شر سے بھی خیر کے پہلو نکلتے ہیں


شادی کے وقت ڈاکٹر نورین گنگا رام ہسپتال لاہور اور ڈاکٹر ارشد ٹی ایچ کیو ہسپتال بورے والا میں ملازمت کر رہا تھا۔ شادی کے موقعے پر دونوں نے ایک ایک ماہ کی چھٹی لی ہوئی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ چھٹی ختم ہونے میں ابھی ہفتہ دس دن باقی ہی تھے میں نے دیکھا کہ ابا جی اور ڈاکٹر نورین کے والد چوہدری عبدالغفور اس مسئلے پر غور و خوض کر رہے ہیں کہ ان کے بچے کس شہر میں اکٹھا رہیں۔ ڈاکٹر ارشد کا تبادلہ لاہور کروایا جائے یا ڈاکٹر نورین کا تبادلہ بوریوالہ کروا کر یہیں پر اکٹھے رہیں۔

مجھے جب زیر بحث مسئلے کا علم ہوا تو میں بھی حسب عادت اور خلاف دستور ان کے پاس جا بیٹھا۔ دونوں ہی بزرگوار تقریباً اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ ڈاکٹر ارشد کا لاہور تبادلہ کروا کہ انہیں وہیں ہی پر اکٹھا کیا جائے۔ میں نے بس ایک ہی بات کی کہ ابا جی بیماری کی وجہ سے ان لوگوں کی لاہور کی بجائے گھر میں کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ دونوں گھرانوں میں دو ڈاکٹروں کی ہمہ وقت دستیابی کی سہولت ایک ایسی نعمت ہے جو لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان دونوں کو لاہور بھیج کر ہم کفران نعمت کے مرتکب ہوں گے اس لیے میری تو رائے یہ ہے کہ ڈاکٹر نورین کا تبادلہ بوریوالہ میں ہی کروا دیا جائے اور یہاں پر بھی ہر دونوں لوگ سرکاری نوکری کی بجائے اپنی پرائیویٹ پریکٹس شروع کر دیں۔ میری تجویز کا بوریوالہ میں تبادلہ کروانے والا آدھا حصہ تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن پرائیویٹ پریکٹس والا نصف سخت ناپسندیدگی سے رد کر دیا گیا۔ اب نئی صورت حال یہ تھی کہ ڈاکٹر نورین دن کے وقت ٹی ایچ کیو میں اور ڈاکٹر ارشد گگو کلینک پر ہوتا۔

شام کو دونوں اپنی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر گھر آ جاتے اور رات دس بجے ڈاکٹر ارشد ٹی ایچ کیو ہسپتال میں اپنی نائٹ ڈیوٹی پر چلا جاتا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ارشد سرجری بھی کیا کر تا کیوں کہ ان دنوں ٹی ایچ کیو میں بلکہ شاید پورے شہر میں ہی آئی سپیشلسٹ کے علاوہ کوئی دوسرا سپیشلسٹ موجود نہیں تھا۔ اس لیے سادہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہی امرت دھارے کی طرح ہر مرض کی دوا تھا۔ سرجن بھی وہی فزیشن بھی وہی چائلڈ سپیشلسٹ بھی وہی حتیٰ کہ گائناکالوجسٹ بھی وہی ہوا کرتا۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر اسلم انصاری کا ایک واقعہ ذہن میں آ رہا ہے۔ ان کی ایک بہت پرانی مریضہ ایک عرصے کے بعد ان کے پاس آئی اور انہیں اپنے مرض کے متعلق بتانے لگیں۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ تم اتنی دیر کہاں رہی ہو۔ مجھے دکھانے کیوں نہیں آئیں وہ کہنے لگی کہ ڈاکٹر صاحب مجھے عورتوں والی تکلیف تھی اور میں بڑے عرصے لیڈی ڈاکٹر کے پاس جاتی رہی ہوں۔ مرحوم نے فرمایا بی بی اب تم ہمیں بھی لیڈی ڈاکٹر ہی سمجھا کرو اور بلا جھجک چلی آیا کرو۔

بات ڈاکٹر ارشد اور نورین کے ٹائم ٹیبل کی ہو رہی تھی۔ شام کے وقت ارشد نے عموماً کوئی نہ کوئی سرجری کرنا ہوتی اور اس لیے وہ وقت بھی دونوں میاں بیوی کا آپریشن تھیٹر میں ہی گزرا کرتا۔ مجھے ان کے یہ اوقات کار قطعاً ناپسند تھے اور میری دلی خواہش تھی کہ وہ سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر اپنا ذاتی کلینک شروع کر لیں۔ شہر بھر میں صرف ایک ہی لیڈی ڈاکٹر تھی جو اپنے میاں کے ساتھ مل کر پرائیویٹ پریکٹس کر رہی تھی۔

میں نے ایک دو بار دبے لفظوں میں اس رائے کا اظہار بھی ڈاکٹرز کے سامنے کیا لیکن ان لوگوں نے سنی ان سنی کر دی۔ ایک دفعہ میجر صاحب کے ساتھ مل کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہم نے اس سلسلہ میں ایک میٹنگ بھی کی لیکن ان کے جارحانہ تیور دیکھتے ہوئے پسپائی اختیار کرنے کو ہی غنیمت جانا۔ وقت اسی طرح آگے بڑھ رہا تھا کہ ایک دن ہسپتال میں ڈاکٹر ارشد کا شہر کے ایک چوہدری کے مریض کو دیکھنے پر اس کے ساتھ اختلاف ہو گیا۔

چوہدری مریض کو دکھانے کے لیے ڈاکٹر کو اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا۔ جب کہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں ایک مریض کو زیادہ بہتر طریقے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بہر حال چوہدری نے اسے اپنی ہتک خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر کا تبادلہ کوٹ ادو کروا دیا۔ تبادلہ تو معززین شہر کے بیج بچاؤ پر رک گیا۔ لیکن ہمارے ڈاکٹر کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ ایسی صورت حال دوبارہ کسی وقت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اب انہوں نے انہی خطوط پر سوچنا شروع کر دیا جن پر ہم لوگ پہلے ہی سوچ رہے تھے اور کچھ دن گزرنے کے بعد ڈاکٹر ارشد نے مجھے کلینک کے لے بلڈنگ تلاش کرنے کو کہا۔ اگلے ہی دن مجھے معلوم ہوا کہ لاہور روڈ پر حاجی انور کا دس مرلے کا دو منزلہ مکان کرائے کے لیے خالی ہے۔ میں خالی پیریڈ میں بشیر صاحب کو ساتھ لے کر حاجی صاحب کو ڈھونڈنے نکل پڑا۔

بشیر صاحب میرے بہت اچھے دوست اور رفیق کار ہیں اور ہمارا دونوں کا تعلق بھی ایک ہی گاؤں سے ہے۔ جلد ہی حاجی صاحب ہمیں ایک دکان پر بیٹھے ہوئے مل گئے۔ رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے ان سے دریافت کیا کہ سنا ہے کہ آپ کا مکان کرائے کے لیے خالی ہے۔ فرمانے لگے کہ مکان تو خالی ہے لیکن میں نے وہاں پر ہسپتال بنوانے کے لیے اسے کرائے پر دینا ہے۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے وہاں پر ہسپتال ہی بنے گا اور کوئی مطالبہ بولے کہ کرایہ پانچ ہزار سے کم نہیں لینا۔

میں نے جیب سے پانچ ہزار روپے نکال کر ان کی ہتھیلی پر رکھ دیے اور کچھ میں نے پوچھا کہنے لگے کہ ابھی تو مکان مرمت ہو رہا ہے ظاہر ہے کہ مکان مرمت ہونے کے بعد ہی کرائے پر دیں گے۔ میں نے کہا، حاجی صاحب کرایہ میں نے آپ کو ادا کر دیا ہے آج سے مکان ہمارا ہے آپ اسے مرمت کرواتے رہیں جب مکمل ہو جائے گا تو اس وقت رہائش منتقل کر لیں گے۔ لیکن آپ کا کرایہ آج سے ہی شروع ہو گیا ہے۔ کہنے لگے کہ مکان آپ کا ہو گیا کرایہ ایک ماہ کا ایڈوانس آ گیا۔

لیکن کرایہ شروع اس وقت سے ہو گا جب مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد آپ کے حوالے کیا جائے گا۔ واپسی پر بشیر صاحب میرے اس رویے پر سخت معترض ہوئے کہ میں نے حسب رواج کرائے کے تعین کے سلسلہ میں کسی بھی قسم کی سودے بازی کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی تو میں نے وضاحت کی کہ ایک تو کلینک کے نقطۂ نظر سے مکان کی لوکیشن بہت اچھی ہے یعنی مین روڈ پر واقع ہے۔ دوسرے یہ کہ کلینک کے ساتھ ساتھ اسی مکان میں رہائش بھی رکھی جا سکتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اب اگر ڈاکٹرز نے ایک بار نیم رضامندی کا اظہار کر ہی دیا ہے۔ تو میں ہر قیمت پر ان کا کلینک شروع کروانا چاہتا ہوں۔ تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد ہی ہم لوگ ڈاکٹرز کا سامان اسی مکان میں شفٹ کر رہے تھے اور ماں جی ہم سے لڑے جا رہی تھیں۔ ہماری بجائے ان کی لڑائی کا زیادہ تر رخ تمہاری اور ڈاکٹر نورین کی طرف تھا کہ تم دونوں ہی اس علیحدگی پر بڑی خوش ہو۔ بہر حال ڈاکٹرز کو نئے مکان میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں پر نچلی منزل پر انہوں نے اپنا کلینک شروع کر لیا اور دوسری منزل پر رہائش اختیار کر لی اور ماں جی بھی ان کے ساتھ ہی وہاں پر منتقل ہو گئیں۔

پہلے پہل ہفتہ دس دن تک ان کا کھانا گھر سے پک کر جاتا اور اگر کھانے کے وقت وہ فارغ ہوتے تو کبھی کبھار وہ خود بھی گھر میں آ کر کھا جاتے۔ ایک دن ارشد نے بتایا کہ انہوں نے آج مٹی کے تیل والا چولہا خرید لیا ہے۔ کیوں کہ رات چار بجے وہ ایک ایمرجنسی دیکھنے کے لیے اٹھے تو چائے پینے کا موڈ تھا لیکن اس کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔ تو اس قسم کی ایمرجنسی کے لیے چولہا خرید لیا ہے۔ آہستہ آہستہ نہ صرف اپنا کھانا پکانے کا سارا انتظام ہی وہاں پر ہی کر لیا۔

بلکہ کلینک پر موجود سارے سٹاف کا کھانا بھی وہیں پر ہی پکایا جاتا۔ کلینک شروع کرنے کے بعد انہوں نے مروجہ دستور کے برعکس سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور پوری توجہ اپنے کلینک پر دینا شروع کی۔ ان کے کلینک کا آغاز نہ صرف ان کے لیے باعث برکت ثابت ہوا۔ بلکہ یہ ہمارے پورے خاندان کے لیے ہی ایک بہتر طرز زندگی کا نقطہ آغاز تھا اور اسی کی بدولت ہمیں طبی سہولیات کے علاوہ دیگر سماجی معاشرتی اور معاشی سہولیات بھی میسر رہیں۔ بلکہ آج بھی ہیں اس طرح وقت پر کیے گئے صرف ایک درست فیصلے نے پورے خاندان کے معیار زندگی کو بہت بہتر انداز میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔

Facebook Comments HS