تحریک انصاف کی مقبولیت مصنوعی اور سوشل میڈیا تک محدود؟
تحریک انصاف کو سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کی بدولت ہی مقبولیت ملی تھی اور لگتا یوں ہے کہ اب وہاں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کو آئینی، قانونی، سیاسی، عوامی، قومی اور جمہوری طور پر قائم نہیں رکھ پائے جس کی بنیاد ان کی سیاسی حکمت عملیاں ہیں جو آئین، قانون اور جمہوریت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بجائے اس سے متصادم تھیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا تکیہ سیاسی و جمہوری اقدار اور حلقوں کی بجائے زیادہ تر سہولت کاریوں اور ہمدردیوں پر تھا۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے دو چار ووٹوں کے فرق والی قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر عوامی نمائندگی کی تضحیک کی اور حکومت کی تبدیلی کے عمل کو مصنوعی طور پر ایک سازش کے بیانیے سے جوڑ کر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ وقتی طور پر تو کامیاب ہو گئے مگر اس مقبولیت کے غبارے کے اندر جو انہوں نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی امریکی بیانیے کی مصنوعی ہوا بھری تھی وہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور جیسے ہی وہ یہ غبارہ لے کر 9 مئی کو اپنے ہی محسنوں پر چڑھ دوڑے تو ان کو تو اندر کی بات بھی معلوم تھی۔ انہوں نے ایک ہی پرک سے سوشل میڈیا کو بند کر کے اس غبارے سے ساری ہوا نکال دی اور تحریک انصاف کے جن کو بڑے آرام سے کوزے میں بند کر لیا۔
ویسے تو تحریک انصاف کی سیاسی تنزلی کا سفر اسی دن شروع ہو گیا تھا جب انہوں نے پارلیمان کو چھوڑ کی چوک چوراہوں کی سیاست کا انتخاب کیا تھا اور پھر قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد اپنی ہی دو صوبائی حکومتوں کو تحلیل کر کے سیاسی حلقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو ختم کر لیا۔ اپنی جارحانہ حکمت عملی جس میں اقتدار سے کم کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہ کرنے کا تاثر اور مذاکرات کے لئے سیاسی یا جمہوری حلقوں سے ہاتھ ملانے کی بجائے براہ راست اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے رہے۔ فوج کی سربراہی کے لئے اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش اور آخر کار 9 مئی کے واقعات جیسی سنگین غلطیوں کے مرتکب ہو بیٹھے۔
ان کی سیاسی حکمت عملیوں اور معاشی پالیسیوں میں انتہائی ناقص کارکردگی کی وجوہ کے علاوہ غیر ذمہ دارانہ و غیر سنجیدہ انداز سیاست سے سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے معیشت کو مزید خطرات سے دوچار کرنے کی ایک ایسی وطن دشمن داستان ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سیاسی حلقوں میں بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ان پر اعتماد اور امیدیں بری طرح سے زائل ہو کر ان کی پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سے موافقت میں بہت بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
ان کی ان حکمت عملیوں کے پیچھے در اصل ان کے سہولت کاروں اور مشیروں کے مشوروں کی بنیاد پر عجلت میں کیے گئے فیصلے ہیں جن کی بنیاد ان کو دستیاب وہ سہولتیں تھیں جن میں سے فوجی ادارے کے اندر سے ان کو نومبر 2022 میں اور سپریم کورٹ سے ستمبر 2023 میں ختم ہونے کے خطرات سر پر منڈلاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اور ان کی کوشش تھی کہ وہ ان تاریخوں سے پہلے پہلے انتخابات کروا کر مستفید ہوسکتے ہیں جو بعد میں 2018 کے انتخابات کی طرز پر میسر نہیں رہنی تھیں۔
اور مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ بھی انہیں سہولتوں اور ہمدردیوں کی امیدوں کی ایما پر ہوا جس کی بنیاد شاید وہ سوچ ہو جس کا اظہار عمران خان نے چند دن ہی قبل دہرایا بھی ہے کہ ان کو عوام میں 90 فیصد اور فوج کے اندر 80 فیصد تک حمایت حاصل ہے جس کا کسی قدر اظہار سوشل میڈیا کی حد تک ایک ہفتہ قبل تک بھی نظر آتا رہا ہے مگر اب شاید وہ بھی زیر عتاب آ گیا ہے جس کے آثار آج کے ٹرینڈز میں نظر نہیں آرہے۔
ٹرینڈز تو چل رہے ہیں مگر ان کے اندر مواد سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب ان کو پاکستان کے اندر سے کوئی خاص فیڈ بیک نہیں مل رہا جس کی وجہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کی طرف سے جسٹس فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے دوسرے ججز کی تضحیک کے بعد حکومت کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ جس سے بے لگام مادر پدر آزادیٔ حق رائے کے انداز و اظہار کے اندر کچھ ٹھہراؤ اور تبدیلی بھی نظر آتی ہے۔
اور آج کی ریلیوں سے تو یہ بھی محسوس ہونے لگا ہے کہ اب ان کی سیاست سوشل میڈیا تک ہی محدود ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ چند ایک جگہوں پر ریلیوں کے علاوہ کوئی اچھا ریسپانس نہیں ملا جس سے تسلی بخش عوامی حمایت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا جس سے تازہ سروے رپورٹس کی بھی تصدیق ہو رہی ہے۔ اور ان میں سے بھی آٹھ بڑے شہروں اور دو درجن کے لگ بھگ ریلیاں دکھائی گئی ہیں جن میں سے چار شہر صرف کے پی کے تھے جہاں تحریک انصاف کا گڑھ ہے اور ان میں سے بھی کئی جگہوں پر پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور حملوں کے پیش نظر عوام تتر بتر ہو گئے ہیں جس کی وجہ گرفتاریوں کا خوف اور پہلے سے گرفتار کارکنان کی جماعت کی طرف سے مناسب مدد نہ ہونے اور انتخابی نشان کے چھن جانے جیسی دوسری کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
لیکن اب تحریک انصاف کی مقبولیت کا صحیح اندازہ انتخابات کے دن ووٹوں سے ہی لگایا جاسکتا ہے جو اب ان کی آخری امید ہو سکتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں اگر تحریک انصاف نے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کر دیا تو۔ کیونکہ اس طرح کی بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ شاید تحریک انصاف لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات کا بائیکاٹ ہی کردے۔ اور ہو سکتا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف کی طرف سے یہ ریلیوں کی کال بھی اندازہ لگانے کے لئے ہی دی گئی ہو کہ اگر تو لوگ نکلے تو پھر انتخابات سے اچھے نتائج کی امید وابستہ کی جا سکتی ہے اور اگر عوام نہ نکلی تو پھر ہارنے سے بہتر ہے کہ بائیکاٹ ہی کر دیا جائے جو اب چند دنوں تک واضح ہو جائے گا۔ لیکن محسوس اسی طرح ہی ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی سیاست جو اسمبلیوں سے نکلنے کے بعد چوک چوراہوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی وہ اب سوشل میڈیا تک ہی محدود ہو کر رہی گئی ہے اور وہ بھی مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کی بدولت مصنوعی مقبولیت کی حد تک۔


