احوال زوال


حقیقت یہی ہے کہ 8 لاکھ 81 ہزار 913 کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل ملک پاکستان میں حال مست 24 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ انہیں اس بات کو کوئی غرض نہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا میں کیا چل رہا ہے۔ یوکرین میں جاری جنگ دوسرے سالگرہ منانے کے قریب ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی شہریوں کی نسل کشی زور و شور سے جاری ہے۔ دنیا کی پانچویں ایٹمی طاقت ملک کا میڈیا صبح سے شام تک عام انتخابات کے انعقاد کے حق میں اور خلاف قومی رہنماؤں کے بیانات نشر کرتا ہے، پی ٹی آئی کو آئندہ عام انتخابات سے کیسے باہر رکھا جائے، یہ اس ملک کا قومی مسئلہ بن چکا ہے۔

لاقانونیت، مہنگائی اور بے یقینی کا شکار یہ دنیا کی پانچویں بڑے آبادی اپنے مستقبل کے حوالے سے خوف اور خدشات کا شکار ہونے کے باوجود بے حس ہو چکی ہے۔

بشریٰ بی بی اور عمران خان نے نکاح سے پہلے عدت پوری کی تھی یا نہیں؟ شریف خاندان کے اندرونی اختلافات کی جڑیں کہاں تک ہیں؟ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے درمیان دبئی کی ملاقات میں کیا خفیہ ڈیل ہوئی؟ اعلیٰ عدالت سے سخت حکم جاری ہونے کے باوجود تمام بڑے میڈیا ہاؤسز نے پراپرٹی ٹائیکون کا نام خبر کے متن سے کیوں حذف کر دیا؟ عثمان ڈار کی ماں سیالکوٹ میں خواجہ آصف کی کیا درگت بنائے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو پاکستان کے قومی منظر پر چھائے ہوئے ہیں اور چند یوٹیوبرز، چند پروگرام اینکرز اور چند کالم نگار قوم کے دکھوں کا علاج تجویز کرتے ہوئے لاکھوں کی دیہاڑی لگا رہے ہیں۔

بدقسمتی سے یہ قوم اپنے گرد و پیش سے اس قدر بے خبر اور لاتعلق ہے کہ یہ بالکل نہیں آگاہ کہ ”تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔“

چند روز قبل برادر ہمسایہ ملک کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی، ڈرون اور میزائل حملے کے بعد تقریباً 72 گھنٹے کی کشیدگی اور سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کے اعلانات اور اقدامات کے بعد پھر مسکراہٹوں اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ شروع ہو چکا ہے اور پنجگور کے علاقے میں ناحق موت کا شکار ہونے والے بچے اور بچیوں کے بارے میں کسی کو یاد بھی نہیں کہ یہ، ”خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا۔“

ذرا غور تو کیجیئے کہ آخر ایسی کیا افتاد آ پڑی کی ایران جیسے ملک نے جسے بظاہر امریکی اور یورپی دشمنوں نے گھیر رکھا ہے، پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف حماس کی جنگ میں اسے فریق قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن یکایک ایران اپنے خطے کے تین اہم مسلم ملکوں شام، عراق اور پاکستان پر حملہ آور ہو جاتا ہے؟ کیوں؟ یہ حملہ عراق پر حملے کی کوئی وجہ ہو گی، شام کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز بھی ایران کے پاس ہو گا لیکن پاکستان، کیوں؟

یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اب پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں خطرے کا شکار ہو چکی ہیں۔ پاکستان کے مشرق کی جانب بھارت کے ساتھ پاکستان کا ازلی ”اٹ کھڑکا“ چلتا ہے۔ مغرب کی جانب افغانستان کے ساتھ بھی معاملات گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے بگاڑ کا شکار ہیں جس کی طویل اور مختلف وجوہات موجود ہیں۔ ایک ایران بچا تھا اب اس نے بھی پاکستان کو وہاں لا کھڑا کیا ہے کہ اعتبار متزلزل ہو گیا ہے۔

جی بالکل بہت سے دوست کہیں گے کہ چین کا ذکر نہیں کیا، جی بالکل چین اس خطے میں پاکستان کا ایک بڑا اتحادی ضرور ہے لیکن اس کے عالمی طاقتوں سے اپنے مسائل ہیں۔ 90 کی دہائی کے بعد سے چین پاکستان سے بڑے اقتصادی اور تجارتی معاہدات اور تعلقات کے باوجود اب اپنے آپ کو عالمی تناظر میں دیکھتا ہے۔ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا جو حشر پاکستان نے مختلف وجوہ کی بنیاد پر کیا اس کے بعد چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور قربت اس سطح پر نہیں ہے جیسے تب تھی جب چین کو بیرونی دنیا تک پہنچنے کے لیے ایک شہد جیسے میٹھے اور سمندر جیسے گہرے دوست کی ضرورت تھی، جب امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو بیجنگ تک پہنچانے کے لیے چین کو ایک انتہائی قابل اعتماد دوست کی تلاش تھی۔ ابھی چین نے پاکستان میں اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے سیاست کاروں کی سیاہ کاریوں کا حل تلاش کر کے متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں۔ چین کے تجارتی ادارے اب مکمل مارکیٹ اکانومی کی ضروریات کو دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان میں صرف خریدار بستے ہیں۔

پاکستان کی ضروریات چند ارب ڈالر کا قرضہ ہوتا ہے جس کے لیے ہر سال آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ اگر پاکستان خطے کی سیاست میں چین، روس اور بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور آئی ایم ایف اس کا بازو مروڑ دے گا، لیکن اگر امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو پھر چین کی طرف سے رول اوور گئے قرضوں کی فوری واپسی کا مطالبہ سامنے آ سکتا ہے۔ ایسا ماضی میں بھی ہو چکا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں پاکستان کی وہ اہمیت باقی نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی، جب سے معاملات ولی عہد محمد بن سلمان کے ہاتھ میں آئے ہیں پاکستان کے لیے ان کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ آرمی چیف کی ذاتی درخواست پر چند ارب ڈالر کی رعایت ان کی طرف سے بہت بڑی مہربانی ہے جو کی گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ خطے کی سیاست میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ 70 کروڑ ڈالر کی ایک اور قسط تو آئی ایم ایف نے منظور کر لی لیکن نئے مالی سال کا بجٹ بنانے والی حکومت کی چیخیں آسمان تک سنی جانے والی ہیں۔ اسحاق ڈار کا جادو چلنا ہوتا تو پاکستان کو گزشتہ مالی سال کے بجٹ کے موقع انتہا درجے تک خوار نہ کیا جاتا ہے۔ ڈالر کو کھینچ کر نیچے لے آنے کے اسحاق ڈار کے دعوے کبھی پورے ہو جاتے تھے لیکن اب پاکستان کے باہر کی دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔

امریکہ 20 سال کے عرصے میں اربوں ڈالر افغان جنگ میں ڈبونے کے بعد راہ فرار اختیار کر چکا ہے اور پاکستان امریکہ کے لیے موجودہ عالمی اور علاقائی منظر میں سوائے ایک بوجھ کے کچھ نہیں۔ دنیا ایک بار پھر دو بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ روس، چین، بھارت خطے میں نیا اتحاد قائم کر رہے ہیں، ایران کے لیے مشکل نہیں کہ وہ اس اتحاد کا حصہ بن جائے، حتیٰ کہ مناسب موقع پر افغانستان بھی اس گیم کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جن کے لیے اس خطے میں اب پاکستان غیر ضروری اور غیر متعلق ہو چکا ہے۔ اگر ہمارا چین اور روس کے ساتھ اتحاد میں کوئی موقع بنتا بھی ہے تو بدقسمتی سے ہمارے فیصلہ سازوں کا امریکی کیمپ کا حصہ بنے رہنے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ اب امریکہ کے خلاف کہیں بھی اور کسی بھی اتحاد کا حصہ بنتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔

موجودہ حالات میں بین الاقوامی سطح پر کھیلی جانے والی کسی بھی سیاسی، سفارتی، اقتصادی گیم میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جو نئے اتحاد خطے میں وجود میں آ رہے ہیں ان کی پاکستان کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور اگر پاکستان نے ایسی کوئی بھی خواہش یا کوشش کرنی بھی ہے تو اس کے لیے اپنے آپ کو اس اتحاد کے لیے مفید ثابت ہو گا یا پھر زبردستی کسی بینڈ ویگن میں سوار ہونا ہو گا۔ یہ بھی تبھی ممکن ہے جب عام انتخابات کے نتیجے میں ایک مستحکم حکومت اسلام آباد کو کنٹرول سنبھال لے۔ تو کیا پاکستان میں 8 فروری کے بعد ایک مستحکم اور پائیدار حکومت قائم ہونے جا رہی ہے؟ یہ ملین ڈالر کا سوال ہے

Facebook Comments HS