مس فردوس ایک باعزت موت مرنا چاہتی تھیں


مس فردوس جو پرائمری اسکول میں ہماری ٹیچر رہ چکی تھیں کی موت کی افسوسناک خبر ملی۔ ان کے بچوں سے تعزیت کے دوران پتہ چلا کہ پیٹ کا درد اور مستقل قبض ان کی موت کا باعث بنا۔ اپنی پندرہ روزہ بیماری میں وہ چار مختلف اسپتال لے جائی گئیں۔ ان اسپتالوں کے نام مختلف ہیں اور کچھ سے گمان گزرتا ہے کہ جیسے وہ خیراتی یا سرکاری شفا خانے ہوں لیکن مس فردوس اور ان کے سفید پوش گھرانے کے لئے یہ سب پرائیویٹ ادارے تھے جو مارکیٹ فورسز کے تحت کام کرتے ہیں۔

ان میں ملازم ڈاکٹروں اور عملے کی تنخواہیں اور اوقات کار کا تعین بھی بازار کے حقائق ہی کرتے ہیں۔ مس فردوس اتنی ہی صحت مند تھیں جتنی ایک 88 سالہ پاکستانی خاتون ہو سکتی ہیں۔ ان کی دونوں آنکھوں میں موتیا کے آپریشن کرائے جا چکے تھے، وہ گزشتہ بیس سال سے مصنوعی بتیسی استعمال کرتی تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے گھر سے نکلنا بند کر دیا تھا۔ ان کا دل کمزور ہو گیا تھا دو سال ہوئے بتایا گیا تھا کہ 25 فیصد کام کرتا ہے۔

حالیہ بیماری میں گردے بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ پہلے اسپتال میں مس فردوس کے بازو میں ڈرپ، ناک میں غذا کی نلکی اور مثانے میں پیشاب کے لئے کیتھیٹر لگایا گیا جو انہوں نے دوسرے دن کھینچ کر نکال دیے اور اعلان کر دیا کہ وہ گھر پر موت سے ملاقات کرنا چاہیں گی۔ اس دن ان کے ہاتھ پاؤں بستر سے باندھے بھی گئے پھر یہ کہہ کر ڈسچارج کر دیا گیا کہ انہیں آپریشن اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو وہاں دستیاب نہیں۔

9 جنوری کو ان کے بیٹے بہانہ بنا کر انہیں اسٹیڈیم روڈ کے قریب بنے بڑے اسپتال میں لے گئے۔ ابھی ڈاکٹر ایمرجنسی میں معائنہ کر رہے تھے کہ مس فردوس کا سانس اکھڑنے لگا اور نبضیں ڈوب گئیں۔ ”انہیں فوراً وینٹیلیٹر پر ڈالنا ہو گا۔ ابھی ہاں یا ناں میں جواب دیں“ کہیں سے آواز آئی۔ پھر مس فردوس کو وینٹیلیٹر کے سپرد کر دیا گیا۔ ایک بہت تیز انجیکشن گردن میں ڈالے گئے نلکے سے جسم میں مسلسل انڈیلا گیا تو بلڈ پریشر کچھ کچھ سنبھلا گردوں کی ناکامی کی وجہ سے ”کنٹراسٹ“ نہیں دے سکتے تھے اس لئے سی ٹی اسکین ممکن نہ تھا لہذا سرجن نے شق البطن یعنی لیپراٹامی کر کے پیٹ میں جھانکا۔

وہاں عجیب منظر نظر آیا۔ آنتیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئی تھیں۔ خون اور آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے آنت کا کافی حصہ مردہ ہو چکا تھا۔ سرجن نے بڑی صفائی سے ان بیکار حصوں کو تراش کر بقیہ آنتوں کی ترپائی کی اور پیٹ میں سوراخ کر کے آنت کا ایک حصہ باہر نکال دیا تاکہ مس فردوس کا فضلہ خارج ہو سکے۔ یہ آپریشن بہت کامیاب رہا جس کے بعد مس فردوس بیہوشی کے عالم میں واپس آئی سی یو لے جائی گئیں لیکن ان کی حالت بگڑتی گئی۔ بلڈ پریشر نہ اٹھنا تھا نہ اٹھا۔ 15 جنوری کی شام وہ وینٹیلیٹر پر ہی موت سے ہم آغوش ہو گئیں۔

انتہائی نگہداشت کی طب اور جدید موت

موت کیا ہے؟ سانس بند ہوجانا، بلڈ پریشر غائب ہوجانا، دل کی دھڑکن رک جانا۔ لیکن 1949 ء سے مریضوں کو مصنوعی تنفس دیا جاسکتا ہے، 1960 ء میں دل کے پیس میکر آ گئے جو دھڑکن پیدا کرتے ہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو بے ہنگم دل کو ازخود شاک بھی دیتے ہیں۔ ایسی ادویات ہیں جنہیں گردن یا ران میں بڑی سی ورید کے راستے مسلسل دے کر بلڈ پریشر بحال کیا جاسکتا ہے، 1970 ء میں دواء نور ایڈرینالن ایجاد کرنے والے کو طب کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

آج تک یہی دوا دنیا کے ہر آئی سی یو میں مستعمل ہے۔ گردے فیل ہوجائیں تو ڈائلائسس کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ تمام افعال مریض کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اس کی ذاتی حدود میں دخل اندازی ہوتی ہے خودمختاری بار بار سلب کی جاتی ہے۔ ہر ہر عمل کی پیچیدگیاں ہیں۔ وینٹیلیٹر پر ڈالنا آسان ہے لیکن اس سے گلوخلاصی اتنی سہل نہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ زندگی کی توسیع نہیں بلکہ موت کی طوالت ہے۔

سی پی آر اور ڈی این آر

دل کی ذمہ داری عشق لڑانا، سوچنا، بہادر یا بزدل بنانا اور مایوس ہو کر ٹوٹنا نہیں بلکہ خون کو جسم میں پمپ کرنا ہے۔ جب یہ اچانک اس کام میں ناکام ہو جائے تو اس کیفیت کو دل کی بندش (کارڈیئک اریسٹ) کہتے ہیں۔ ایسے میں بحالیٔ جان (سی پی آر) کی کوشش فوراً شروع کر دینا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بنیادی لائف سپورٹ کے قواعد کی تربیت صرف طبی عملے کو ہی نہیں بلکہ ہر شعبۂ زندگی سے متعلق افراد حتی کہ اسکول کے بچوں کو بھی دی جاتی ہے۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ساڑھے چار لاکھ امریکی کارڈیئک اریسٹ سے مر جاتے ہیں ان میں سے ساڑھے تین لاکھ افراد کا دل اسپتال کے باہر بند ہوتا ہے اس لئے اس بابت عوامی آگاہی اور تربیت انمول ہے۔ بالخصوص پانی میں ڈوبنے، دل کی بے ربط دھڑکنوں اور دل کے دورے کے باعث ہونے والے کارڈیئک اریسٹ میں سی پی آر کے فوائد مسلمہ ہیں۔ لیکن جان بچانے والا یہ عمل بھی سنگین پیچیدگیوں سے خالی نہیں جن میں پسلیوں یا سینے کی ہڈی کا فریکچر، دل اور دیگر اندرونی اعضاء کو ناقابل تلافی نقصان شامل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب بنیادی لائف سپورٹ کی تربیت کے ساتھ ہی ان مریضوں میں سی پی آر نہ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے جو لاعلاج امراض کے شکار ہوں یا جن کی داستان حیات کے آخری باب لکھے جا رہے ہوں۔ انگلستان میں ایسے مریض بھی ملتے ہیں جن کے شناختی بریسلیٹ پر ڈو نوٹ ری سسیٹیٹ یا بحالیٔ جان سے پرہیز کریں لکھا ہوتا ہے لیکن ڈاکٹروں اور طبی عملے کا قانونی فرض ہے کہ مریض کے ریکارڈ میں تحریر طبی وصیت (ایڈوانس ڈائریکٹو) سے تصدیق کر لیں۔

علاج سے انکار کرنے کا پیشگی فیصلہ (زندگی میں وصیت)

1970 ء میں انتہائی نگہداشت اور سی پی آر کا شعور عام ہونے کے ساتھ ہی کچھ لوگ یہ وصیت کرنے لگے کہ دل بند ہونے یا شدید بیمار ہونے کی صورت میں انہیں کس حد تک علاج معالجہ فراہم کیا جائے۔ سب سے پہلے امریکہ میں قانون کی تبدیلی سے شہریوں کو اپنے متعلق یہ فیصلہ کرنے کا حق تفویض کیا گیا اور پھر یہ سلسلہ دیگر ممالک میں پھیلتا چلا گیا اب یہ معمول کی بات ہو گئی ہے۔ 2013 ء کے اعداد و شمار کے مطابق انگلستان اور ویلز کے اسپتالوں میں ہونے والی پونے تین لاکھ اموات میں صرف بیس ہزار افراد کا سی پی آر کیا گیا اس سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ 90 فیصد کی ڈی این آر حیثیت کا پہلے سے تعین ہو چکا تھا۔

معالجے سے انکار کی وصیت کو سرسری انداز میں نہیں لیا جاتا بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے قانون 1998 ء اور دماغی سالمیت کے ایکٹ 2005 ء کے تحت تجزیہ کر لیا جاتا ہے کہ مریض ڈپریشن یا کسی اور سبب تو ایسا فیصلہ نہیں کر رہا۔ کئی صورتوں میں معالج کے پاس حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ علم اور تجربہ کی روشنی میں مریض کی خواہش کے برعکس عمل کرے۔

پاکستان میں قانون سازی کی ضرورت

ہم نے جب تیس سال قبل پروفیسر ٹیپو سلطان صاحب کی سرپرستی میں انیستھیسیا اور آئی سی یو کی تربیت کا آغاز کیا تو اس وقت صوبۂ سندھ کے واحد سرکاری اور مفت آئی سی یو میں ڈی این آر کی اصطلاح رائج تھی لیکن اس کے لئے پروفیسر صاحب اور ان کے سینئر معاونین فیصلہ کرتے تھے۔ اس مضمون کے لئے ہم نے کراچی کی سب سے بڑی، مہنگی اور موقر میڈیکل یونیورسٹی میں رابطہ کیا تو ہمیں یہی بتایا گیا کہ مریض کی ”کوڈنگ“ کردی جاتی ہے۔

جس کے بعد علاج جاری رکھتے ہیں لیکن اس میں اضافہ یا سی پی آر سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کسی قانون سے اب تک محروم ہے۔ بھارت میں کئی عشروں سے کوشش جاری ہے کہ ایڈوانس ڈائریکٹو اور باعزت موت کے حوالے سے ایسا معتدل اور متوازن قانون بن سکے جو الم زدہ مریضوں کے مزید استحصال کی راہ ہموار نہ کرے۔ ہم وہاں چلنے والی ابحاث سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ پاکستانی اطباء کی مختلف تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ اس اہم لیکن نظر انداز شدہ مسئلے کی اہمیت اجاگر کریں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments