ایک بیٹی کا ماں کے نام خط – فکشن


سلام امی

آپ خیریت سے ہیں اس لیے خیریت نہیں پوچھوں گی۔ یہ اطلاع دینے کے لیے آپ کو لکھ رہی ہوں کہ میں اس قید خانے کو، جیسے آپ گھر کہتی ہیں چھوڑ دیا ہے۔ میں اب کبھی واپس نہیں آنا چاہتی۔ وہ سب جو میں کہنے کے لیے یہ خط لکھ رہی ہوں، آپ کے سامنے زبان سے بھی کہے سکتی تھی مگر آپ سے کسی قسم کی بھی بامعنی گفتگو کبھی سے ممکن نہیں۔

آپ کے خیال میں ماں باپ ہمیشہ ٹھیک ہوتے ہیں اور بچے نا سمجھ لہذا بچوں کو صرف سننا چاہیے بولنا نہیں، حکم مان لینا چاہیے، کچھ مانگنا نہیں۔ اس لیے دل میں جو کچھ برسوں سے پل رہا ہے وہ سب اس خط میں کہے رہی ہوں۔ آپ دن میں مجھے دس بار اچھی اولاد کے وظائف گنوا کر ذہنی تشدد کرتی تھیں۔ مگر آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ آپ خود کیسی ماں ہیں؟

سب شادی شدہ جوڑے بچے پیدا کرتے ہیں اس لیے آپ کے بھی پیدا ہو گئے۔ بنا مانگے، بنا ترسے اولاد مل گئی، آپ پر ماں کا ٹھپا لگ گیا، عزت، قبولیت مل گئی تو بس آپ کی زندگی مکمل ہو گئی۔ مگر بچوں کی جسمانی، جذباتی، ذہنی ضروریات اور رجحانات کیا ہیں؟ اس سے آپ کو کوئی سروکار نہیں رہا۔ کوئی ان پڑھ جاہل عورت ہوتی تو میں یہ شکوہ نہیں کرتی مگر آپ تو ایم اے پاس ہیں، مگر آپ نے کبھی میرے ذہن میں جھانکنے کی کوشش بھی نہیں کی اور ابو کو کرنے نہیں دی۔

ذہن وہن، رجحانات چھوڑیں یہ تو شاید عیاشی کی باتیں ہیں۔ آپ تو ہماری حفاظت سے بھی غافل رہیں۔ ہوش سنبھالنے کے بعد ، آپ کے ہوتے ہوئے میں نے پہلی بار خود کو اس وقت غیر محفوظ محسوس کیا جب آپ نے مجھے سات آٹھ سال کی عمر میں محلے کے ایک بزرگ کے پاس ٹیوشن کے لیے بھیجا۔ مجھے اسکارف اور دوپٹے سے جسم چھپانا سکھا دیا تھا، مگر یہ نہیں بتایا کہ گھر سے باہر میں نے خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، خطرہ کیسے بھانپنا ہے، خطرات کس قسم کے ہو سکتے ہیں اور اور میں کیسے ان کا اظہار کر سکتی ہوں۔

وہ بڈھا مجھ سمیت کئی بچیوں کو ادھر ادھر سے چھوتا تھا۔ پاس بٹھا کر سمجھانے کے بہانے کپڑوں کے اندر ہاتھ ڈالتا، کبھی خود اپنے جسم کو چھونے کے لیے کہتا تھا۔ مجھے اپنی وہ سراسیمگی، خاموشی، ٹیوشن نہ جانے کے لیے تڑپ تڑپ کر رونا یاد ہے۔ لیکن آپ کے ذہن میں کوئی شائبہ بھی نہیں گزرا کہ آپ کے جسم کا ایک حصہ کس کرب سے گزر رہا ہے؟ کچھ تو مسئلہ ہے جو میرا جگر گوشہ کسی کام سے اتنا خوفزدہ یا نالاں کیوں ہے؟ کیا مائیں پیدا کر کے، اتنی بے نیاز ہوجاتی ہیں؟ میرے ان ذہنی اور جسمانی صدمات کا مداوا کبھی ممکن ہے؟ میرے مجروح ذہن اور روح کا کوئی تریاق ہے؟

پھر میری بلوغت نے مجھے آ دبوچا مگر آپ بے خبر رہیں۔ میں تین دن تک اپنے کپڑے خراب کرتی رہی، دن میں، رات میں گھڑی گھڑی باتھ روم جاتی رہی لیکن آپ کو ایک بار بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ایک بار مجھ سے میرا مسئلہ معلوم کرتیں، مجھ سے پوچھتیں میں کیوں بار بار باتھ جا رہی ہوں۔ کیوں گھبرائی گھبرائی سی ہوں۔ میں اسی حالت میں اسکول جاتی رہی اور واپسی میں میری پوری قمیض اور شلوار خراب ہو چکی ہوتی تھی اور دوپٹے سے چھپانے کے باوجود محلے کے شریر لڑکے میرا مذاق اڑاتے تھے۔ اس وقت میری عزت نفس اور آپ پر اعتبار ایسا کرچی کرچی ہوا کہ آج تک نہیں جڑ پایا۔ آپ پر بے اعتباری اور اس دنیا میں اپنے تنہا ہونے کا احساس گہرا ترین ہو گیا۔

کیا آپ پر یہ وقت نہیں گزرا تھا، کیا آپ کے علم نہیں تھا کہ کسی وقت بھی آپ کی بیٹی کو اس کا پہلا مہینہ آ سکتا ہے؟ کیا آپ کا فرض نہیں تھا کہ آپ بیٹی کو قبل از وقت گائیڈ کرتیں۔ اس کی تیاری کر کے رکھتیں۔ پیدا کرنے والی کی اتنی لاپرواہی کا سوچ کر دل چاہتا ہے اتنا چیخوں کے ساری دنیا کی لاپروا ماؤں کے کان پھٹ جائیں اور پھر کبھی کوئی لڑکی شلوار میں خون ٹپکاتی نہ پھرے۔

جسمانی تبدیلیوں کا اہم ترین وقت میرے ننھے ذہن پر کھرونچے ڈالتا ہوا گزر گیا۔
پھر آئی جوانی۔

اس جوانی کو کرب ناک آپ نے اس وقت بنا دیا جب آپ نے فیصلہ کر لیا کہ اب میری شادی ہو جانی چاہیے۔ آپ کو جو معقول عورت مل جاتی اس سے کہتیں تھیں کہ، میری بیٹی کے لیے کوئی رشتہ نظر میں ہو تو بتانا۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں آپ کا یہ جملہ کیسا بے وقعت کر دیتا تھا، ذلت کا دو لخت کر دینے والا احساس دماغ میں طوفان مچاتا تھا۔

آپ کو یاد ہے رشتے والی آنٹی مارکیٹ میں ایک جنرل اسٹور والے کا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ جو مجھ سے پندرہ سال بڑا تھا اور شکل صورت میں بھی اس کا مجھ سے قطعاً کوئی جوڑ نہیں تھا۔ آپ نے خود ناک بھوں چڑھائی تھیں اس کی تصویر دیکھ کر لیکن اس کے باوجود آپ نے انہیں گھر بلایا۔ اس کی ماں نے مجھ سے آپ کے سامنے کہا تھا، بیٹا ذرا اپنے بال دکھانا۔ اصل میں میرے بیٹے کو لمبے بال بہت پسند ہیں۔ اس تذلیل سے میرا دل آج تک پھوڑے کی طرح دکھتا ہے۔ مگر آپ نے ایک بار بھی احتجاج نہیں کیا کہ یہ غلط ہے، یہ بد تہذیبی ہے۔ یہ قربانی کا جانور نہیں جس کے منہ کھول کر آپ دانت گنیں گے اور پھر خریدیں گے۔ مگر آپ کی خاموشی نے میرا رہا سہا اعتبار بھی آپ سے اٹھا دیا۔

گھر سے مایوس ہو کر باہر پیار محبت، حوصلے اور کندھے کی تلاش میں مجھے ایک سہارا مل گیا۔ وہ سنتا تھا، وہ عزت کرتا تھا۔ میرا ہر رشتہ اس میں سمٹ آیا تھا۔

خلا تو ایک نہ ایک دن بھرنے ہی ہوتے ہیں۔

مگر صرف ایک بار، صرف ایک بار، اپنی زندگی کا اہم ترین انتخاب خود کرنے کی کوشش کی، اتنا کہا کہ مجھے ایک لڑکا پسند ہے اور میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں، صرف ایک خواہش کا اظہار کیا اور اچانک میں آپ کے لیے ایک عفریت بن گئی، کلنک بن گئی، آپ کے گھر، صحت، خوشیوں کے لیے خطرہ ہو گئی۔

مجھے بھرے پڑے گھر میں قید تنہائی دے دی گئی۔ آپ کا اور بہن بھائیوں کا میرے ساتھ کڑوا لہجہ، بے گانگی، فاصلے، بات بے بات طعنے مجھے دیے گئے مگر بے ہوش ہو ہو کر آپ گرتیں، ہر وقت ہائی بلڈ پریشر کی شکایت، دل کی بیماری کا رولا ڈالا جاتا۔ آپ سب مجھے ایسی وحشت ناک نظروں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے میں پاپ کی گٹھری ہوں، مجموعہ خبائث ہوں۔ کیا اپنی مرضی سے جینے کا حق مانگنا اتنا قبیح فعل ہے کہ میری ماں ماں نہیں رہی ہے۔

مگر اب مجھے یقین ہے کہ جب آپ کو میرا یہ خط ملے گا، آپ کی طبیعت حقیقت میں بگڑ جائے گی۔ حقیقت اس لیے کہے رہی ہوں کہ اس سے پہلے جب جب آپ نے ہائی بلڈ پریشر، دل میں درد کی شکایت سے بستر پکڑا یا زمین بوس ہوئیں، وہ سب ڈرامے تھے، بہانے تھے، یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں آپ خود اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں سچ کہے رہی ہوں۔ اور ایک ماں کے لیے اس سے زیادہ شرمساری کا مقام اور کوئی نہیں کہ اس کی اولاد اس کے مکرو فریب جانتی ہو۔

آپ تو ہر وقت توجہ حاصل کرنے کی چاہت پوری ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد اچھی بھلی ہو جاتی تھیں لیکن میں واپس ڈپریشن کے دلدل میں دھنسنے لگتی تھی، جس سے واپس نکلنے کا جوکھم میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اور میرے زخموں پر نمک یہ کہے کر چھڑکا جاتا تھا کہ، ڈپریشن کچھ نہیں ہوتا سوائے وہم یا بہانے کے۔

میں پچیس سال کی ہوں لیکن میرے ساتھ آپ کا سلوک دو سال کے بچے جیسا ہے۔ آپ جہاں اشارہ کریں میں وہاں چل پڑوں، چاہے میرا دل لرزے، ذہن میں طوفان اٹھیں، مگر آپ کی حکم عدولی نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری صورت میں آپ دھمکی دیتی تھیں کہ، گھر سے نکال دوں گی۔ بے شک صرف غصے میں ہی سہی لیکن ایسی دھمکیاں دیتی ہوئی ایک ماں کتنی قابل نفرین لگتی ہیں شاید کوئی بچہ نہ بتائے لیکن میں بتا رہی ہوں۔ آپ نے تو نہیں نکالا نہیں مگر میں خود نکل گئی ہوں، اس گھر سے جو میرے لیے راحت کدہ او ر محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہیے تھی۔

شاید میں غلط ہوں۔ شاید آپ غلط ہیں۔ شاید ہم دونوں غلط ہیں۔ شاید ہم دونوں سماج کے ڈسے ہیں۔ لیکن میری ماں ایک لاپرواہ اور سنگ دل عورت ہے اور میرے دل میں اس کے لیے کوئی محبت نہیں، یہ دکھ ساری عمر میرے دامن گیر رہے۔ خدا حافظ

عفیفہ

Facebook Comments HS