سمندر، سورج اور شاعری


چاک ایونٹ مینجمنٹ کا نام ادبی و تفریحی سرگرمیوں کے حوالے سے اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کے پروگرامز کی ایک طویل فہرست ہے جو ادبی، تفریحی اور انتظامی ہر اعتبار سے ہر سطح پر سراہے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال اگر چاک انتظامیہ نے جاتے ہوئے سال کو دسمبر مشاعرے کے ذریعے الوداع کہا تھا تو سال نو کا استقبال ساحل پہ پکنک اور مشاعرے کے ذریعے کیا۔

چاک کے وہ پروگرامز جو اب ایک روایت بن گئے ہیں، جنوری میں ساحل پہ پکنک بھی انھی پروگراموں میں سے ایک ہے چناں چہ نئے سال کی آمد پر چاک ایونٹ مینجمنٹ نے حسب روایت ساحل پہ پکنک کا اہتمام کیا۔ چاک کا سب سے پہلا پروگرام پکنک ہی تھی جس نے ایک نئی روایت کو جنم دیا تھا کہ پکنک میں مشاعرہ اور مختلف قسم کی دل چسپ تفریحات بھی شامل ہوں جیسے کہ بوٹنگ، گھڑ سواری/اونٹ سواری اور سانپ تماشا وغیرہ۔ اس بات کو تین سال ہو گئے ہیں لیکن اس پکنک کی خوش گوار یادیں اب بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ ان ہی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے چاک ایونٹ مینجمنٹ ساحل پہ پکنک کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سال یہ پکنک 14 جنوری کو منائی گئی۔

صبح نو بجے کا وقت مقرر ہوا کہ سب لوگ نیپا پہ واقع صادقین انسٹی ٹیوٹ پہ جمع ہوجائیں۔ سب لوگ وہاں جمع ہوئے۔ کوسٹر میں سوار ہوکے ہاکس بے کی طرف روانہ ہوئے۔ کچھ لوگوں نے اپنی گاڑیوں میں آنے کو ترجیح دی۔ یوں یہ قافلہ جو ایک کوسٹر اور تین کاروں پر مشتمل تھا، چل پڑا۔ کوسٹر میں حسب روایت گانے اور گانوں پہ چند زندہ دل چاکیز کی مزاحیہ اداکاری، اس کے ساتھ دل چسپ فقرے بازی میں سفر یوں کٹا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور ہم منزل پہ پہنچ گئے۔

ہٹ میں پہنچ کے سب لوگ ہال نما کمرے میں جمع ہوئے۔ کچھ ہی دیر میں مشاعرے کا آغاز ہوا۔ اس مرتبہ مشاعرے کے مہمان شعراء میں طیبہ سعید، مقدس سعید، نصرت عظمیٰ، شاہ فہد، گل افشاں، ناصر حسین ناصر، علی کوثر، عاشق شوکی، صفدر علی انشا، ماوراء سعید، آثم رمزی، منصور ساحر، سلیم فوز، انجم جاوید، زاہد شمسی، صغیر جعفری، پروین حیدر اور صبیحہ صباء شامل تھے۔ مشاعرے کی صدارت صبیحہ صبا کو سونپی گئی تھی جب کہ نظامت منصور ساحر کر رہے تھے۔

سینئر اور جونیئر شاعروں کے خوب صورت امتزاج پر مشتمل اس مشاعرے نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی اور یہ دل چسپی آخر تک برقرار رہی۔ شاعر حضرات نے عمدہ کلام پیش کیا۔ سامعین بھی سخن فہم تھے۔ ہر بہترین شعر پہ شعراء کو بھرپور داد ملی۔ کچھ شعراء کا نمونۂ کلام:۔

سمٹ جاتے ہیں میرے ساتھ مجھ میں
میرے پاوٴں میری چادر میں جا کے
(زاہد شمسی)
جس میں تم سیڑھیاں گن گن کے چلے آتے تھے
وہی کمرہ ہے میرا آج بھی دالان کے ساتھ
(سلیم فوز)
ناراض نہ ہو جاناں اب ہم منے رہیں گے
جب تک یہ زندگی ہے تیرے کنے رہیں گے
الفت کی دلدلوں میں خود کو گرا لیا ہے
اب جان دل کلیجہ اس میں سنے رہیں گے
(صفدر علی خان)
سوچ رہی ہے بحر کے اندر کی خاموشی
اتھلا دریا اتنا شور مچا سکتا ہے
(ماورا سید)

جتنے گم نام لوگ ہیں ان میں
سب سے مشہور آدمی ہوں میں
(آثم رمزی)
اسی لیے تو زیادہ کمانا پڑتا ہے
اسے بھی پال رہا ہوں جو آستین میں ہے
(منصور ساحر)
ہے میرا درد بھی شامل میری کہانی میں
وہ مجھ کو چھوڑ گیا ہے بھری جوانی میں
(عاشق شوکی)
ہمارے گاوٴں میں بارش نہیں ہوئی اب کے
زمین سوکھ گئی اور لگان سر پر ہے
(انجم جاوید)
مر جاتا ہوں لوگوں کی بربادی پر
تھوڑی سی امید پر جینے لگتا ہوں
(صغیر جعفری)
آپ کے دل میں اک گھر بنانا تھا
کتنا مشکل سفر کیا ہے میاں
(پروین حیدر)
داستان لیلیٰ و مجنوں بھی ہے محو سفر
کر رہا ہے رانجھا آج بھی تعاقب ہیر کا
(علی کوثر)

ضرورتیں پڑیں تو سب نے مجھ سے رابطہ کیا
انا کو چھوڑ چھاڑ کے گلے مجھے لگا لیا
(شاہ فہد)
دھیان رہے کہ ہم کو تمھاری عادت بھی ہے
لیکن عادت کیا ہوتی ہے تم کیا جانو
(گل افشاں )
ہم درد کی گہرائی سے ہوتے کہاں واقف
کچھ درد اگر دل نے سنبھالے نہیں ہوتا
(صبیحہ صبا)

چند شعراء نے نظمیں بھی سنائیں۔ ان خوب صورت نظموں نے بھی حاضرین کو بہت محظوظ کیا۔ تین گھنٹے کیسے گزرے معلوم ہی نہ ہوسکا۔ دو بجے کے بعد ناظم مشاعرہ منصور ساحر نے مشاعرے کو سمیٹنا شروع کیا۔ مشاعرے کے اختتام پر جناب اوج کمال صاحب سے گفت گو کی درخواست کی گئی۔ انھوں نے شاعری اور شاعر حضرات کے بارے میں پرمغز گفت گو کی۔ پھر طعام کی باری آئی۔ کھانے میں پائے، حلیم اور گاجر کا حلوہ تھے۔ کھانے کے بعد سب نے ساحل کا رخ کیا۔

کچھ لوگوں نے دور سے ہی ساحل کا نظارہ کرنے کو ترجیح دی، کچھ نے موٹر بوٹ میں سوار ہو کر سمندر کی سیر کی، کچھ نے گھڑ سواری کی۔ سمندر کی لہروں سے سب نے پاوٴں بھگوئے جس کے نتیجے میں ڈھیروں ڈھیر ریت پیروں اور پائنچوں پہ نظر آنے لگی۔ ساحل پہ کچھ وقت گزار کے سب لوگ واپس ہٹ میں آئے۔ شام کی چائے تیار تھی۔ چائے پینے کے بعد پھر ایک محفل جمی لیکن اب یہ نغمہ سرائی کی محفل تھی اور اس لحاظ سے مختلف تھی کہ اس میں ایک نئے لیکن باقاعدہ گائیکی سیکھنے والے گلوکار معتمد سے گانے سنے گئے۔

ساتھ ساتھ کئی دیگر ساتھیوں نے بھی شوقیہ گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ شام گہری ہو چلی تھی۔ واپسی کا سوچا گیا۔ اس یاد گار دن کے اختتام پہ تصویری سیشن کے بعد سب کوسٹر اور گاڑیوں میں سوار ہوکے واپس چل پڑے۔ اس پرلطف پکنک میں مدعو کر کے ہم سب کی یادوں میں ایک خوب صورت یاد کے اضافے کے لیے سب شرکاء نے صائمہ صمیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

Facebook Comments HS