بچوں کے ساتھ دل بہلانے والے اولڈ بوائز
میرے لیے وہ کچھ غیر معمولی لمحات تھے۔ وہ لمحات کہ جن کو سامنے رکھ کر انسانی زندگی میں انسان پر بیتنے والے جنسی حادثات، اور پھر ان جنسی حادثات سے ان کی زندگی پر جو عوامل اثرانداز ہوتے ہیں، میں نے اس کے متعلق سوچنے کی کوشش کی۔ پہلے میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ اس دن، زیر بحث لمحات میں ہوا کیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ میں یونیورسٹی سے واپس آ رہا تھا۔ عین بدقسمتی جانیے، کہ میری جیب میں رقم ختم تھی۔ اگلی سڑک سنسان اس لحاظ سے تھی کہ اس سیدھی سادی سڑک پر کوئی ایک دکان بھی نہیں ہے۔
اگر دکان ہوتی تو میں جاز کیش سے نکلوا لیتا۔ میں چلنے لگا کہ چلو مین روڈ تک چلتا ہوں۔ کسی رکشہ والے کو بھی میں ہاتھ نہیں دے رہا تھا کہ ایسا نہ ہو یہ مجھے کنگلا سمجھ کر مجھ پر ہی بھاری نہ ہو جائے۔ ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ ایک گاڑی میرے پاس آ کر رکتی ہے۔ شیشہ کھلتا ہے اور ایک درمیانی عمر کا شخص مسکرا کر سلام کہتے ہوئے پوچھتا ہے بیٹا کہاں جانا ہے؟ میں کہتا ہوں بس چوک تک! بیٹا میں بھی ادھر ہی جا رہا ہوں۔
بیٹھ جاؤ۔ میں اس اجنبی کو ممنونیت کے انداز میں دیکھتا ہوں اور پیچھے بیٹھنے کے لیے دروازہ کھولتا ہوں، اچانک مجھے آواز آتی ہے۔ بیٹا آگے آ جاؤ۔ تھوڑا سا ہی تو راستہ ہے۔ بہرحال میں ہچکچاتے ہوئے بیٹھ جاتا ہوں۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی مجبوری میں پھنسے ہوں جلد اعتبار کر لیتے ہیں۔ کوئی خاص مجبوری بھی نہیں تھی بس یوں سمجھیے، کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ تجربہ بھی نہیں تھا کیونکہ میں شہر میں نیا تھا۔ میں آگے بیٹھ جاتا ہوں۔
اب وہ بغیر کسی بات کہ اچانک بیٹھتے ہی مجھے کہتا ہے، بیٹا ایزی ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اب میری چھٹی حس خطرہ کا الارم بجاتی ہے۔ کیونکہ میں ایزی ہی بیٹھا تھا، اور عموماً جب ایسے ڈائیلاگز بولے جاتے ہیں دو اکیلی جنسوں کے درمیان، تو لامحالہ خوف ہونے لگتا ہے؟ میرے ساتھ تو بیٹھو۔ مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے۔ میرے دل کی دھک دھک تیز ہو جاتی ہے۔ میں من ہی من میں اعوذباللہ کا ورد شروع کرتا ہوں۔ میرے اندر اس شخص کا خوف جس قدر پھیلتا ہے، میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔
اب یہ پانچ منٹ کا راستہ جو میں نے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے اس کے ساتھ طے کرنا ہے، مجھے پانچ گھنٹوں میں بھی طے ہوتا نظر نہیں آتا۔ کیونکہ موصوف گاڑی کی رفتار چیونٹی کی رفتار کے مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ میرا دائیاں ہاتھ پکڑتا ہے اور اسے غلط سمت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں ہاتھ کھینچتے ہوئے سوچتا ہوں وقت کیوں تھم گیا ہے۔ یہ راستہ تو پیدل عبور کرنے میں بھی اتنا وقت نہیں لگتا جتنا گاڑی پہ لگ رہا ہے۔ لیکن وقت تو صرف میرے لیے رکا ہوا ہے۔
شاید اس کے لیے یہ چسکہ بازی بس ایک لمحہ سے بھی کم شمار ہو، ممکن ہے مزے لینے والا موجودہ لمحہ میں وقت تھمنے کی آرزو کر رہا ہو، اور وقت بھی اس کا خوب ساتھ نبھا ہو رہا ہو۔ اب میں اچانک اسے شدید انجانی اور شرمساری کی سی حالت میں قدرے اونچی آواز میں کہتا ہوں گاڑی روک دو! نہیں بیٹا ابھی چوک پہ نہیں پہنچے ہم۔ اب ظالم میرے ہاتھ دوبارہ کھینچتا اور ان سے وہ کام لیتا ہے جو اس کی چاہت تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید ہاتھا پائی کرتا، میں چلتی گاڑی کا دروازہ کھول دیتا ہوں۔
اگر میں اس چلتی گاڑی سے چھلانگ بھی لگا دیتا تو مجھے کچھ نہ ہوتا، جتنی اذیت مجھے اندر محسوس ہو رہی تھی۔ بالآخر اس کا پاؤں بھی بریک پہ آتا ہے اور ساتھ ہی ان الفاظ کی جگالی کرتے ہوئے مجھے الوداع کہتا ہے۔ کوئی نہیں، بیٹا آپ کو ہمارے ساتھ بیٹھ کے اچھا نہیں لگا۔ ہم تو آپ جیسے بچوں کے ساتھ دل بہلاتے ہیں!
نئے شکار پر
کچھ دنوں بعد یہی سیم واقعہ دوبارہ رونما ہوتا ہے۔ اب کی بار نشانہ میں نہیں میرا روم میٹ ہوتا ہے۔ اس کی اور میری کہانی شروعات میں تو سیم ہی ہے لیکن اس کا راستہ مجھ سے بھی لمبا ہوتا ہے۔ اب آپ کہیں گے بیوقوفو بیٹھتے کیوں ہو۔ سچ جانیے ہم بچے، وہ بچے جو پسماندہ علاقوں سے آتے ہیں۔ ہمیں بڑے شہروں میں پھنسا لیا جاتا ہے یا ہم خود ہی احتیاط نہ کرتے ہوئے پھنس جاتے ہیں۔ اس بیچارے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ لیکن اس کے چاچا جی کو راستہ پہ سامان کے لیے رکنا تھا۔
بیٹھ جاؤ بیٹا، ابھی تمہارا سٹاپ نہیں آیا۔ میں نے یہاں سے کچھ سامان لینا ہے۔ تمہارے لیے بھی کچھ لیتا آؤں؟ نہیں بڑی مہربانی۔ میں چلتا ہوں۔ (چاچا) کہاں چلتے ہو؟ (میں ) کیوں چاچا جی ابھی تک آپ کا ٹھرک پورا نہیں ہوا؟ اگر آپ کہتے ہیں تو بیٹھ جاتا ہوں۔ آپ اور لے لیں مزے۔ بیٹا پاگل تو نہیں ہو گئے۔ تم تو میرے بیٹے جیسے ہو۔ چاچا جی اردگرد متوجہ لوگوں کو دیکھ کر بوکھلا جاتے ہیں۔ جی جی میں آپ کا بیٹا ہی ہوں۔
یہ بات تھوڑی دیر پہلے آپ کو یاد نہیں تھی۔ جب میرے مزے لے رہے تھے۔ آپ نے جانا نہیں ہے۔ یہ چابیاں مجھے دیں اور گاڑی میں بیٹھیں۔ تھوڑا رومانس اور کر لیں۔ شدید سردی میں چاچا جی کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں آتی ہیں۔ ایک نظر لوگوں کو دیکھتے ہیں اور سامان لیے بغیر فوراً گاڑی میں چابی گھماتے ہوئے، اگلے شکار کی تلاش پر نکل جاتے ہیں۔


