فیصد سے زیادہ آبادی ’انڈین کموڈ اور لوٹے‘ کا استعمال کرتی ہے۔ ’انگلش کموڈ اور شاور‘ کئی وجوہات کی بنا پر اتنا مروجہ اور پسندیدہ طریقہ نہیں سمجھا جاتا۔ بالخصوص اس کے استعمال کے بعد بزرگ لوگوں کو تو لگتا ہے کہ وہ پورے ہی ناپاک ہو گئے ہیں اور جب تک وہ نہا کے لباس نہیں بدلیں گے، تب تک وہ نماز ادا نہیں کر سکتے۔ قرآن تلاوت نہیں کر پاتے۔ وضو مکمل نہیں ہوتا۔ بلکہ بہت سے گھرانے ایسے ہیں، جہاں کمروں میں قبلہ رخ دیوار غسل خانے ہی تعمیر نہیں کرنے دیتے کہ اس طرف منہ کر کے نماز ادا کیسے ادا ہوگی؟
دوسرا پہلو پانی ہے۔ جو اہل مسلم کی طہارت کا لازمی جزو ہے۔ جس کا بے دریغ دستی استعمال بھی لازم ہے۔ جب، جتنا چاہو، غسل، اور حاجات سے فراغت پر دھلائی کے لئے بہاؤ۔ پانی نہیں تو لیٹرین اور غسل خانے بے کار۔ جس دن بجلی کی غیر متوقع، طویل لوڈشیڈنگ کی کرم فرمائی سے پانی کی ٹینکیاں خالی ہو جاتی ہیں اس دن ہر گھر میں کیا حالات ہوتے ہیں، آپ بہتر جانتے ہوں گے۔
پاکستان سے باہر غیر اسلامی ملک کو جب رخت سفر باندھتے ہیں تو انڈین کموڈز والی عیاشی ختم ہو جاتی ہے۔ پانی کا بے جا خرچ آپ کے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے۔ خود کار سنسرز اور مشینیں یہ کام خود بخود کرتی ہیں۔ وہ بھی صرف فلش کرنے کو۔ ٹوائلٹس میں شاور میسر نہیں۔ ہاں ’ٹوائلٹس پیپر رول‘ لازمی ہوتے ہیں۔ پانی کی جگہ انھی سے کام چلانا پڑتا ہے۔ جتنا مرضی ناک بھوں چڑھائیں۔ بد مزا ہوں۔ کراہیت محسوس کریں۔ ہاں کوئی جگاڑ سلوشن نکالنا چاہیں تو آپ کی مرضی (جو لوگ مستقل وہاں رہائش پذیر ہیں یا تو وہ اس نظام کے عادی ہو گئے ہیں یا کوئی متبادل نکالتے ہوں گے ) ۔
ہمارے ملک میں مسجدیں ’مشرومز‘ کی طرح بڑھ رہی ہیں۔ ہر گلی، محلے، گاؤں، بستی، قصبے، شہر میں اتنی مساجد ہیں، جتنے نمازی نہیں۔ پیدل جانا ممکن ہے۔ دو قدم کے فاصلے پر موجود ہیں۔ پھر کئی فرقے، ہر فرقے کی اذان کا وقت دوسرے سے مختلف (اس بات سے قطع نظر کہ یہ صحیح ہے یا غلط) ۔ ایک نماز کے لئے اذانیں ہی جو شروع ہوتی ہیں تو اگلے آدھے گھنٹے تک وہی ہوتی رہتی ہیں۔ پانچ وقت، بغیر کسی تردد کے یہ سہولت آپ کے کانوں تک پہنچتی ہے۔
اذان کی آواز آپ کو دن بھر اپنے ایک فرض کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ لیکن غیر اسلامی ملک میں آپ کے لئے اسلامک سنٹر تو ہیں جہاں آپ دین سیکھ سکتے ہیں، نماز ادا کریں، قرآن پڑھیں، کتب خانے سے استفادہ کریں لیکن یہ بھی آپ کی کمیونٹی سے قریب کہیں ملے گا۔ ورنہ مساجد کے نظارہ کے لئے بصارت اور اذان کی آواز کو سماعت ترستی ہے۔ اللہ کی پکار کی بجائے، گھڑی کی سوئی آپ کو نماز ادا کرنے کا کہتی ہے۔ اور نہ ہی اذان کی گونج پر آپ کے اردگرد اکثریت کام چھوڑ، وضو کرنے دوڑتی ہے۔ جمعہ، عیدیں سب ایک سی، اس ہنگام کے بغیر گزرتی ہیں۔
”روزے دارو، اللہ نبی کے پیارو، سحری کا وقت ہو گیا، اٹھو، سحری کی تیاری کرو“ ، ”ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں ملک غلام مصطفی ولد عباس احمد کی زوجہ کا قضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے۔ نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا یا بعد از نماز ظہر ادا کیا جائے گا۔ شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔“
”لبیک الھم لبیک، عند الحمد، والنعمت۔ عید کی نماز نو بجے پڑھی جائے گی۔“
”ایک بچی جس کی عمر تین سال کے قریب ہے۔ نیلی قمیض شلوار پہنی ہے۔ ماں باپ کا نام نہیں بتا سکتی۔ محلے کی دکان پر روتے ہوئے ملی ہے۔ جس کسی کا بچہ لا پتہ ہو وہ فلاں فلاں بندے سے رابطہ کرے۔ شکریہ۔“
اس طرح کے بلا اجازت، وقت بے وقت، دخل در معقولات والی معلومات آپ کو دیار غیر میں نہیں ملیں گی۔ لاؤڈ اسپیکر کو تو بھول ہی جائیں۔ اور ان سب نعتوں، تلاوتوں کو بھی جس کو شوقیہ چھوٹے بچے، اور عمدا مولوی صاحب مسجد کا اسپیکر ہاتھ لگنے پر پڑھتے رہتے ہیں۔
’زمین ایک قیمتی جنس ہے‘ اور گھر و ہوٹل صرف سونے کے لئے ہوتے ہیں۔ اس نظریہ کی تبلیغ عملاً یہاں کے مہنگے مہنگے ہوٹلوں اور گھروں میں عموماً ہوتی ہے۔ کمرے چھوٹے اور واش روم اس سے بھی چھوٹے۔ اپنے ملک کے بر عکس جہاں بہت سے گھرانوں میں واش روم اور کچن اتنے کشادہ ہیں، چاہو تو چارپائی بچھا لو۔ البتہ ہوا، روشنی کا پورا انتظام ہوتا ہے۔ مگر گھر سے باہر کھیل کود، چہل قدمی، ورزش اور تفریح کے لئے موجود ہے۔
محلے داری، کھانوں کا تبادلہ، نیاز، تبرکات کی تقسیم، مہمانداریاں، لمبے لمبے پڑاؤ، بلا بتائے مہمان بننا، دوستوں کا ملنا، گپ شپ، آئے دن کی تیمارداری، عیادت۔ یہ وہ سماجی فراغتیں ہیں جو کسی کو بھی پرائے دیس میں ایسی وافر نہیں ملتیں۔ زندگی کافی ’کیلکولیٹڈ‘ ’پرائیویسی‘ اور ’کانسنٹ‘ کے اصولوں پر مبنی ہے۔
گاڑی کا دروازہ کھولنے، شاپنگ کا سامان اور فائلیں اٹھانے کو آپ کے پیچھے پیچھے مودب چلتا کوئی ڈرائیور، جھاڑ پونچھ، پوچا اور جھاڑو لگانے، برتن، کپڑے دھونے اور استری کے لئے گھریلو مددگار، لان سنوارنے کو مالی، کھانے پکانے کو باورچی، یہ سب ادھر ہی خواب کی طرح چھوڑ جائیں۔ یہ سب وہاں خراب عادات تصور ہوں گی۔ وہاں مشین ہو گی ملازم نہیں۔ ڈش واشر، خودکار کپڑے دھونے کی خود کار مشین، کافی میکر وغیرہ وغیرہ۔ جو کام تو کر دیں گی لیکن بات نہیں کر سکیں گی۔
مزید یہ کہ اگر زبان نہیں آتی تو اپنی کمیونٹی حب کے باہر آپ گونگے ہیں۔ اور اگر ان پڑھ ہیں تو کافی حد تک اندھے بھی ہیں۔ کیونکہ ساری ہدایات جو ہر مقام پر ’پبلک‘ کی رہنمائی کے لئے چسپاں اور آویزاں ہوتی ہیں وہ سمجھنے اور پڑھنے سے آپ قاصر ہوں گے۔ ٹکٹنگ، بلنگ، ادائیگی ہر کام کے لئے محتاج ہوں گے۔
بسوں، ریل گاڑیوں اور سبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافر اپنے پالتو کتے، بلیوں، کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس بات کی امید رکھیں کہ جس سیٹ پر آپ بیٹھیں گے، وہاں ہو سکتا ہے کہ کچھ دیر پہلے کوئی جرمن شیفرڈ، ایرانی بلی بیٹھی ہو۔ اس لئے مسلمان کراہیت کے ساتھ لباس کے پاک، ناپاک ہونے کے احساسات سے دوچار رہتے ہیں۔
یہ چیدہ چیدہ جمع تفریق اور تبدیلیاں ہر سیاح اور مستقل ہجرت کرنے والوں کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ابتدائی ذہنی جھٹکوں کے ساتھ ان کا عادی ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ خاص طور پر بزرگوں کو سیٹل ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ یوں جیسے ایک توانا پودے کو برسوں بعد ایک نئی زمین میں بویا جائے۔ تو وہ بمشکل جڑیں پکڑتا ہے اگر اس کی خصوصی نگہداشت نہ کی جائے۔


