ہمارا میڈیا


آج کل ملک میں الیکشن کی آمد آمد ہے، اس لیے ٹی وی دیکھنی پڑتی ہے اس لیے کہ پتا چلے ملک میں الیکشن کون جیت رہا ہے، مگر افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ کوئی اینکر یا صحافی چیزوں کو آبجیکٹولی نہیں دیکھتا۔ سارے اینکر اور صحافی اپنی خواہش مطابق تبصرے اور تجزیے کرتے ہیں۔ ہم جیسے سادا لوگ اور کنفیوز ہو جاتے ہیں۔ کچھ دن قبل ایک بڑے صحافی جس کا نام لکھنا مناسب نہیں اپنے تبصرے میں بتا رہے تھے کہ ضیا الحق نے ایم کیو ایم اس لیے بنائی کہ وہ کراچی میں جماعت اسلامی کا ووٹ بینک توڑنا چاہتے تھے۔

میرے ذہن میں سوال آیا کہ اتنا بڑا صحافی جو خود کو بھی بڑا صحافی سمجھتا ہے وہ ایسے کیسے تاریخ کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ڈکٹیٹر ضیا الحق کو جماعت اسلامی سے کیا خطرہ تھا۔ جب کے حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم کو بھی پی پی پی کو کمزور کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ جس کا ذکر بہت دوست اپنے کالم میں بھی کر چکے ہیں۔ ایم کیو ایم جس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی وہ آج بھی اپنے نظریے پر چل رہے ہے۔

یہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ ایم کیو ایم آج بھی پی پی پی کے سر کا درد بنی ہوئی ہے۔ کراچی میں میئر مرتضی وہاب جو کام کراتا ہے ان کے لیے مسائل کھڑے کرتے ہیں۔ اور نفرت کی سیاست کرتے ہیں۔ اس ایم کیو ایم نے ایک گھنٹے میں اپنے لیڈر سے لاتعلقی حاصل کی جب کہ کراچی کی عوام آج بھی الطاف بھائی کو چاہتی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم کو جو چلاتے ہیں ان کو اس نے کبھی مایوس نہیں کیا۔ کراچی کی عوام سے بھی دھوکہ کیا اور جب اس کو کوئی اشارہ ملا پارٹی چھوڑ دو تو چھوڑ دی، جب کہا گیا کسی کی سپورٹ کرو تو اسی وقت سپورٹ کر دی۔ پی پی پی کے ایک سینئر لیڈر نے مجھے بتایا کہ جب ایم کیو ایم ان کے اتحاد سے نکلتی تھی تو اپنے مطالبات رکھتی تھی اور وہ مطالبات بھی کہیں اور سے آتے تھے جو ایم کیو ایم کے بہت سارے لوگوں کو پتا نہیں ہوتا تھا۔

الطاف حسین کو بھی ہماری میڈیا نے ایکسٹرا کوریج دے کر کراچی کا ہیرہ بنایا، اسی طرح عمران خان کو بھی میڈیا نے ایکسکلیوسو کوریج دے کر ملک کا ایک عظیم لیڈر بنایا آج کل اسی عظیم لیڈر کا نام بھی نہیں لیتی اور کبھی کبھی تو اس کو ملک دشمن بھی قرار دیتی ہے۔

ایسا نہیں ہے سارے صحافی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ؑثابت کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ پڑے صحافی مسلسل لکھ رہے ہیں کہ جس طرح ہمارے ملک میں الیکشن ہو رہے ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ایک پارٹی اور ملین لوگوں کو الیکشن سے باہر کر کے اپنے پسند کے نتائج نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ ملک کے نامور صحافی یہ مسلسل لکھ رہے ہین۔ مگر اکثر لکھاریوں کی سوئی 9 مئی کو اٹکی ہوئی ہے۔ ان سے کوئی بھی سوال کیا جاتا ہے آپ ایک پارٹی کو الیکشن سے کیوں باہر کیا جا رہا ہے تو وہ 9 مئی کا حوالہ دے کر اس کو جسٹیفائے کرتے ہیں۔ مگر جب ان سے کوئی سوال کرتا ہے 9 مئی کو جو لوگ کورکمانڈر کے گھر اور انسٹالیشن کی حفاظت کے لیے کھڑے تھے وہ کیا کر رہے تھے۔ اگر ایک دو ہوائی فائر بھی ہو جاتا تو کیا یہ 9 مئی کا واقع ہوتا۔ اس وقت ہمارے اکثر صحافی آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔

الیکشن کے حوالے سے ٹی وی چینل کچھ پارٹیوں کے جلسے کی پوری کوریج کرتے ہیں کچھ کی نہیں کرتے۔ ایک چینل ایک پارٹی کے تیسری ٹیئر لیڈر کی بھی بڑی کوریج کرتے ہیں لیکن دوسری پارٹیوں کے بڑے جلسوں کو بھی نہیں دکھاتے۔

اس وقت ملک بہت مشکل کا شکار ہے، کوئی ایک چیلنج نہیں، معیشت تباہ حال ہے، سیکیورٹی مسائل اپنی جگہ ہیں۔ بلوچستان میں لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہیں، کے پی کی اور پرانے فاٹا میں بھی مسلسل احتجاج ہو رہے ہیں۔ دو روز پھلے گلگت بلتستان مکمل بند تھا۔ ہماری سرحدیں بھی اب اتنی محفوظ نہیں رہی۔ ایران جو ایک برادر ملک ہے اس نے بھی میزائل داغ دیے۔ اسے بڑے مسائل میں ملک میں سیاسی استحکام چاہیے جو صرف ملک میں صاف شفاف الیکشن کرانے میں ہی آ سکتا ہے۔ اگر یہ موقعہ بھی ہم نے ضائع کر دیا تو اگلے پانچ سال بھی ملک میں عدم استحکام رہے گا اور اس کا سب سے زیادہ اثر ہماری عوام پر ہو گا۔

یہ ہماری میڈیا اور ہم سب کی ذمے داری ہے کہ ہم آواز بلند کریں کہ ملک میں شفاف الیکشن کیے جائے اور ملک میں امن استحکام آ سکے۔

Facebook Comments HS