ادب عالیہ کیا ہے؟
آج سے چار ماہ پیشتر مجھے اپنے شاعر اور دانشور دوست امیر حسین جعفری کا ایک ادبی محبت نامہ موصول ہوا جس میں انہوں نے مجھ سے میرے ادبی و نظریاتی فلسفے کے بارے میں دس سوال پوچھے تھے۔ میں نے ان دس سوالوں کے جواب لکھنے شروع کیے تو وہ سلسلہ اتنا دراز ہو گیا کہ میں نے سو دنوں میں دو سو صفحات لکھ ڈالے۔ یہ میرے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ ان کے دس سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ
ادب عالیہ کیا ہے؟
میں نے اس سوال کا جو تفصیلی جواب لکھا ہے اس جواب کے پہلے چند صفحات اس کالم میں پیش کر رہا ہوں تا کہ آپ بھی اس ادبی دیگ کے چند دانے چکھ سکیں۔
……………………….
محترمی و مکرمی امیر حسین جعفری صاحب!
میری نگاہ میں ادب کی تعریف روایتی ادیبوں سے قدرے مختلف ہے۔
روایتی ادیب صرف غزلوں ’نظموں‘ افسانوں ’ناولوں اور ڈراموں کو ہی ادب سمجھتے ہیں لیکن میری نگاہ میں فلسفہ‘ نفسیات اور سماجیات بھی ادب کا حصہ ہیں۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ماہر نفسیات اور بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ کو اپنی زندگی میں نفسیات کا کوئی ایوارڈ تو نہ مل سکا لیکن ادب کا گوئٹے ایوارڈ ضرور مل گیا۔
اسی لیے میری نگاہ میں
یونانی فلسفی افلاطون کے مکالمے
چینی دانشور کنفیوشس کے اقوال
اور
سرخ فام قبائل کے سردار چیف سئیٹل کی تقاریر بھی ادب عالیہ کا حصہ ہیں۔
میری نگاہ میں ادب کی دو اقسام ہیں۔
تفریحی ادب
اور
تخلیقی ادب جو ادب عالیہ بھی کہلاتا ہے
تفریحی ادب کا مقصد
Entertainment
جبکہ ادب عالیہ کا مقصد
Enlightenment
ہوتا ہے۔
میں تفریحی ادب کے خلاف نہیں ہوں کیونکہ ہر ادیب ’شاعر اور دانشور آزاد ہے کہ وہ کس قسم کا ادب تخلیق کرنا چاہتا ہے یا کر سکتا ہے۔ کیونکہ ہر ادیب شاعر اور دانشور اپنی سوچ‘ اپنی فکر اور اپنی استطاعت کے مطابق ہی تخلیق کرتا ہے
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
مغرب میں بھی
Harlequin Romances
نہ صرف لکھے جاتے ہیں بلکہ اسے ہزاروں لاکھوں لوگ اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح مشرق میں ’حور‘ اور ’زیب النسا‘ کے افسانے پڑھے جاتے ہیں۔
لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ’حور‘ اور ’زیب النسا‘ میں چھپنے والے افسانے ’فنون‘ ’اوراق‘ اور ’نقوش‘ میں چھپنے والے افسانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔
تفریحی ادب قاری کو ایک خیالی اور فینٹسی کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ وہ ادب اسے حقیقی زندگی سے دور کر دیتا ہے۔ وہ اسے زندگی سے کچھ عرصے کے لیے فرار کا راستہ دکھاتا ہے۔
قاری جب اس فینٹسی سے واپس حقیقی زندگی میں لوٹتا ہے تو اس کی عملی زندگی کے نفسیاتی سماجی اور معاشی مسائل اسی طرح اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔
تفریحی ادب کے مقابلے میں تخلیقی ادب اور ادب عالیہ قاری کو زندگی سے دور کرنے کی بجائے اس کے اور قریب لے آتا ہے۔ وہ اس پر زندگی کے کچھ راز منکشف کرتا ہے وہ اسے زندگی کی بصیرتوں کے ایسے تحفے پیش کرتا ہے جو اس کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ادب عالیہ انسانوں کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی گتھیاں سلجھانے میں مدد کرتا ہے اور اسے ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب اور پرامن معاشرہ تخلیق کرنے کی تحریک دیتا ہے۔
میں گفتگو کے اس موڑ پر اس خیال کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ ادب عالیہ کا مقصد
Enlightenment
ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ قاری کو محظوظ نہیں کرتا۔ لیکن وہ ادب قاری سے اعلیٰ ادبی ذوق کا متقاضی ہوتا ہے
غالب کا ایک شعر ہے
شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
اس شعر سے محظوظ و مسحور ہونے کے لیے قاری کے ادبی روایت سے واقف ہونے اور اعلیٰ ذوق کی ضرورت ہے۔
غالب کے شعر کے مقابلے میں یہ اشعار دیکھیے
رہے ان کے بہانے ہی بہانے
بہانے ہی بہانے مار ڈالا
دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں
ایسے اشعار سے محظوظ ہونے کے لیے اعلیٰ ادبی ذوق کی کوئی زیادہ ضرورت نہیں۔
ادب عالیہ تخلیق کرنے کے لیے ادیب ’شاعر اور دانشور کے لیے ضروری ہے کہ وہ زندگی کا گہرا
مشاہدہ
تجربہ
مطالعہ اور
تجزیہ
کرتا ہو۔
وہ الفاظ اور ردیف قافیہ کے صوتی اثرات سے کھیلنے کی بجائے الفاظ کی کوکھ میں چھپنے معانی اور ان معانی کے زندگی سے گہرے رشتے سے بھی واقف ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں الفاظ تشبیہیں اور استعارے بن جاتے ہیں اور قاری کو زندگی کی گہری سچائیوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اردو ادب کی بدقسمتی یہ رہی کہ غزل کی روایت مشاعرے کی روایت سے بغل گیر ہو گئی جس کا محور دانائی سے جڑنے کی بجائے داد حاصل کرنا اور واہ واہ کرنا بن گیا۔
مشتاق احمد یوسفی فرماتے ہیں کہ جو شعر مشاعرے میں بیک وقت پانچ ہزار لوگوں کو سمجھ آ جائے وہ شعر اور سب کچھ تو ہو سکتا ہے ادب عالیہ کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
ادب عالیہ قاری کو زندگی کے بارے میں کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
کافکا فرماتے ہیں کہ اچھا افسانہ وہ ہے جو قاری کو مجبور کرے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے۔
اوکٹاویو پاز فرماتے ہیں کہ ادبی ذوق رکھنے والا قاری کوئی ادبی تحریر پڑھنے میں جتنا وقت خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وقت اس پر غور کرنے میں صرف کرتا ہے۔
قاری وہ تحریر بار بار پڑھتا ہے تا کہ اس تحریر کے مختلف تخلیقی پہلوؤں کو چھو سکے۔ میں آپ کو اقبال کا ایک شعر اور ایک گمنام فلسفی کا ایک جملہ سناتا ہوں جن پر میں نے بہت غور کیا
اقبال کا شعر ہے
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
ایک فلسفی کا جملہ ہے
There is more self love than love in jealousy
سقراط کا قول ہے
Unexamined life is not worth living
میری نگاہ میں ادب عالیہ کا تعلق زندگی اور دانائی سے ہے۔ میں اسے
Wisdom Literature
کا نام دیتا ہوں۔ دانائی کے بارے میں میرا ایک جملہ ہے
Wisdom is the inner light that helps us see in the dark
آپ کا ادبی ہمسفر
خالد سہیل


