عدلیہ سے: امید بہار رکھ
کچہری کے درختوں سے گرے پتے بھی پاؤں رکھنے کا معاوضہ مانگتے ہیں، یہ مسئلہ شاید صرف پاکستان کا نہیں پورے برصغیر کا ہے لیکن ہماری غرض تو اس ارض وطن سے ہے جہاں کے نظام انصاف کی ہر فائل کو جب تک نوٹ کے پہیے نہ لگائے جائیں وہ آگے بڑھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ معروف پراپرٹی ٹائیکون نے ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی ادارے کی کوئی فائل کبھی بھی نہیں رکتی کیونکہ وہ ہر کام کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند ہفتے قبل جب ان کے ہاؤسنگ پراجیکٹ کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے بہت سخت فیصلے دیے تو پاکستان کے قومی نشریاتی اداروں نے ان خبروں کا مکمل بلیک آؤٹ کیا۔
بات صرف عدلیہ کی نہیں، بات تو پورے نظام کی ہے جسے اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے جن تصورات کے تحت یہ ریاست قائم کی تھی، ان تصورات کو روز اول سے ہی پس پشت ڈال دیا گیا۔ معروف طنز نگار انور مقصود سے حال ہی میں ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ، ”قائد اعظم آج زندہ ہوتے تو؟“ انور مقصود نے برجستہ جواب دیا کہ، ”کوٹ لکھپت (جیل) میں ہوتے“
پاکستان میں کس کو جیل میں ہونا چاہیے اور کس کو ایوان اقتدار میں، اس کا فیصلہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو ہی کرنا ہے اور عدلیہ ان دنوں شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ستمبر 2023 میں جب چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے منصب سنبھالا تو ”اس گلی میں ان سے پہلے ان کے افسانے“ پہنچ چکے تھے۔ توقعات کے انبار تھے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ کے سینیئر جج کے طور پر کچھ ایسی بے مثل مثالیں قائم کی تھیں کہ جن کی بناء پر ان سے توقعات کا درجہ بہت بلند ہو چکا تھا۔ توقعات تو پاکستان کے عوام کی افتخار چوہدری سے بھی تھیں کہ جنہیں عدلیہ کی تاریخ میں ایک مرحلے پر اتنی مقبولیت ملی کہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جنرل مشرف کی آمریت سے تنگ وکلاء اور پاکستان کے عوام کچھ اس انداز میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے کہ جس کی افتخار چوہدری کو بھی توقع نہ تھی اور شاید نہ ہی وہ اس قابل تھے۔
گو اس کا اندازہ پاکستان کے عوام کو بھی تب ہوا کہ جب وہ منصف اعلیٰ کی مسند پر واپس آ گئے اور ان کے اہل و عیال کی کہانیاں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں اور جب ریکوڈک جیسے حساس معاملے پر انہوں نے ایک ایسا متنازعہ فیصلہ دیا کہ جس نے پاکستان کی کھوکھلی معیشت کی جڑیں کھود کر رکھ دیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ، ”چیف تیرے جانثار، بے شمار بے شمار“ کے نعرے لگانے والے وکلاء بھی اس نئے افتخار چوہدری کے عدالتی فیصلوں پر ششدر رہ گئے کہ انہیں خواب کے اس طرح ٹوٹنے کا کبھی کوئی خیال تک دل میں نہ آیا تھا۔
پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور میں سخت امتحان سے گزرنے والے قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے پاکستان کے عوام واقف تھے کہ انہوں نے فیض آباد دھرنا کیس میں ایسا فیصلہ دے رکھا تھا کہ جس کی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے قاضی فائز عیسیٰ کو اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن قسمت نے قاضی فائز عیسیٰ کا ساتھ دیا اور انہوں نے فنش لائن ٹچ کر لی۔
سوچا یہ جا رہا تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ منصب سنبھالتے ہی اسٹیبلشمنٹ کو تو لائن حاضر کر لیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کی گلو خلاصی تو ان کی رخصتی کے دن پر ہی ہو گی۔ لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آج کے دن تک قاضی فائز عیسیٰ نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ، ”جج نہیں بولتے، ان کے فیصلے بولتے ہیں“ ۔ قاضی فائز عیسیٰ کے کورٹ روم میں بطور جج قاضی فائز عیسیٰ بھی بولتے ہیں اور پھر ان کے دیے گئے فیصلے بھی بولتے ہیں۔ آنے والے چند ماہ بہر حال پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں اہم ہونے والے ہیں۔ بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے ایسے اشارے دینا شروع کر دیے ہیں کہ وہ عدلیہ پر پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے کی جانب سفر شروع کر چکے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اعلیٰ عدلیہ کے اندر صفائی کا آپریشن بھی کرنے والے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج مظاہر اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شروع ہونے والی کارروائی اور جج صاحب کے استعفے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا کرپشن کی شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی شروع ہونے کے بعد جج صاحب اپنا دفاع کرنے کی بجائے استعفیٰ دے دیں تو وہ ریٹائرمنٹ کی مکمل مراعات کے حقدار رہیں گے؟
یہی وہ معاملہ ہے جس کو قاضی فائز عیسیٰ کسی نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ماضی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کے دو رکنی بینچ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کے مطابق جج کے استعفے کی صورت میں ان کے خلاف شکایت کا کیس دوبارہ کھولا نہیں جائے گا اور تمام مراعات کے ساتھ جج صاحب رخصت ہو جائیں گے اور شکایت داخل دفتر کر دی جائے۔ دو رکنی بینچ کے اس فیصلے پر اپیل کی مدت گزر چکی ہے جبکہ چیف جسٹس کے موڈ کو دیکھتے ہوئے وفاق نے اپیل فائل کر دی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر قاضی فائز عیسیٰ اس میں رعایت دیتے ہوئے نہ صرف اپیل کی اجازت دے دیں گے بلکہ اس کا فیصلہ بھی کر دیں گے تا کہ ان ججز کا محاسبہ ممکن ہو سکے جن کے خلاف ریٹائرمنٹ لینے کے باوجود ریکارڈ پر بدعنوانی کی شکایات موجود ہیں۔
ایسی مثالوں میں سب سے حساس کیس جسٹس اعجازالاحسن کا ہے جو موقع کی نزاکت بھانپتے ہوئے مظاہر اکبر نقوی کو بچانے کی ناکام کوشش کے بعد ان کے پیچھے پیچھے پتلی گلی سے نکل لیے تھے کیونکہ شاہراہ آئین پر عمارت تعمیر کرنے والی کمپنی کے وہ وکیل رہ چکے تھے اور جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا تو ان کے بینچ میں سماعت کے لیے ہی پیش کیا گیا جہاں سی ڈی اے کے وکیل نے انہیں مفاد کے ٹکراؤ کے پہلو کی نشاندہی کی لیکن اعجازالاحسن نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ اعتراض مسترد کرتے ہوئے سماعت نہ صرف جاری رکھی بلکہ کمپنی کے حق میں فیصلہ بھی دیا۔ یہ معاملہ جسٹس اعجاز الاحسن کے لیے ایک پھندا بن سکتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے والی شخصیت سے توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ ماضی میں افتخار چوہدری سے بھی اس سے کئی گنا زیادہ توقعات وابستہ کی گئیں لیکن وہ اولاد کی محبت میں اپنا مقام کھو بیٹھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا آئین اور قانون کا فہم کسی طرح بھی کم نہیں تھا۔ توقعات ان سے بھی وابستہ کی گئیں لیکن وہ کچھ ایسے ڈی ٹریک ہوئے کہ اب ان کا پبلک میں آنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پاس اس منصب پر مہلت زیادہ نہیں ہے اور مسائل ہیں کہ ایک انبار ہے۔ یہاں امید افزاء پہلو یہ ہے کہ جسٹس اعجازالاحسن کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ سے جسٹس سید منصور علی شاہ، قاضی فائز عیسیٰ کے جانشین ہوں گے اور ان کے پاس تین سال سے کچھ زائد عرصہ منصب پر ہو گا۔ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ اول تو جسٹس منصور علی شاہ قاضی فائز عیسیٰ کے برعکس متنازعہ نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ عدالتی نظام کی صفائی ستھرائی کے لحاظ سے پرعزم اور باصلاحیت بھی ہیں۔
مناسب ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی عدلیہ کی سنی گئی ہے۔ 76 سال سے پھیلایا گیا کچرا تو شاید قاضی فائز عیسیٰ اور پھر منصور علی شاہ مکمل صاف نہ کر سکیں لیکن اس کا آغاز ضرور کیا جا سکتا ہے اور اس عمل کی ایک مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ محض عدلیہ کی صفائی ہی پاکستان کے عوام کی زندگیوں میں سکون اور اطمینان نہیں لا سکتی بلکہ اس کے لیے پولیس کا نظام، پٹواری کا نظام، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کا نظام اور سب سے بڑھ کر منتخب نمائندوں کا نظام درست کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

