گریجویشن کے جوڑے یادگار کیوں نہیں ہوتے؟


بہت سی خواتین کے لیے ان کی شادی کا جوڑا ان کی زندگی کا قیمتی ترین لباس ہوتا ہے۔ ان کی اس سے کئی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔ وہ ہزار جتن کر کے اپنی مرضی کا جوڑا بنواتی ہے پھر پوری زندگی اسے سنبھال کر رکھتی ہیں۔ کبھی شادی یا شادی کے جوڑے کا ذکر ہو تو وہ انتہائی محبت سے اپنے اس جوڑے کی کہانی سناتی ہیں کہ انہوں نے وہ جوڑا کیسے بنوایا تھا۔ اگر سسرال سے آیا تو وہ کتنا اچھا یا کتنا برا تھا۔ شادی کو ایک دن گزرا ہو یا ایک دہائی، اس جوڑے کا ذکر ان کی آنکھیں چندھیا دیتا ہے اور ان کی زبان پھر سے وہی بار بار کے بتائے ہوئے قصے سنانے لگتی ہے۔

میرے لیے میری شادی کا جوڑا تو اہم تھا ہی لیکن اس سے اہم میری گریجویشن اور ڈیفنس کے جوڑے تھے۔ میں کوئی بہت لائق فائق طالبہ نہیں تھی بس زندگی میں کچھ لوگ صحیح وقت پر مل گئے جنہوں نے ڈگری پر ڈگری حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ تب سے خود کو گھسیٹنا شروع کر دیا اور بالآخر کسی بھی یونیورسٹی کی طرف سے جاری کی جانے والی سب سے اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی۔

ان تصاویر میں سے پہلی تصویر میرے بیچلرز کی گریجویشن کی تقریب کی ہے۔ میں نے ورچوئل یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں دو سالہ بیچلرز کی ڈگری مکمل کی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹرز کا پہلا سمیسٹر تھا۔ ورچوئل یونیورسٹی سے ای میل آئی کہ آپ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ فلاں تاریخ کو گریجویشن ہے۔ آپ کی شرکت لازمی ہے۔

میں اپنے سکول میں پوزیشن حاصل کرتی رہی ہوں۔ بورڈ کے امتحانات میں بس مناسب سے ہی نمبر لے سکی۔ اس کے بعد کون نتیجہ پوچھتا ہے۔ اس لیے شاید ذہن میں بھی نہیں تھا کہ یونیورسٹیوں میں بھی پوزیشن سسٹم ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی طرف سے ای میل آئی تو بس ڈھیروں جذبات تھے۔ ایک بندہ ساتھ جا سکتا تھا۔ بھائی کا نام دے دیا کہ شاید اس پر بھی کچھ اثر ہو۔

اب پہننا کیا ہے۔ یہ سوچا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہماری خریداری گھر کے قریب کسی بازار سے ہوتی تھی۔ امی کو جو سمجھ آتا تھا، لے آتی تھیں۔ وہی ہمارے کپڑے سیتی تھیں۔ جیسے بھی سیتی تھیں ہم پہن لیتے تھے۔

یہ میرا پہلا ڈیزائنر ڈریس تھا۔ شاید ونیزہ احمد کا تھا۔ اس کے لیے ہم گھنٹوں لبرٹی بازار گھومے تھے۔ تھوڑے سے ہی پیسے تھے لیکن اپنے کمائے ہوئے تھے۔ انہی سے سوٹ خریدا اور پھر اس خاص درزی سے سلوایا۔ اے لائن قمیض اور کھلا ٹراؤزر۔ پرنٹ کچھ ایسا تھا کہ دامن پر بھورا رنگ تھا اور وہاں سے گلے کی طرف آتے ہوئے رنگ مدھم ہوتے ہوتے قریباً سفید ہی ہو جاتا تھا۔ مجھے بہت اچھا لگا۔

گریجویشن کے دن میں نے گھنٹوں لگا کر اپنے بال سیدھے کیے۔ اچھا سا میک اپ کیا جو سٹیج تک جاتے جاتے میری جلد نے کھا لیا۔ تصاویر میری کبھی اچھی نہیں آتیں۔ اس لمحے خوشی ایسی تھی جیسے نوبل انعام مل رہا ہو۔ میری باچھیں کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔ میرے پیچھے کھڑے یونیورسٹی کے ریکٹر مجھے خوشی سے دیکھ رہے تھے۔

دوسری تصویر میرے ماسٹرز کے فائنل ڈیفینس کی ہے۔ میں چین جب ماسٹرز کرنے گئی تو ساتھ دو برقعے بھی لے گئی تھی۔ پورے دو سال ان برقعوں میں گھومی۔ آخری کچھ ماہ میں عقل آئی تو برقعوں کے جھنجھٹ سے نکل آئی۔ برقعوں کی وجہ سے میرے پاس کچھ خاص کپڑے نہیں تھے۔ تھیسز ڈیفینس تھا اور میرے پاس پہننے کے لیے مناسب کپڑے نہیں تھے یا جو تھے وہ مجھے اس موقع کے لیے مناسب نہیں لگ رہے تھے۔ میں اپنے ڈیفینس کے وقت خود کو خوبصورت لگنا چاہتی تھی۔

اس وقت یونیورسٹی کے مغربی گیٹ پر ایک مارکیٹ تھی۔ میں ایک شام وہاں گئی۔ کئی دکانوں کا چکر لگایا اور پھر یہ سرخ رنگ کا ٹاپ خرید لیا۔ مجھے سرخ رنگ پسند ہے۔ دو سالوں میں پہلی بار میں نے کوئی ڈھنگ کا لباس پہنا تھا۔ اب جانے یہ ٹاپ کہاں گیا لیکن اس دن اس نے مجھے بہت خوبصورت محسوس کروایا تھا۔

اگلی تصویر میرے ماسٹرز کے گریجویشن کی ہے۔ یہ گاؤن یونیورسٹی کی طرف سے ملا تھا۔ اس یونیورسٹی میں ماسٹرز والے نیلا گاؤن پہنتے ہیں اور پی ایچ ڈی والے سرخ۔ اس گاؤن کے نیچے بس ایک ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی تھی۔ اس وقت میرے پاس یہی ایک رنگین سکارف تھا۔ وہ سر کے گرد باندھ لیا۔ مجھے اس وقت یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ گریجویشن گاؤن کی ڈوری ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف کی جاتی ہے اور یہ طالب علم کے گریجویٹ ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔ مجھے شادی کی ہر رسم پتہ تھی لیکن یہ بات نہیں پتہ تھی کیونکہ اس بارے بات ہی نہیں ہوتی۔

اس سے اگلی تصویر میرے پی ایچ ڈی کے فائنل ڈیفینس کی ہے جو 30 نومبر 2023 کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہوا تھا۔ بیجنگ میں شدید سردی تھی۔ میں نے خاکی پینٹس پہنی تھیں اور ساتھ کالی ٹی شرٹ، اوپر بھاری بھرکم کوٹ۔ چین میں عمارتیں گرم ہوتی ہیں تو اندر آ کر کوٹ اتارنا پڑا۔ اس وقت احساس ہوا کہ میں اپنے ساتھ ایک فارمل کالا کوٹ لا سکتی تھی جو پہنا ہوا بہت اچھا لگتا۔ بہت دل کیا کہ ڈیپارٹمنٹ سے بیس منٹ کی پیدل مسافت پر واقع اپنے ہاسٹل سے وہ کوٹ اٹھا لاؤں پر وقت نہیں تھا۔ چینی وقت پر سب کام کرتے ہیں۔ چپ چاپ اسی ٹی شرٹ میں تھیسز پریزینٹ کر دیا۔

اس وقت احساس ہوا کہ ان کپڑوں سے زیادہ اہم وہ کام تھا جو میں پریزینٹ کر رہی تھی۔ وہ کام شاید دنیا میں بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اس کے لیے بہت کچھ قربان کیا۔ وہ دن میری زندگی کا اہم ترین دن تھا۔ اس دن میرا وہ خواب پورا ہوا تھا جو میں نے کئی سال پہلے دیکھا تھا۔

دوسری طرف شادی کے جوڑے پر آئیں تو میں نے اس کے لیے کوئی بھاگم دوڑ نہیں کی۔ ایک دن لاہور کی ایک مارکیٹ گئے۔ ایک دکان میں داخل ہوئے۔ دکاندار نے فٹا فٹ جوڑے کھولنے شروع کر دیے۔ میں سادی سی شادی چاہتی تھی لیکن میرے گھر والے بڑی سی شادی کرنا چاہتے تھے۔ میں اپنی ضد پر قائم رہی تو میری امی نے کہا کہ تم تو چلی جاؤ گی، پیچھے ہم رہ جائیں گے۔ کس کس کا منہ بند کریں گے کہ چپ چاپ شادی کیوں کی؟ ایسا کیا ہو گیا تھا؟ لوگ بہت کچھ سوچ لیتے ہیں۔ مجھے مجبوراً ماننا پڑا۔ پاکستان میں شادی جوڑے کی نہیں خاندان کی ہوتی ہے۔ اپنے خیالات کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے لیے مشکلات کھڑی نہیں کرنی چاہیے۔

شادی کی تقریب کے لیے جوڑا لینا لازمی تھا۔ میں بھی ایک عام عورت کی طرح دلہن بننا چاہتی تھی لیکن میں نے اپنے اس روپ کے لیے مہینوں بھاگم دوڑ نہیں کی۔ نہ کسی کا جوڑا دیکھا، نہ درزیوں کے سر کھائے، نہ ماں باپ کی جیب سے لاکھوں روپے نکلوائے۔ لاہور کی ایک عام سی مارکیٹ میں گئے۔ ایک دکان میں بیٹھے۔ دکان دار نے جوڑے کھولنے شروع کیے تو میں نے اسے صاف کہہ دیا کہ مجھے بہت بھاری کام نہیں چاہیے۔ بس ایسا جوڑا ہو جو میری آنکھوں کو میرے لیے اچھا لگے۔ اس نے پھر جو جوڑا کھولا وہ میری آنکھوں کو بھا گیا۔ میں نے کہا بس یہ فائنل کر دیں۔ اس نے کہا اس میں کچھ تبدیلیاں کرنی ہیں تو بتا دیں۔ میں نے کہا ایسے ہی ٹھیک ہے۔ آپ سے وقت سے سلوا کر بھجوا دیں۔

سسرال کی طرف سے جو ولیمے کا جوڑا بنا وہ ولیمے کے دن ہی دیکھا۔ سفید رنگ کی میکسی تھی۔ اسی دن پہنی، فنکشن کے بعد اتاری اور واپس رکھ دی۔ بری کے جوڑے ساس نے الماری کھول کر دکھائے۔ میں نے بھی نظر ڈال لی۔ وہ دن اور آج کا دن وہ وہیں لٹکے ہوئے ہیں۔ اتنے بھاری جوڑے پہن کر میں نے کہاں جانا تھا۔

ہم دونوں ملک سے باہر رہتے ہیں اور اکیلے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے لیے وہ جوڑے بے کار ہیں۔ میری یادیں اپنے گریجویشن اور ڈیفینس کے جوڑوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ میرے لیے یہ میری زندگی کے یادگار جوڑے ہیں۔ شادی کا جوڑا بھی اہم ہے۔ لیکن ان جوڑوں نے مجھے وہ دیا ہے جو میری پہچان ہے جبکہ شادی کے جوڑے نے مجھے اپنے زندگی کے ساتھی کے ساتھ رہنے کی معاشرتی قبولیت دی۔ میری زندگی کا ساتھی تو اس جوڑے سے پہلے بھی میرے ساتھ تھا اور اس جوڑے کے بعد بھی میرے ساتھ ہے۔

 

Facebook Comments HS