ہیبت نامہ!
کہا گیا: حرم میں داخل ہونا تو مطاف کے احاطہ تک نگاہیں نیچی رکھنا تا کہ پہلی نظر کعبہ پر پڑے تو سنا ہے جو مانگو عطا ہوتا ہے، ہوتا ہو گا۔
مگر ان آنکھوں کو دیکھنے کی عادت ہے، اس وسیع و عریض مسجد میں کعبہ کو تانکتے جھانکتے حرم سے مطاف پہنچ گئے۔
پوچھا گیا: کعبۃ اللہ پر نظر پڑی تو کیا دعا مانگی؟
دعا؟ کون سی دعا؟ کیسی دعا؟
مانگنا کیا تھا؟ پتا نہیں۔
اس عمارت کو دیکھا، اطراف کو دیکھا، میکانکی انداز میں چلتے ہوئے طواف والے دائرے میں گم ہو گئے۔
خالی الدماغ، پتھرائی پتھرائی سی آنکھیں، جسم میں برقی توانائی (جس نے ارکان پورے کرنے میں بہت مدد کی) ۔
حجر اسود تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی، پتا نہیں کیوں؟ ایک دفعہ دوران طواف دل کیا کہ کوشش کی جائے، مگر دھکم پیل اور بد نظمی نے ایسا بیزار کیا کہ دوبارہ کوشش ہی نہیں کی۔ ہم ایسے کیوں ہیں؟ ادب آداب سے نابلد!
ایسی کسی بھی عبادت اور زیارت کا قائل نہیں ہوں جس میں آپ دوسروں کو چیرتے پھاڑتے دھاڑتے آگے بڑھتے ہوں، ویسے مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک انسان ایسے ماحول سے گزر کر جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو کیا اس میں سرشاری کی کیفیت ہوتی ہے؟ میرے خیال میں نہیں، کیونکہ اتنی دھینگا مشتی کے بعد انسان کی ذہنی و جسمانی کیفیت چڑچڑاہت کا شکار ہو جاتی ہے جو اس ساری مشق کا واحد حاصل ہوتی ہے۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے، ہو سکتا لوگ لڑ بھڑ کر دھکم پیل کر کے بھی سرشار ہوتے ہوں گے ۔ طواف کی دھکم پیل کو سنبھال لیں بڑی بات ہے۔
کہا گیا: کیسی فضول باتیں کرتے ہو، شرمندگی وغیرہ محسوس ہوئی، رونا آیا اپنے گندے اعمال پر؟
نہیں، خالی الدماغ، کوئی حس کام ہی نہیں کر رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ آٹو پر لگ گیا ہے اور سارے کام ہوئے جا رہے ہیں۔
کون سے کام؟
یہی، طواف، سعی وغیرہ
کہا گیا: یار عجیب سنکی واقع ہوئے ہو، کوئی معافی تلافی، اعمال پر شرمندگی، خوف خدا، کچھ بھی نہیں؟
مجھے یوں لگتا ہے کہ ماحول کی ہیبت نے مجھے جکڑ لیا تھا، سب کچھ بھول گیا۔ وہ کہتے ہیں نا، سوتے خشک ہونا، بس ایسا ہی کچھ تھا۔
دعائیں، اعمال، گناہ، ثواب، نہ کوئی بے چینی، نہ کوئی احساس۔ ہاں صرف ایک بات، اسے دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔
کسے؟
اس گھر کو، ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنا جیسے انسان کسی ایسی چیز کو دیکھ لے جو اس کے لئے طمانیت کا باعث ہو۔
مطلب قلبی طمانیت؟
نہیں!
تو پھر،
جسم کے کسی اندرونی و بیرونی اعضاء کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا، بس ایک عجیب سی کند بدن کند ذہن سی کیفیت تھی۔ جیسے اس پتھریلی عمارت کے ساتھ میں بھی پتھرا گیا تھا۔
لگتا تھا اپنا ہی گھر ہے عصر قدیم سے، نائب جو ہوئے، خلیفۃ الارض!
اسکے بعد کیا کیا؟
مطاف سے نکل کر اوپر والی منزل پر آ گیا، زمزم پیا اور ایک جگہ بیٹھ کو کعبہ کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد یک دم اٹھا اور حرم سے باہر نکل آیا۔
پوچھا: سنا ہے نکلتے وقت لوگ اسے مڑمڑ کر دیکھتے ہیں، تم نے دیکھا؟
نہیں، نکلتے ہوئے ایسے وہاں سے نکلا جیسے مڑ کر دیکھنے کی تاب نہ ہو، طلب نہ ہو۔ میں نے خود کو مطمئن کر لیا کہ حاضری لگ گئی ہے، قبولیت کی نہ کبھی چاہ تھی اور نہ ہی شاید کبھی ہو۔
کہا: یہ کیا بات ہوئی، قبولیت کے لئے تو دعائیں کی جاتی ہیں۔
ہاں، ایسا ہی ہے، مگر ایسی کوئی تمنا کی نہیں کبھی، بس سوچتے ہیں اور وہ کام مکمل کر دیتا ہے یا کروا دیتا ہے۔ کبھی مایوس نہیں کیا اس نے۔ دعا میں بھی کرتا ہوں، میرا بس اتنا ہی کام ہے آگے کی وہ جانے اور اس کا کام۔
گول مٹول سر کیوں نہیں بنوایا؟
اعلان شدہ کاموں سے کوفت ہوتی ہے، اس لئے ترشوائے۔
کہا گیا: یعنی جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ تشہیر کرتے ہیں؟
حاشا، میں اپنی ذات کی بات کر رہا ہوں۔ ہزارہا لوگ وہاں تھے جو سب مجھ سے اعلی اور افضل تھے۔ ہم تو کسی گنتی میں ہی نہیں صاحب!
کیا خوب یاد آیا، کرنل الیاس صاحب ایک پنجابی شاعر ہیں ہمارے علاقے کے، فرماتے ہیں ؎
حاجی ٹنڈ کرا کے آ گئے۔ الخ


