زوئی کی موت پر کیا رونا
زوئی جب ہمارے گھر آئی تو صرف ایک ماہ کی تھی۔ اتنی ڈرپوک اور شرمیلی کہ دو تین دنوں تک پردوں صوفوں اور دروازوں کے پیچھے چھپتی رہی۔ پھر جب مانوس ہوئی تو ہم لوگوں میں چھپنے لگی۔ کبھی ایک گود، کبھی دوسری۔ ذرا ذرا سی آواز پہ چونکتی اور بھاگ کر چھپ جاتی۔ پتہ نہیں کون سا خوف تھا جو اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ ماہر نفسیات کا کہنا ہے، بچوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ڈر، خوف، جھجک، ہچکچاہٹ، کسی رویے یا واقعہ کی وجہ سے ان کی شخصیت میں صراحت کر جاتی ہے۔
ایسا ہی کچھ زوئی کے ساتھ ہوا ہو گا۔ تب ہی اس گہری کالی آنکھوں والی سرمئی رنگ کی بلی کو ہر وقت کسی پناہ کی تلاش ہوتی تھی۔ دن کو جب بچے اپنے تعلیمی اداروں اور ان کی ماں کچن میں لگی رہتی تو زوئی کی پناہ لاؤنج میں بیٹھے میری گود ہوتی۔ کبھی کبھی اسے ڈانٹ بھی پڑتی، جب میں اپنے کسی کردار سے الجھ رہا ہوتا او ر وہ میرے کاغذ پر آ کر دھمکتی۔ کچن میں کوئی برتن کھڑک جائے، دروازے کی گھنٹی بجے یا کسی منچلی گاڑی کا ہارن شور مچائے۔ زوئی میری ڈانٹ کی پروا کیے بغیر پناہ کے لئے اچھل پڑتی۔ اور تب تک چھپی رہتی، جب تک اس کا دھڑکتا ہوا دل قابو میں نہیں آتا۔ اس دوران مجھے قلم چھوڑ کر اس کے لرزتے ہوئے جسم کو سہلانا پڑتا۔
محبت شاید اسی جذباتی انحصار کا نام ہے۔ خدا پہ توکل، ماں کی گود یا محبوب کا زانو۔ یہی انحصار لافانی رشتے تخلیق کرتا ہے۔ مگر یہی لافانی رشتے لفظوں کی وجہ سے ٹوٹتے ہیں۔ یہ لفظ ہی تو ہیں، جو کسی کو منکر، نافرمان اور کم ظرف بنا دیتے ہیں۔ خدا کو بندے سے، ماں کو اولاد سے اور دوست کو دوست سے جدا کر دیتے ہیں۔ انسانی رشتوں کا المیہ ہے کہ وہ الفاظ سے جڑتے اور الفاظ سے ٹوٹتے ہیں۔ اسی لئے انسان اور جانور کے رشتے میں جدائی، ناراضگی اور دل شکنی جیسی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوتی۔
کیونکہ وہ آپس میں لمس کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی زبان کی لاعلمی لفظوں کو دیوار نہیں بننے دیتی۔ آپس کے گلے، شکوے، ڈانٹ ڈپٹ، گالیاں، جھڑکیاں، سب نکلتے ہی ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ تب ہی تو ہر بار میری ڈانٹ کے باوجود زوئی میری گود میں آ کر بیٹھتی۔ اس کی یہی ڈھٹائی میرے اور اس کے رشتے کو توانا کرتی چلی گئی۔ میرا قلم اس کے لمس پر ویسے ہی انحصار کرنے لگا، جیسے اس کا خوف میرے لمس میں پناہ تلاش کرتا تھا۔
اور پھر ایک دن زوئی کے خوف کو کہیں پناہ نہیں ملی۔ اس کا معصوم دل کسی دہشت ناک آواز کے آگے بے بس ہو کر دھڑکنا بھول گیا اور وہ مر گئی۔
ہوا یوں کہ، زوئی جس گھر سے رخصت ہو کر ہمارے پاس آئی تھی وہاں کچھ دنوں کے لئے اپنی ماں سے ملنے چلی گئی۔ اس کی عارضی جدائی بھی ہمارے لئے ناقابل برداشت تھی، لیکن کیا کیا جائے۔ بچوں کی خوشی کے لئے ان کی جدائی سہنی پڑتی ہے۔ مگر حادثے بڑے سفاک ہوتے ہیں۔ وہ پتھر دل ان پھولوں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتے۔ چھپاک سے آتے ہیں اور روند کر گزر جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حادثہ زوئی کا بھی انتظار کر رہا تھا، اور وہ تھا ”روکی“ ۔
زوئی کے ننھیال میں پڑوسیوں کا کتا۔ ایک شام کو زونی اپنی ماں کے ساتھ گھر سے بس جھانکنے کو باہر نکلی کہ روکی ان پہ جھپٹ پڑا۔ ماں، شاید اس کی بدمعاشیوں سے واقف تھی، اس لئے اندر کود گئی۔ لیکن زوئی اس کی دہشت کے آگے آنکھیں میچ کے مر گئی۔ گھر کے گیٹ کے سامنے اس کی لاش ملی۔ زخم کا نشان، نہ خون کا کوئی دھبہ۔ روکی کے لئے خوراک نہیں تھی۔ محض بدمعاشی اور دادا گیری کا مظاہرہ تھا۔ زونی کے ننھیال میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ زوئی کا خوف بھی روکی کا دین تھا۔ پیدائش کے ابتدائی دنوں میں جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھی۔ تب بھی روکی نے ایک دن گھر کے اندر گھس کر اپنی دہشت مچائی تھی۔ شاید وہی خوف زوئی کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔
زوئی کے لمس کے لیے اداس میں اپنے قلم کا بانجھ پن گود میں رکھے کاغذات پہ دھرے یہ سوچ رہا ہوں کہ بدمعاشی اور دادا گیری کے یہ مظاہرے، روکی نما انسان، روکی نما عقائد، روکی نما نظریے، روکی نما ذہنیتیں اور روکی نما ریاستیں بھی کرتی ہیں۔ دہشت جب گھروں میں کودتی ہے، گلیوں میں دندناتی ہے اور بستیوں پہ برستی ہے تو زوئی جیسے کتنے ہی بچے۔ ساری زندگی اس حادثے، واقعے اور رویے کے خوف میں جکڑ جاتے ہوں گے۔ جن کے آگے ان کے باپ مارے جاتے ہیں، مائیں بے پردہ ہوتی ہیں، گھر اجاڑے جاتے ہیں، اسکول مسمار ہوتے ہیں، میدان ویران ہوتے ہیں۔ خبروں کی حد تک شاید ان سہمے ہوئے بچوں کا ذکر ہوتا ہو گا۔ مگر زوئی جیسے جانوروں کا تو کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ کسی چھاپے، فائرنگ، دھماکے یا حملے کے نتیجے میں ان بے زبان معصوموں پہ کیا گزرتی ہوگی۔

