رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ
جب سجاد بلوچ کا پہلا شعری مجموعہ ”ہجرت و ہجر“ آیا تو مجھے اس کے نام نے چونکایا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے اس کے نئے مجموعے ”رات کی راہداری میں“ نے چونکایا ہے۔ دونوں بار مجھے یہ شاعری کے مجموعوں کی بہ جائے فکشن کی کتابوں کے نام لگے۔ پہلی کتاب پڑھتے ہی یہ احساس زائل ہو گیا تھا اور مجھے تسلیم کرنا پڑا تھا کہ غزل کا ایک نیا مجموعہ میرے سامنے تھا۔ ”ہجرت و ہجر“ کی آمد کو سب نے محسوس کیا تھا۔ یہ واقعہ لگ بھگ نو دس برس پرانا ہے ؛ ان برسوں میں شاعری کے مجموعے تواتر سے اور کثرت سے شائع ہوتے رہے ہیں اور اس سے پہلے کہ اپنے قارئین میں کوئی تاثر جما سکیں بہت سے طاق نسیان پر رکھ دیے گئے۔ سجاد بلوچ کے مجموعے کو تب بھی توجہ سے پڑھا گیا تھا اور اس کا شعر اب بھی ہماری یادداشت سے محو نہیں ہوا تو یہ کوئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔
کہاں زمیں کے ضعیف زینے پہ چل رہی ہے
یہ رات صدیوں سے میرے سینے پہ چل رہی ہے
رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ
اور ایک تہذیب اس سفینے پہ چل رہی ہے
کہنے کو سجاد بلوچ نے پہلے مجموعے میں کہا تھا کہ ان کے شعری سرمائے میں ہجرت و ہجر کے افسانہ و احوال کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ان کے ہاں اتنا کچھ نیا نکل آیا تھا کہ ایسا نئے لکھنے والوں کو کم کم توفیق ہوا ہے۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ ظفر اقبال کو خوشگوار حد تک عمدہ اشعار کی تعداد دیکھ کر حیرت بھی ہوئی تھی اور پریشانی بھی۔ اس حیرت اور پریشانی کا سبب ان کے مطابق یہ تھا کہ اکا دکا شعر کے شاعر تو بہ سہولت مل جاتے تھے مگر اتنی فراوانی کے ساتھ چونکا دینے والے اشعار کی مثالیں پوری اردو غزل میں بہت کم ہی دستیاب تھیں۔
خیر، واقعہ یہ ہے کہ سجاد بلوچ نے کم کم کہا اور خوب کہا اور اس صنف کی اپنی تہذیب کے اندر رہ کر کہا۔ یہی سبب ہے کہ وہ سخن تازہ کہنے پر قادر رہے اور شاید یہی وجہ رہی ہوگی کہ لگ بھگ ایک دہائی کے بعد وہ اپنا دوسرا مجموعہ لانے کے قابل ہو پائے ہیں۔ ”رات کی راہداری میں“ ؛ بار دگر فکشن کی کتاب کے لیے موزوں نام ؛ مگر اس مجموعے کی غزلیات پڑھتے ہوئے بھی مجھے ظفر اقبال کا یہ کہا بھی یاد آتا رہا ہے کہ ’اگر سجاد بلوچ اتنے عمدہ شعر کہنے کی رفتار برقرار رکھ سکے تو یہ غزل کی مرتی ہوئی صنف کو زندگی دینے کے مترادف ہو گا۔
’ غزل مرتی ہوئی صنف ہے؟ ‘ ظفر اقبال ایسی باتوں سے ہمیشہ الجھاتے آئے ہیں۔ کہنے کو ایسا کب سے کہا جا رہا ہے اور اسے نئی زندگی عطا کرنے کو کئی بہی خواہ کبھی تو اس کی ہیئت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اور کبھی اس کے لسانی مزاج کو بدلنے کے جتن کیے مگر کوئی بھی ظفر مند نہ ہوا اور لگ بھگ ایسا ہر تجربہ رد ہوا۔ یہ صنف اپنی راسخ روایت پر ہی چلی کہ یہیں کہیں اس کی اپنی جمالیات مرتب ہوتی ہے اور اس پر نئے نئے معنوی ابعاد کھلتے ہیں۔ جو اس بھید کو پا گیا اور جس نے بھی اپنے زمانے کی حسیات کے ساتھ اس کی اپنی روایت کو محترم رکھ کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اخلاص کے ساتھ برتا اس کا شمار اس قطار میں ہوا جنہیں پڑھ کر تازگی اور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔ سجاد بلوچ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
سجاد بلوچ کے ہاں تازگی کا احساس شاید اس لیے بھی ہوتا ہے کہ وہ حسی سطح پر فطرت کے مظاہر سے ربط رکھے ہوئے ہیں۔ کہہ لیجیے اس شاعر کا وجود جس خطۂ محبت سے اٹھا ہے یہ وہی ہے جہاں کبھی اس کی آنول نال گڑی تھی۔ وسیع زمین، پھیلا ہوا آسمان۔ اس وسعت کے آنگن میں اگے شجر ہی کو لے لیجیے۔ اس کی مناسبت سے معنی اور احساس کے بے شمار اثمار وہ قاری کے سامنے لا رکھتے ہیں۔ نگاہ میں وطن کی سلامتی ہے اور اٹھے ہوئے ہاتھ شجر کی جڑ سے پتوں تک نمی کا سلسلہ چلنے کی دعا کر رہے ہیں کہ اسی سے ہماری زندگی کا سلسلہ چلنا ہے۔
گھروں کی تعمیر کے نام پہ روندے گئے ہرے بھرے مناظر کا قتل ہو یا اشجار کے گرائے جانے اور پہاڑوں کو اڑا کر وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیز بنانے کا چلن وہ ان کے شعر میں موضوع ہوا ہے۔ یہ شاعر بہار میں کسی پودے کی خالی شاخ کو دیکھ کر گریہ کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ ایک شاخ سے لے کر دور پہاڑوں سے لپٹتے بادلوں تک، سب یہاں شاعری میں رچ بس کر آتے ہیں۔ زندگی کے نئے بھید کھولتے ہوئے۔ لطف یہ ہے کہ یہی وسعت اس شاعر کا قید خانہ ہے۔
قدیم پیڑ ہیں اس خطہ ء محبت کے
اجڑ گئے ہیں، جڑوں سے مگر ہلے نہیں ہم
۔
جو مجھ میں پھیلی ہوئی ہے قرار گاہ سکوت
اسی میں ہے تری آواز کا ٹھکانہ بھی
میں آپ اپنی زمیں بھی ہوں اور زمانہ بھی
مجھی میں ہے مری وسعت بھی قید خانہ بھی
نئے نئے مضامین اور خیالات کا ایک عجب سلسلہ اس وسیع منظر نامے سے شعر میں ڈھلتا ہے ؛ یوں کہ کہیں بھی اسے دہرائے جانے کا خیال تک نہیں گزرتا:
برف پڑتی ہے کہ گرتا ہے فلک کے در سے
پرزہ پرزہ یہ عریضہ کسی فریادی کا
خیال کی تازگی کے ساتھ ساتھ سجاد بلوچ کے ہاں جس طرح زبان کا تخلیقی استعمال ہوا ہے، وہ بھی لائق توجہ ہے۔ کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ بن بن کر ، یا بنا بنا کر لکھ رہے ہیں۔ کہیں بھی رائج لسانی ڈھانچے میں چونکانے کو توڑ پھوڑ ہے نہ نامانوس لفظیات کی بھرتی۔ مصرع تراشتے ہوئے بنت کچھ یوں چست ہو جاتی ہے کہ وہ سہولت سے کہا ہوا لگتا ہے ؛ رواں دواں، سہل اور تاثیر سے بھرا ہوا۔
میں جو مانوس نظر آتا ہوں تنہائی سے
کیا خبر اصل میں بیگانہ ء تنہائی ہوں
۔
تری خوشی کی خوشی سہیلی
ہمارے دکھ کا ندیم دکھ ہے
۔
کھویا اسے تو بے سرو سامانیاں کھلیں
گویا وہ ہم سفر مرا رخت سفر بھی تھا
سجاد بلوچ کا شعر کہنے کا قرینہ ایسا ہے کہ آپ اس کا کلام پڑھ رہے ہوں یا مشاعرے میں بیٹھے سن رہے ہوں، ہر دو صورت میں توجہ کھینچتا ہے۔ بالعموم مشاعروں میں داد سمیٹنے والے شاعر کاغذ پر آ کر اتھلے یا پھسپھسے ہو جاتے ہیں کہ ان کا سارا تکیہ لسانی آہنگ سے توجہ کھینچنے تک رہتا ہے۔ سجاد بھی لسانی آہنگ سے متوجہ کرتے ہیں مگر رمز و اشارہ کے ساتھ احساس یا خیال کو ایک رخ بھی عطا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جہاں ہم ان کی غزل سنتے ہوئے لطف اٹھاتے ہیں وہیں پڑھتے ہوئے بھی کچھ دور تک ساتھ چل پڑتے ہیں۔
بھلا ہو آپ کا جو چاک دامانی سمجھتے ہیں
وگرنہ لوگ اس وحشت کو عریانی سمجھتے ہیں
۔
گھر کے قریب ہاتھ سے تھیلا پھسل گیا
ساری گلی میں چاند ستارے بکھر گئے
تہہ میں بڑے سکون سے یکجا پڑے تھے ہم
موج طلب میں سطح پہ آئے، بکھر گئے
دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ محض رواں دواں اور چست مصرعوں سے شعر نہیں بناتے، خیال اور احساس کی نزاکت کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ وہ الجھنیں، سوالات اور تنازعات جو اس سماج کے اندر سے ابلے پڑتے ہیں اور وہ دکھ جو اس سماج میں رہ کر شاعر کی جھولی میں آ پڑتے ہیں، ہر بار ایک تخلیقی قرینے سے متن ہوئے ہیں ؛ لہٰذا وہ اچٹے ہوئے محسوس نہیں ہوتے، شاعر کا اپنا وجودی مسئلہ ہو کر آتے ہیں۔ ایسا وجودی مسئلہ جسے اپنے احساس کی گانٹھ میں باندھ کر ڈھوتے ڈھوتے شاعر کا اپنا وجود ٹوٹنے لگتا ہے :
اگر کسی نے خریدا نہ آج بھی مرا دن
تو معذرت مرے لیل و نہار! تھک گیا میں
مرے چراغ! مرے ہم نشیں! خدا حافظ
مرے سکوت! مرے انتظار! تھک گیا میں
ایک غزل کے یہ اشعار بھی دیکھئے :
اپنی تنہائی کو ماپو مری تنہائی سے
میں اکیلا یہاں پیمانہ ء تنہائی ہوں
راہ تکتا ہوا اک چاپ کی چنگاری کا
کنج خاموش میں خس خانہ ء تنہائی ہوں
غزل کے اس مجموعے میں کہیں خس خانہ ء تنہائی ہے اور کہیں چاپ کی چنگاری، کہیں بچے تتلیوں کے تعاقب میں ہیں اور کہیں لوگ جنگ میں مگن ہیں۔ کہیں دیوار متانت پاس آنے پر دروازہ ہو جاتی اور کہیں وہ بدن کی دیوار ہے جسے غم کے عفریت چاٹ رہے ہیں۔ سجاد پر موت کا مفہوم نہیں کھل رہا اور زندگی کے معنی قضا ہو گئے ہیں۔ یہاں سرمایہ غم اور ہے اور پیرایہ غم اور، جبکہ اس متین شاعر کے ہاں ایسے ہی گہرے سوالات اور بے چین رکھنے والے مناظر کے ساتھ بدن نچوڑ ڈالنے والے دکھ کی باڑھ اور خالی کمرے میں گونجتی تنہائی کا احساس ایسا ہے کہ ان کے مجموعی کلام کا ایک نمایاں رنگ اور آہنگ ہو گیا ہے۔
میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ سچا شعر کہنے کی توفیق کسی کسی کا مقدر ہوتی ہے، یہ توفیق سجاد بلوچ کو عطا ہوئی ہے اور فراوانی سے عطا ہوئی ہے۔ متنوع مضامین ان کے ہاں احساس کی سطح پر برتے گئے ہیں اور قلبی واردات ہو کر شعر میں ڈھلے ہیں کہ یہی سچ کہنے کا قرینہ ہے۔ اس قرینے نے ان کے حرف حرف میں تاثیر رکھ دی ہے۔ سجاد بلوچ کا یہ مجموعہ پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ ”رواں ہے موج جنوں پہ احساس کا سفینہ“ اور یہ بھی کہ یہ شاعر کا واقعی اگلا قدم ہے۔
۔



