انسان کے جسم پر بنے نشان پتھر پر لکیر سے زیادہ جاندار اور دیرپا ہوتے ہیں
دھرتی سے وابستہ لوگ ہی اپنی دھرتی روایات کو ہزاروں برس تک سنبھال کر رکھ سکتے ہیں۔ سندھ میں جو روایات صدیوں سے جوں کی توں زندہ و سلامت رہتی آ رہی ہیں، ان میں جسم پر ٹیٹوز بنوانی والی روایت بھی شامل ہے۔ جسم پر بنائے جانے والے ٹیٹوز کو سندھی میں ’تاجوا‘ کہا جاتا ہے۔
سندھ کی ابتدائی اولاد یعنی سن آف سوائل قبیلوں کولہی، بھیل، ریباڑی، جوگی، میگھواڑ، کبوترا اور دوسری ہندو برادریوں کی یہ خوبی بھی کمال ہے کہ ان کو دیکھتے ہی پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ کون ہیں۔
لاہور کے مشہور ترین نیشنل کالج آف آرٹس کے وزیوئل کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ میں فائنل ائر کی طالبہ سید آمنہ شاہ نے اپنی آخری سال کی تھیسز ’نشان ڈھی‘ میں ان تاریخی اور انڈس سولائزیشن کی نشانات کی مدہم ہونے کے بعد ختم ہوتی روایت کی روداد بیان کی ہے۔
سندھ میں ریباڑی، کولہی، بھیل، جوگی، میگھواڑ اور دوسری ہندو برادریوں کی عورتیں اپنی چہروں پر جو خاص نشانات کے ٹیٹوز یا تاجوار کنندہ کرواتی ہیں اب وہ وقت کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں۔
آمنہ شاہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھیسز کے سلسلے میں پورے سندھ کا وزٹ کیا، اور جانا کہ یہ ٹیٹوز سندھ کی ہندو برادریوں میں بہت زیادہ بنائے جاتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہ کافی مسلمان برادری کی عورتیں بھی بنواتی تھیں۔ راجستھان، سندھ اور پنجاب کے صحرا میں کئی برادریوں کی عورتیں مختلف قسم کے ٹیٹوز بنواتی تھیں جس سے ان کی پہچان ہوجاتی تھی کہ وہ کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔
آمنہ شاہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کام کرتے سندھ میں نچلے سماجی طبقہ کی عورتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم وی ایل جی کی رہنما عورت کستوری نے ان کی بہت مدد کی۔ کستوری کا کہنا ہے کہ ”انسان کے ذہن اور جسم پر نشان پتھر پر لکیر سے زیادہ مضبوط، جاندار اور دیرپا ہوتے ہیں۔ کستوری کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ نشان کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی ایک وجہ سماج میں فیشن کی تبدیلی ہے اور دوسری اہم وجہ ہندو لڑکیوں کو اغوا سے بچانا بھی ہے، اب وہ سماج میں آسانی سے پہچانی نہیں جاتیں۔
ٹیٹوز تاریخی طور پر عورت کے حسن میں اضافہ کرنے کے لیے بنوائے جاتے تھے۔ عورت کے گال پر کراس اور پیشانی پر چاند کا نشان اس کو نظر سے بچانے کے لئے ہوتا ہے، اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نشان مرد کی آنکھ کو عورت کی آنکھوں میں دیکھنے سے روک یا بہکا دیتے ہیں کیونکہ چہرے پر ایسے نشان نظر کو نظر سے ملنے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔
ویسے اگر انسانی جسم پر ٹیٹوز کے نشانات کی تاریخ کو تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو دنیا کے ہر خطے میں انسان ہزاروں برس سے پتھر اور اپنے جسم پر مختلف نشانات بناتا آیا ہے۔ ریسرچ جنرل آف آرکیالوجیکل سائنس کی رپورٹ۔ 5 کے مضمون ’دنیا کے قدیم ترین ٹیٹوز‘ کے مطابق ”اس سلسلے میں تحقیق کرنے والوں کو سب سے پرانے نشانات 3370 قبل مسیح برفانی دور کے انسان ’اوٹزی‘ کے جسم پر ملے ہیں۔ ایسے نشانات دنیا کے اور خطوں گرین لینڈ، الاسکا، سائبیریا، منگولیا، مشرقی چین، مصر، سوڈان اور فلپائن میں ملے انسان جسموں پر بھی ملے ہیں۔“
ٹیٹوز کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیٹوز بنوانے کا موجب پرانے دور کے سمندری سفروں پر جانے والے مسافر اور فوجی رہے ہیں، پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں سب سے زیادہ ٹیٹوز امریکی فوجیوں نے بنوائے جو اپنے سینے اور بازو پر امریکی جھنڈا، آرمی کے لوگوز اور دیگر بہادری کے نشانات کنندہ کرواتے تھے، خاص طور پر ائرفورس کے پائلٹ اپنے بازوؤں پر جنگی جہاز یا لوگو بنا کر فخر محسوس کرتے تھے۔ دوسری طرف دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے جرمن فوجیوں کے بازوؤں پر ان کے فوجی نمبر بھی کنندہ کروائے جاتے تھے۔ جس سے ان کی کیمپ نمبر اور ریجمنٹ کا بھی پتا جاتا تھا۔ اسی طرح دنیا بھر کی نیوی اور سمندری کشتیاں چلانے والے لوگ اپنے جسم پر ٹیٹوز بنواتے رہتے تھے ایک وقت میں کہا جاتا تھا سمندری مسافروں، جہاز بانوں اور فوجیوں کے ستر فیصد لوگوں کے جسم ہر ٹیٹوز بنے ہوتے تھے۔
پھر دوسری جنگ عظیم، حفظان صحت اور انسانی حقوق کی جانکاری کے بعد اب برطانیہ کی رائل نیوی، امریکا کی یونائیٹڈ اسٹیٹس ائر فورس، آرمی، کوسٹ گارڈ، میرین کور، نیوی میں ایسے ٹیٹوز بنوانے پر مکمل پابندی ہے خاص طور پر حکم ہے کہ وردی پہننے کے بعد ہاتھ، گلے یا پیشانی پر نظر نہ آ سکیں، جبکہ بھارتی فوج میں صرف ان قومیتوں اور برادریوں کو ٹیٹوز بنوانے کی اجازت کے جن پر اپنے قبیلے یا قوم کی لازمی شناخت کی بنا پر سماجی روایت کے لحاظ سے بنوانا ضروری ہو باقی فوجیوں پر مکمل پابندی ہے۔
پاکستان میں انڈس سولائزیشن کے آثار قدیمہ سے ملے مجسموں پر بھی ٹیٹوز کے نشانات موجود ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں آرکیالوجی اور تاریخ پر کام کرنے والے اور کھوج گڑھ لاہور کے بانی اقبال قیصر کا کہنا ہے کہ موئن جو دڑو اور ہڑپہ سے ملے کچھ مجسموں پر ٹیٹوز کے نشانات موجود ہیں، اور ساتھ میں جسم پر ٹیٹوز کنندہ کروانے کے اوزار بھی ملے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کام یا فن اس وقت بھی انڈس ویلی کی تمام اقوام میں موجود ہے۔ سندھ کے تھرپارکر سے لے کر پنجاب کے چولستان، روہی، خیبرپختونخوا کے پشتون، گلگت کے پہاڑی علاقوں سے لے کر کافرستان سے جسم پر ایسے نشانات اب بھی بنائے جاتے ہیں۔
یہ نشانات کیا ہیں کے سوال کے جواب میں تھرپارکر کی کانتا کماری کھتری نے کولہی، بھیل اور دیگر برادریوں کی عورتوں کی تصاویر دکھاتے بتایا کہ ”انسان کے پاس سب سے پہلی اور کل وقتی ملکیت اس کا جسم ہوتا ہے، جس سے وہ بہت پیار کرتا ہے، جس کو وہ سنوارنا اور خوبصورت بنانا چاہتا ہے، تو بنیادی طور پر یہ ٹیٹوز یا تاجوا خوبصورتی کے لیے بنائے جاتے رہے ہیں اور تاجوا میں صرف حسناکی کا عنصر ہی شامل نہیں بلکہ فرد پوری ایک تاریخ بھی رقم کی جاتی ہے۔ پہلے تو یہ تاجوا پورے سندھ میں بنوائے جاتے تھے، پھر سماجی ترقی، شہروں کی طرف سفر اور خاص طور پر میک اپ اور حسن کو جلا دینے کے لیے کاسمیٹکس اور آرٹیفشل زیورات اور حفظان صحت کی جانکاری نے تاجوا کے شوق اور کام کو کم کر دیا۔
ایک عورت کے گلے اور بازو پر بنے تاجوا (ٹیٹوز) کو پڑھتے کانتا کماری نے بتایا یہ لکھا ہوا ہے کہ ”یہ عورت کولہی قبیلے کی ہے، صحرا کے اس طرف رہتی ہے جہاں دن کی روشنی میں ہرن آزاد گھومتے ہیں اور رات کو ستارے چمکتے ہیں، اس کے گھر والے کا نام ’پانسی‘ ہے، جو پھولوں اور فصل سے پیار کرتا ہے اور شو کا پجاری ہے۔“
سندھ میں عام طور پر تمام میلوں اور خاص طور پر تھرپارکر میں لگنے والے میلوں میں ’تاجوا‘ بنانے کا کام سب سے زیادہ کیا جاتا ہے، میلے کہ زیادہ تر کمائی بھی اس کام سے ہوتی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سب سے پہلے اپنی محبتوں کی نشانیاں کنندہ کرواتے ہیں، جیسے دونوں ایک جیسا پھول، ایک جیسا ستارہ، ایک جیسا نشان بنواتے ہیں۔ ان نشانوں میں ایک دو تین سی لے کر دس تک نقطے یا ڈاٹ کے نشان اس فرد کے قبیلے، برادری اور قبیلے کو اجاگر کرتے ہیں، جو اکثر طور پر بچے کے پیدا ہوتے ہی کنندہ کروائے جاتے ہیں۔
کانتا کماری کھتری کا کہنا ہے کہ ”صحرائی علاقوں میں فرد کے جسم پر پہچان کے نشان اس لیے بھی کنندہ کروائے جاتے ہیں کہ صحرا میں سفر در سفر رہنے والے کسی فرد کی موت بھی ہو جائے تو ان نشانات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ کون ہے اور کس خاندان کا فرد ہے۔ مطلب تاجوا تاریخی طور پر حسناکی کے ساتھ فرد کا شناختی کارڈ کا کام بھی کرتا تھا۔ سندھ میں جسم پر تاجوا کنندہ کروانے والے نشانات کے کئی نام ہیں جن میں مشہور سورج، چاند، ستارہ، پھول، سواستیکا (ساکھیو) ، درگا روپ، شو شکر کا ترشول، ہاتھ پنکھا، اوم، آزاد ہرن، دل، گلاب، مکھی، تتلی، درخت، پرندہ، پہاڑ (کارونجھر) ، مور، محبوب کا نام وغیرہ شامل ہے۔ محبوب کا نام فرمائش اور حکم پر بھی لکھوایا جاسکتا ہے کہ ’پہلے جاؤ، اپنے ہاتھ پر میرا نام لکھوا کے آؤ اور محبت کی قسم اٹھاؤ کہ یہ ہاتھ پھر کسی اور ہاتھ میں نہیں دو گے۔ ‘
مٹھی کے ڈاکٹر چیتن لال سوٹہڑ کا کہنا ہے کہ ’تاجوا کی ایک تاریخ ہے، گاؤں کی محفلوں پر اس موضوع پر بہت گفتگو ہوتی اور اچھے بنے ہوئے تاجوا کی تعریفیں ہوا کرتی تھیں، نوجوان لڑکے، لڑکیوں کی سندرتا کو خوبصورت تاجوا سے ناپتے اور تولتے تھے، پھر سماجی ترقی اور جانکاری نے ان کو بتایا کہ اس سے چمڑی کی بیماریاں پھوٹتی ہیں۔ اب مشینی تاجوا زیادہ بہتر اور جلدی میں کام کرتے ہیں اس سے پہلے کنڈی یا ببول درخت کے کوئلے کو پیس کر اس میں اونٹنی یا بکری کا دودھ شامل کر کے ایک رنگ بنایا جاتا تھا۔
پھر ایک سوئی سے کھال کو آہستہ آہستہ کھرچ کھرچ کر اس پر وہ رنگ لگایا جاتا تھا، پہلے تو وہ متاثر حصہ پورا سوج جایا کرتا تھا اور بہت درد برداشت کرنا پڑتا تھا، پھر آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہوجاتا تو اصل نشانات جسم پر نمودار ہو جاتے تھے۔ یہ ہی بات عورت سماجی رہنما کستوری نے کی تھی کہ ’اب جسم پر تاجوا بنانے میں بہت کمی آ رہی ہے، اس کی ایک وجہ حفظان صحت کی جانکاری بھی ہے مگر اس زیادہ اہم باتیں اور بھی ہیں، جن میں ایک وجہ پہلے یہ نشانیاں شناخت ظاہر کرنے کے لیے تھیں اب یہ شناخت چھپانے کے لئے ہے۔
سندھ میں کمزور ہندو قبیلوں کی لڑکیوں کو ان نشانیوں سے آسانی سے پہچانا جاتا ہے۔ اس لیے بھی ان لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں زبردستی مسلمان بنوا کر ان سے شادی کرنے والوں کو آسانی ہوتی ہے۔ اب کو لڑکیاں شہروں میں رہنے یا پڑھنے کے لیے آتی ہیں ان کی شناخت کچھ مشکل ہے، اس لئے ان کو لڑکے نہیں چھیڑتے یا وہ اس شرارت سے بچ جاتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پیشانی اور گلے پر زیورات کے نشان اس لئے کنندہ کروائے جاتے تھے کہ جس کے پاس سونے، چاندی اور ہاتھی دانت کے زیورات نہیں ہوتے تھے وہ مستقل ایسے زیورات کے نشانات لگواتے تھے۔
اب آرٹیفیشل زیورات کا زمانہ ہے تو اس تاجوا کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ ہاں اب گلے اور پیشانی کے بجائے ہاتھ یا بازو پر چھوٹے موٹے نشانات بنواتے ہیں۔ اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ یہ فن اور کام بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس وقت بھی ثقافتی میلوں ملاکھڑوں میں سب سے زیادہ کام تاجوا کا ہی ہوتا ہے۔ جہاں اب مستقل نشانات کے بجائے وقتی طور ٹھپا مار کر یا پہلے سے ڈیزائن شدہ چھاپہ مار کر تاجوا بنائے جاتے ہیں، جن کو ضرورت کے مطابق کسی کیمیکل سے صاف کروایا جاسکتا ہے۔
این سی اے لاہور میں اس موضوع پر اپنی تھیسز ’نشان ڈھی‘ پیش کرنے والی سیدہ آمنہ شاہ نے بھی سواستیکا، ترشول، پھول، آزاد ہرن، شو کے ترشول، پہاڑ اور دیگر قسم کے اسٹیمپ تاجوا بنوا کر رکھے ہوئے تھے جو تھیسز دیکھنے کے لیے آنے والوں کے ہاتھ پر لگا رہی تھیں۔ یاد رہے کہ آمنہ شاہ سندھ کے سب سے زیادہ درگاہوں اور گادی نشینوں کے شہر مٹیاری کے درگاہی سادات گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، سیدہ آمنہ شاہ کی بڑی بہن شاہرین شاہ بھی دو سال پہلے این سی اے لاہور کے فلم اینڈ ٹیلیویژن ڈپارٹمنٹ سے گریجویشن کر چکی ہیں۔
ٹیٹوز یا تاجوا انسانی جسم پر لکھی انسانی تاریخ ہے، جو پتھروں، کھالوں، کاغذ اور کتابوں سے پہلے انسانی جسم پر لکھی گئی، اور اس وقت بھی لکھی جا رہی ہے، جو انسانی خواہشات، توہمات، ایمان، عشق، محبت، انسیت، خوشی اور ڈر کا عجب امتزاج ہے۔ سندھ میں اس وقت بچے کے جسم پر سب سے پہلا تاجوا گال پر کراس یا مکھی بنائی جاتی ہے کہ اس کو نظر نہ لگے جبکہ آخری نشان وہ ہوتا ہے جس سے وہ سفر یا اجنبی شہر میں مر جائے تو پہچانا جائے کہ وہ کون ہے اور کس قبیلے کا ہے۔
کانتا کماری کھتری کا کہنا ہے کہ کچھ ہندو روایات میں ان تاجوا یا ٹیٹوز کو پنر جنم کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، مطلب تاجوا یا اس کے کچھ نشانات اگلے جنم میں بھی آپ کے جسم پر موجود ہوں گے۔ کئی برادریوں میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ اگر کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی مرجائے یا مرا ہوا پیدا ہو تو اس کا مطلب ہے وہ جلد ہی دوبارہ کسی اور جگہ دوبارہ جنم لے گا۔ اس لیے اس کے والدین اس بچے کے جسم پر بھی تاجوا کو کوئی نشان ایک ہاتھ پر پھول یا پیشانی پر تل لگا لیتے ہیں پھر کئی سال انتظار کرتے ہیں کہ خاندان یا شہر میں کس کے پاس ایسا بچہ پیدا ہوتا ہے جس کے جس کے ہاتھ یا پیشانی پر وہ ہی نشان موجود ہو۔ اس کے ساتھ تاجوا سے بھی روایت جڑی ہوئی ہے کہ مرنے کے بعد دیوتا ان کو ان نشانیوں سے پہچان لیتے ہیں کہ یہ ہماری پجاری ہیں۔
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے پڑھے انتھروپولوجسٹ پروفیسر ذوالفقار کلہوڑو کا کہنا ہے کہ ”سندھ میں تاجوا صرف ہندو نہیں مسلمانوں میں بھی مقبول رہا ہے، ہندو عورتیں کچھ زیادہ بنواتی ہیں جو سب سے پہلے نظر سے بچنے کے ساتھ ساتھ حسناک نشانات سے محبوب کو اور دھرمی نشانات لگوا کر بھگوان کو راضی کرتی ہیں۔ جبکہ مسلمان عورتیں اپنے بچوں کے گال اور پیشانی پر تاجوا کے بجائے کاجل اور سرمہ کے ساتھ ایسے ہی نشانات بناتی ہیں، جن کا پہلا مقصد بچے کو بدنظر سے بچانا اور دوسرا زیادہ خوبصورت بنانا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سندھ اور راجستان میں سب سے زیادہ اور خوبصورت تاجوا ریباڑی اور کبوترا قبیلے کے عورتیں بناتی ہیں۔ ٹیٹوز کے حوالے سے سب سے مقبول ترین کتاب ’اینٹھروپولاجیکل سمبلز‘ میں مصنف او پی جوشی نے سندھ اور راجستان کے ٹیٹوز یا تاجوا کے بارے میں بہت ہی تفصیل سے لکھا ہے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ تاجوا کے بنیادی تین اسباب تھے بد نظر سے بچنا، خوبصورت نظر آنا اور برادری یا علاقائی شناخت۔ ”
سندھ میں جسم پر ٹیٹوز یا تاجوا بنوانے کے حوالے سے اس کے ساتھ ساتھ ایک سبب فطرت سے محبت اور دھرتی سے انسیت بھی شامل ہے، اس لئے کئی نوجوانوں کے بازوؤں پر سواستیکا کے نشان اور محبوب کے نام کے پہلے حرف کے ساتھ سندھ کا نقشہ، جیئے سندھ کا جملہ اور کلہاڑی کا قومی نشان بھی کنندہ کرواتے ہیں۔ ہے نہ کمال کی بات۔
آمنہ شاہ کی یہ تھیسز کہ ”تاجوا کے نشان گم ہو رہے ہیں۔“ کسی حد تک درست بھی ہے، ساتھ میں آمنہ شاہ یہ بھی چاہتی کہ یہ جسم پر نشان باقی بھی رہیں، مگر مشینی ٹیٹوز بننے سے پہلے ہاتھ سے کوئلے اور اونٹنی کے دودھ والے محلول سے ساتھ سوئیوں سے کھرچ کھرچ کر بنائے گئے تاجوا کو تاریخ کے رکارڈ پر رکھنا چاہتی ہیں، اس حوالے سے انہوں نے تین بوکلیٹس اور ایک وڈیو ڈاکومنٹری بھی تیار کی ہے، این سی اے میں لگی تھیسز شوز میں یہ ایک شاندار اور دلچسپ تھی، جس میں سندھ کی ایک سید زادی اپنی دھرتی کی کولہی اور بھیل عورتوں کی ثقافتی حسناکی کو لاہور جیسے کلچرل کیپیٹل سٹی میں اجاگر کر رہی تھی۔










