چل! میلے نوں چلیے


آج کل پاکستان میں میلے کا سا سماں ہے۔ یوں تو وطن عزیز میں میلوں ٹھیلوں کا رواج تقریباً ختم ہو چکا اور میلے دیکھنے کی ہماری عمر بھی نہیں لیکن سیاسی میلے لگتے ہی رہتے ہیں اور ہم ٹی وی سے جڑ کر لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں۔ سیاسی اجتماعات میں جانے کی ہمت اس لیے نہیں ہوتی کہ پھینٹی کا ڈر ہوتا ہے البتہ ان سیاسی میلوں نے ہمیں کچا پکا سیاستدان ضرور بنا دیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہم سیاسی کالم لکھ لکھ کر تھک بلکہ ”ہپھ“ گئے لیکن ابھی تک کسی سیاسی جماعت کی ہمارے ارسطوانہ تجزیوں پر نظر پڑی نہ پیشین گوئیوں پر ۔

ہمارے کالموں کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ کم ازکم لال حویلی والے سے ہماری سچی پیشین گوئیاں کہیں زیادہ ہیں حالانکہ ہمارے پاس کوئی فال نکالنے والا طوطا ہے نہ ”خبری چڑیا“ ۔ اگر ان سیاسی جماعتوں میں سے کوئی جماعت ہوش کے ناخن لیتی تو ہمیں کم ازکم قومی اسمبلی کے ٹکٹ سے تو نواز ہی دیتی۔ ہم نے یہ بھی سوچا تھا کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیں اور پھر کسی کے حق میں کاغذات نامزدگی واپس لے کر پیسے کھرے کر لیں لیکن میرے میاں نے منع کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ کسی امیدوار سے پیسا ویسا تو ملنا نہیں البتہ الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے 30 ہزار روپوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

بات میلوں ٹھیلوں کی ہو رہی تھی لیکن نکل دوسری طرف گئی، آمدم برسر مطلب آج کل پاکستان میں سیاسی میلوں کی بھرمار ہے۔ ہرطرف بینرز اور ہورڈنگز کی بھرمار ہے جن پر بڑے دل خوش کن نعرے اور وعدے درج ہیں۔ حقیقت یہ کہ یہ وعدے وعید صرف الیکشن تک ہوتے ہیں پھر تو کون میں کون۔ ہمیں یاد ہے کہ 2018 ء کے انتخابات سے پہلے ایک مقبول رہنماء نے ایک کروڑ نوکریاں دینے، 50 لاکھ گھر بنانے اور 90 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کا اعلان کیا جس پر ہم نے یہ لطیفہ لکھا۔

ایک بلی کو بھوک لگی تھی اور اس کے سامنے بل میں چوہا بیٹھا تھا جو باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ تب بلی کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے چوہے کو مخاطب کر کے کہا ”بھانجے! اگر تم اس بل سے نکل کر اس بل میں چلے جاؤ تو میں تمہیں 5 سو روپے دوں گی“ ۔ چوہے نے لالچ میں آ کر پہلے توسر باہر نکالا لیکن پھر فوراً ہی اندر کر لیا۔ بلی نے پوچھا ”بھانجے! کیا ہوا؟“ ۔ چوہا بولا ”خالہ! پینڈا تھوڑا تے پیسے بوہتے، کوئی چکر اے“ ۔

پھر وہی ہوا، وہ مقبول رہنماء کوئی ایک وعدہ بھی ایفاء نہ کر سکا اور اس کے پیروکاروں کے خواب ادھورے رہ گئے۔ آج کل ایک نودمیدہ رہنماء بھی ایسے ہی وعدے کر رہا ہے لیکن زیادہ لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے نسبتاً کم لمبی چھوڑ رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسے صرف ایک بار وزیراعظم بنا دو تووہ تنخواہیں ڈبل کرے گا، 3 سو یونٹ بجلی مفت دے گا، کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دے گا، 30 لاکھ نئے گھر اور کسان کارڈ بنا کر دے گا۔ یہ سب کچھ اس کے منشور کا حصہ ہے جسے کتابی شکل میں وہ جگہ جگہ لہراتا پھرتا ہے۔

اس کے نانا مرحوم نے بھی 50 سال پہلے روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا لیکن اس کی جماعت کو 4 بار حق حکمرانی ملنے کے باوجود تاحال یہ وعدہ تشنۂ وفا ہے۔ اب نواسہ بھی ایسے ہی دل خوش کن نعروں کے ساتھ سیاسی میلے میں ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اب جبکہ پاکستان ڈیفالٹ کے کنارے پر ہے اور حکمران کشکول گدائی تھامے دربدر، مہنگائی کا عفریت ہرکہ ومہ کو نگلنے کو تیار، یوٹیلٹی بلز قیامت ڈھاتے ہوئے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہنچ سے باہر اور معیشت کا پہیہ جام تو ایسے میں مفت بجلی، 30 لاکھ گھر، دگنی تنخواہیں اور کسان کارڈ وغیرہ کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟

کیا آسمان سے ہن برسے گا یازمین اپنے سارے خزانے اگل دے گی؟ مریم بی بی نے بجا طور پر اس نوآموز سیاستدان کو مخاطب کر کے کہا کہ اس کو ایک صوبے میں 15 سال تک متواتر حکومت ملی، کیا وہ اس صوبے میں 15 منصوبے بھی گنوا سکتا ہے؟ پھر مریم نوازنے کہا کہ میاں نواز شریف کو 3 بار وزارت عظمیٰ ملی لیکن اس کا کل دورانیہ محض 8 سال رہا۔ وہ ان 8 سالوں میں نواز شریف کے 15 سو منصوبے گنوا سکتی ہے۔

نوجوان سیاستدان یہ بھی کہتا ہے کہ وہ آزاد جیتنے والے ”گھوڑوں“ کو ساتھ ملا کر حکومت تشکیل دے گا لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا کہ آزاد جیتنے والے بے پیندے کے لوٹے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ادھر ہی لڑھکتے ہیں جدھر کی ہوا ہو۔ حقیقت یہی کہ اب کی بار ایک دفعہ پھر ہواؤں کا رخ نواز لیگ کی طرف ہے اور اقوام عالم کی نظریں بھی میاں نواز شریف پر لگی ہیں۔ عالمی مالیاتی خبر رساں ادارے ”بلوم برگ“ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران میاں نواز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں بہترین معاشی کارکردگی دکھائی۔

رپورٹ میں کہا گیا ”معاشی مشکلات میں نواز شریف نے پی ٹی آئی اور پی پی سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ وہ 8 فروری کو اقتدار کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ 6 ماہ میں نواز شریف کی مقبولیت میں 36 فیصد اضافہ ہوا“ ۔ اگر اس تجزیاتی رپورٹ اور عالمی سرویز کو مدنظر رکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں نواز لیگ میدان مارلے گی لیکن فیصلہ تو بہرحال عوام نے ہی کرنا ہے۔

جب اپوزیشن اتحاد کو حکومت ملی تب اس کے پلیٹ فارم سے بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ اگلے 5 سالہ دور میں بھی یہ اتحاد قائم رہے گا تاکہ ملک و قوم کی بہتری ممکن ہو سکے۔ حقیقت یہی کہ اس وقت وطن عزیز دور ابتلاء میں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور اہل فکرو نظر ایک پلیٹ فارم پر سر جوڑ کر بیٹھیں، تبھی بہتری کے کچھ آثار نظر آسکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ جونہی نئے انتخابات کا ڈول ڈالا گیا یہ اتحاد پارا پارا ہو گیا۔

پہل پیپلز پارٹی نے کی اور نواز لیگ کو موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ فی الحال تو نواز لیگ کے پلیٹ فارم سے طنز کے تیروں کی بوچھاڑ نہیں ہو رہی لیکن آخر کب تک؟ نوجوان بلاول کرسی کے شوق میں اتنا بوکھلا گیا ہے کہ وہ بھی اب عمران خاں کی راہ پر چل نکلا ہے اور اس کے خطابات اسی ڈگر پر ہیں جیسے کبھی خاں صاحب کے ہوا کرتے تھے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری جیسے کہنہ مشق سیاستدان تاحال خاموش ہیں۔

آخر میں میں اپنے قارئین کے سامنے یہ سوال چھوڑے جا رہی ہوں کہ 8 فروری کو ہم کسے ووٹ دیں؟ کیا اس شخص کو جو ملک میں خوشحالی لایا، دہشت گردی ختم کی، سی پیک کا آغاز کیا، میٹرو بس اور اور نج لائن چلائی، لوڈشیڈنگ ختم کی، دہشت گردی کا خاتمہ کیا، ملک میں اوورہیڈز، انڈر پاسز، اور رابطہ سڑکوں کا جال بچھایا، دانش سکولز، ہسپتال، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائیں، ایٹمی دھماکے کیے، شاہین اور غوری میزائل لانچ کیے، جے ایف تھنڈر لانچ کیا، موٹرویز بنائیں اور مہنگائی کو کم کیا۔ یا پھر اس کو جس نے اپنے پونے چار سالہ دورحکومت میں ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے تک پہنچایا، بین الاقوامی طور پر پاکستان کو تنہا کیا، کشمیر کا سودا کیا اور گالی گلوچ کی سیاست کو رواج دیا اور یا پھر اس کو جو وزارت عظمیٰ کے شوق میں اتحادی سیاست کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہے۔

Facebook Comments HS