پنڈت جواہر لال نہرو کے ایک انٹرویو پر تبصرہ
آج کل پنڈت جواہر لال نہرو، بھارت کے پہلے وزیر اعظم اور آزادی کے بڑے رہنما، کے انٹرویو کی ایک ویڈیو گھوم رہی ہے جس میں پنڈت جی نے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کیا ہے :
1۔ جناح صاحب آزادی کے حق میں نہیں تھے
2۔ مسلم لیگ انگریزوں نے بنائی
3۔ مطالبہ پاکستان کی اصل وجہ مسلم لیگ میں شامل بڑے زمینداروں کی جاگیروں کا تحفظ تھی
ذاتی طور پر میں پنڈت جی کی علمیت اور سیاست کا بڑا مداح ہوں اور چاہتا ہوں کے ان کی تصانیف سب لوگ پڑھیں۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ کسی تعصب کے بغیر ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ اس میں سیکھنے کا بہت کچھ سامان موجود ہے۔ خاص طور پر ان کی سیاسی جدوجہد اور وزیر اعظم کی حیثیت میں اپنے وطن کے لئے خدمات بہت قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک اچھا رجحان ہو سکتا ہے کہ ہم دوسری طرف کا نقطہ نظر بھی جانیں تاکہ حقیقت آشکار ہو سکے۔
بات طویل ہو گئی کیونکہ میرا مقصد پنڈت جی کی رائے پر تبصرہ کرنا ہے نا کہ کچھ اور۔ آج 76 سال بعد جبکہ تقسیم پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور ہر طرف کا سرکاری ریکارڈ بھی میسر ہے ہم کسی بھی رائے پر پورے اعتماد کے ساتھ تبصرہ کر سکتے ہیں۔ پنڈت جی کی تینوں باتوں میں سے پہلی دو تاریخی طور پر غلط ہیں البتہ تیسری بات آدھی درست آدھی غلط ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جناح صاحب آزادی کے اتنے ہی بڑے رہنما ہیں جتنے کہ پنڈت جی خود۔ اگر میں پنڈت جی جیسا ہی اسلوب اختیار کروں تو تاریخ میں یہ شواہد موجود ہیں کہ پنڈت جی کے والد موتی لال نہرو صاحب جناب کو انگریز سرکار کا سچا خدمت گار بنانا چاہتے تھے اور انھوں نے اس کے لئے کوشش بھی کی۔ نہرو جی کی طرف انگریز سرکار کا جھکاؤ انہی کی کاوشوں کا ثمر تھا جس کا پاکستان نے خمیازہ بھگتا۔
مسلم لیگ سے بہت پہلے انگریز سرکار کانگریس بنا چکی تھی جس کی گود میں زیادہ تر ہندوستانی آزادی کے رہنماؤں نے جنم بھی لیا اور پرورش بھی پائی، تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ آزادی انگریز کی خواہش پر ملی؟ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ مسلم مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی اور سیاست میں ایک سے زیادہ سیاسی تنظیموں کا ہونا معمول کی بات ہے۔ شاید پنڈت جی مقابلے کی سیاست سے خوفزدہ اور نالاں تھے، یہ یقینی طور پر ایک غیر جمہوری رویہ ہے۔
تیسری بات اس حد تک درست ہے کہ جب پاکستان بنتا نظر آیا تو بہت سارے مسلمان جاگیردار جو دوسری جماعتوں کا حصہ تھے مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور پھر پاکستان بننے کے بعد نہ صرف اس پر قابض ہوئے بلکہ اپنی جاگیرداروں کے تحفظ میں بھی کامیاب رہے، اور آج تک اسی گروہ کی آل اولاد پاکستان پر مسلط ہے۔ یہی گروہ فوجی آمریت کا بازو بنا بھی اور ہے بھی۔
مگر کیا ایسے ہی مفاد پرست کانگریس میں شامل ناں تھے؟ بالکل شامل تھے مگر پنڈت جی اور دوسرے کانگریسی رہنماؤں کی موجودگی میں اپنے عزائم بروئے کار نہ لا سکے۔ کیا ان کی وجہ سے تمام کانگریس پے الزام رکھا جائے گا؟ ہاں پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان بہت جلد رخصت ہو گئے ورنہ حالات یہاں بھی مختلف ہوتے۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ کانگریس کے پاس زیادہ منجھے ہوئے رہنما تھے اور انھوں نے نئی مملکت کو ہم سے بہتر بنیادیں فراہم کیں مگر مسلم لیگ کے حصے میں کم قابل لوگ نہیں آئے تھے۔
آخر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اگر پنڈت جی اور دوسرے کانگریسی رہنما وسعت قلب کا مظاہرہ کرتے، مسلم لیگ کی اپوزیشن اور کابینہ مشن پلان قبول کر لیتے تو تقسیم سے بچا بھی جا سکتا تھا۔


