ایاز میلو – سندھ کا فخر
حیدر آباد میں ایاز میلو ملک بھر کے شائقین ادب و فن کے لیے ہر سال دسمبر میں مل بیٹھنے اور گفت و شنید کے لیے شان دار مواقع فراہم کرتا ہے۔
تقریباً ایک عشرے سے حیدرآباد کی بہادر خواتین جن میں امر سندھو، عرفانہ ملاح، حسین مسرت اور ذکیہ اعجاز شامل ہیں یہ پانچ روزہ میلہ سجا رہی ہیں۔ ایاز میلو میں عوام کی شرکت اسے دیگر ادبی میلوں سے ممتاز بناتی ہے۔ ان خواتین کو کچھ مردوں کا بھی مدد و تعاون حاصل ہوتا ہے جن میں امداد چانڈیو، مجید چانڈیو اور تاج جویو جیسے حضرات شامل ہیں۔
نواں ایاز میلہ دسمبر 2023 کے آخری ہفتے میں منعقد ہوا اور اس سال کی خاص بات شیخ ایاز کی صد سالہ تقریبات بھی تھیں۔
شیخ ایاز جو ٹھیک سو سال قبل 1923 میں شکار پور میں پیدا ہوئے تھے اور 1997 میں کراچی میں فوت ہوئے۔ وہ بلاشبہ سندھی اور اردو کے بہت بڑے شاعر تھے جنہیں یہ فخر بھی حاصل تھا کہ انہوں نے جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور فیض احمد فیض، گل خان نصیر، اجمل خٹک اور حبیب جالب کی صفوں میں کھڑے رہے۔ یہ سب وہ عظیم شعراء تھے جنہیں ریاست نے مختلف اوقات میں نشانہ بنایا مگر عوام نے ان کو محبتوں سے نوازا۔
چوں کہ شیخ ایاز خود ایک مزاحمتی شاعر تھے اس لیے یہ بڑا مناسب موقع تھا کہ جان قربان کرنے والے رہ نماؤں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو بھی یاد کیا جاتا جو خود بھی سندھ میں مزاحمت کا استعارہ بن چکے ہیں۔ لیکن جب ایاز میلو کی کمیٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو میلے کے افتتاح کے لیے مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تو تنقید کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
سوشل میڈیا پر بھانت بھانت کے نکتہ چین اپنی اپنی راگنی الاپنے لگے اور میلے کو برا بھلا کہنے لگے کہ یہ دراصل پیپلز پارٹی کا ترجمان ہے۔ لیکن امر سندھو اور عرفانہ ملاح نے اس شور شرابے پر دیہان دینے کے بجائے اپنی طے شدہ ترتیب کے مطابق بلاول بھٹو سے ہی میلے کا افتتاح کرایا۔
کلیدی خطاب اصغر ندیم سید نے کیا اور انہوں نے افتتاحی تقریب میں ہی کارونجھر کا مقدمہ پیش کر کے لوگوں کے دل جیت لیے۔ تھر پارکر میں کارونجھر کی پہاڑیوں سے گرینائٹ کے قیمتی پتھر اور دیگر معدنیات بڑی بے دردی سے نکالے جا رہے ہیں۔
کارونجھر سندھ میں تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان پہاڑیوں کو لالچی کاروباری لوگوں سے خطرہ ہے جو سول اور فوجی افسر شاہی کے ساتھ مل کر یہاں معدنیات پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔ اس لوٹ مار میں مقامی سیاست دان بھی ملوث ہیں۔
کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ بمشکل بیس کلومیٹر لمبا ہے اور اس کی اونچائی بھی صرف تین سو میٹر ہے۔ اس لیے صرف چند برسوں میں ہی اس کا صفایا ہو سکتا ہے جس سے تھر کے علاقے کے لوگ اپنے اس لاکھوں سال پرانے ورثے سے محروم ہوسکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں کارونجھر کے مسئلے پر کوئی ٹھوس وعدہ کرنے سے گریز کیا اور صرف اپنی خاندانی قربانیوں پر بات کرتے رہے۔ بلاول اچھا بولتے ہیں اور ایک بہترین مقرر کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ لیکن اس دن یعنی 21 دسمبر کو جو کچھ اسلام آباد میں بلوچ خواتین کے ساتھ ہو رہا تھا اس پر بلاول نے لب کشائی نہیں کی۔ ظاہر ہے ان کی سیاسی ترجیحات میں کارونجھر اور بلوچ لوگوں کے مسائل نظر نہیں آرہے۔
ایاز میلو کے دوسرے دن بہت دل چسپ نشستیں ہوئیں جن میں کئی کتابیں بھی متعارف کرائی گئیں ”فیس ٹو فیس بے نظیر“ یا بے نظیر کے روبرو زاہد حسین کی کتاب ہے جس پر اچھی گفتگو ہوئی۔ رانا محبوب اختر کی ”سندھ گلال“ بھی پیش کی گئی اور رفعت عباس کا ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ بھی۔ ان کے علاوہ اختر ندیم سید کی کتاب ”جہاں آباد کی گلیاں“ اور پروفیسر اعجاز قریشی کی کتاب ”دا کیس آف کراچی“ بھی متعارف کرائی گئیں۔
زاہد حسین کی کتاب پر غازی صلاح الدین اور محمد علی شیخ نے گفتگو کی اور جمہوریت کے لیے بے نظیر بھٹو کی جدوجہد پر تفصیلی بات کی۔ زاہد حسین نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ اپنی طویل شناسائی کا ذکر کیا اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ زاہد حسین کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو ایک کھلے ذہن کی سیاست دان تھیں جو اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتی تھیں۔
مقررین کا خیال تھا کہ بے نظیر بھٹو پچیس تیس سال کی عمر میں ہی خاصی بالغ النظر شخصیت کی مالک تھیں اور انہیں جمہوریت اور سیاسی ارتقاء پر یقین تھا۔ وہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے کوشاں رہیں مگر ان کے مخالفین نے بے نظیر کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کی بھرپور سعی کی۔ اپنی دونوں حکومتوں میں بے نظیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ناخوش گوار معاہدوں کو بھگتنا پڑا جو نگراں حکومتوں نے ملک پر مسلط کیے تھے جس میں بے نظیر کو بہت دشواری ہوئی مگر ان کے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں ایک دیو بھی ان کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔
”سندھ گلال“ رانا محبوب اختر کی شان دار تخلیق ہے جو سندھ کے ثقافتی ورثے کا احاطہ کرتے ہوئے سمبارا نامی موہن جو دڑو کی رقاصہ سے لے کر شاہ عبدالطیف تک بہتی چلی آتی ہے۔ جامی چانڈیو اور مدثر بھارا نے کتاب پر سیر حاصل گفتگو کی اور وضاحت سے بتایا کہ ”سندھ گلال“ اکیسویں صدی کے سندھیوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی جڑیں زمانہ قدیم میں پیوست رکھتے ہیں۔
سندھ گلال کا سفر صدیوں پر محیط ہے جسے رانا محبوب اختر آج کے سندھ تک لاکر بڑی محبت سے پیش کرتے ہیں اور سندھ کے مزاحمتی عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ گلال دراصل لال رنگ ہے جو مزاحمت کی علامت ہے جسے امراء اور مولوی دونوں پسند نہیں کرتے۔
نذیر لغاری اور خلیل کنھبر نے رفعت عباس کے سرائیکی ناول ”نیلیاں سلہاں پچھوں“ یعنی ”نیلی ٹائیلوں کے پیچھے“ پر گفت گو کی اور بتایا کہ روایتی نیلی ٹائل جو مقبروں وغیرہ پر لگائی جاتی ہیں وہ ایک طرح سے استحصال کو چھپاتی ہیں۔
یہ استحصال سرائیکی لوگوں کا مقدر رہا ہے اور صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ ناول بتاتا ہے کہ کس طرح مقامی لوگوں کو ایک طرح کے اچھوت بنا کر رکھا گیا ہے جس کے ذمہ دار حکم ران ہیں۔ یہ حکم ران سرائیکی لوگوں کو غلام بنا کر رکھتے آئے ہیں اور جن لوگوں کو خود مختار ہونا چاہیے تھا ان کے پاس کچھ اختیار نہیں رہے اور انہیں نیلی ٹائلوں کے تقدس میں پرو دیا گیا ہے جو عقیدت اور ایمان کی علامت ہیں ناکہ خود اعتمادی کی۔
مختلف خاندانوں کے گھوڑے سرائیکی علاقوں کو روندتے آئے ہیں اور اس ناول میں روندے جانے والے لوگوں کا ہی مقدمہ پیش کیا گیا ہے۔
اصغر ندیم سید کا ناول ”جہاں آباد کی گلیاں“ میں کچھ ذاتی مشاہدات و تجربات اور کچھ فکشن کی آمیزش ہے۔ اس ناول پر ایاز میلو میں ناصر عباس نیر نے اچھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر بڑے ناول اہم تاریخی واقعات کا احاطہ کرتے ہیں اور اس ناول میں بھی پاکستان کی تاریخ کے ناقابل فراموش دور کو پیش کیا گیا ہے۔ 1977 میں فوجی بغاوت کے بعد جنرل ضیاء کا اقتدار پر غیر آئینی قبضہ اور بھٹو حکومت کے خاتمے سے ناول کا آغاز ہوتا ہے۔
تین اور چار اپریل 1979 کی درمیانی شب جب بھٹو کو پھانسی دی جا رہی ہے تو اس دوران میں ایک بچہ جنم لیتا ہے جس کے باپ کو ابھی بہت کچھ بھگتنا ہے۔ اسے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر وہ جلا وطن ہوتا ہے جہاں ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے جو دل چسپ بھی ہے اور چشم کشا بھی۔
پروفیسر اعجاز قریشی کی کتاب ”دا کیس آف کراچی“ پر ایاز میلو میں ڈاکٹر قیصر بنگالی اور گل محمد عمرانی نے گفتگو کی اور اس کے تحقیقی کام کو سراہا۔ اس کتاب میں کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی کوششوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کے اصل ماخذ پیش کیے گئے ہیں۔
اعجاز قریشی نے پارلیمان کی تقریروں سے لے کر مختلف حکم ناموں تک بڑی نایاب دستاویزات جمع کر کے اس کتاب میں پیش کردی ہیں۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کی واحد تحقیقی کتاب ہے اور اسے تاریخ پاکستان کے طلبا و طالبات کو ضرور پڑھنا چاہیے بل کہ اسے نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔
ان کے علاوہ ایاز میلو میں بہت سی نشستیں ہوئیں۔ مثلاً ناصر عباس نیر کی کتاب ”نئے نقاد کے نام خطوط“ فیاض لطیف کی کتاب ”شیخ ایاز جی نعت“ ضراب حیدر کی کہانیوں کا مجموعہ ”سیلفی“ وغیرہ پر گفتگو کی گئی۔ محمد حمید شاہد کے افسانوں پر بھی سیشن ہوا اور شیخ ایاز کی شاعری میں فلسطین اور سندھ کے استعاروں پر بھی بات کی گئی۔
مختصر یہ کہ ایاز میلو میں درجنوں پروگرام ہوئے جن میں بلامبالغہ سو سے زیادہ مقررین نے خیالات کا اظہار کیا۔ میلے میں ادیب، شاعر، صحافی اور سرگرم کارکن سب موجود تھے اور خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت نے اسے چار چاند لگا دیے۔
یہ میلہ کراچی آرٹ کونسل کے صدر احمد شاہ صاحب کی ذاتی دلچسپی سے منعقد ہو پایا کیوں کہ مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث آخر وقت میں احمد شاہ نے آرٹ کونسل کراچی کے فنڈ سے تقریباً بیس لاکھ روپے مہیا کیے جس کا اختتامی تقریب میں اعتراف کیا گیا۔ اپنی تقریر میں احمد شاہ نے اس طرح کے میلوں کے لیے اپنی کاوشوں کا اعادہ بھی کیا


