جاتے دسمبر کا وہ دن
آج نیا سال شروع ہوئے کئی دن ہو چکے ہیں، لیکن میرا دل سخت بے سکون ہے، یوں لگتا ہے کہ جاتے دسمبر کا وہ دن اپنے ساتھ بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے، سترہ دسمبر کا وہ دن میں کیسے بھول سکتی ہوں، جب میں نے وہ منحوس میسج اپنے فون پر پڑھا تھا میرے ہاتھوں میں یہ جملہ لکھنے کی سکت نہیں ہو رہی کہ سارہ اب اس دنیا میں نہیں رہی، میں نے فوراً فون بند کر دیا، یوں لگا جیسے میں نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے، میں خالی ذہن کے ساتھ صرف سامنے لکھے ہوئے چند الفاظ کو گھور رہی تھی۔
وہ میری بے حد مخلص کولیگ، جو میرے لیے بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح تھی، وہ میرے دل کے بہت قریب تھی، یہ کیسے ہو گیا دل ماننے کو تیا ر نہیں تھا، دماغ سن ہو کر رہ گیا تھا یہ کیسی انہونی ہو گئی تھی۔ ابھی ہفتہ پہلے ہی تو میری اس سے بات ہوئی تھی۔ یہ سات یا آٹھ دسمبر کی بات ہے، جب میں نے اسے فون کیا تھا، اور پوچھا تھا کہ تمہارا کیا حال ہے کیونکہ اس کی پریگنینسی کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا، مجھے بس ایسے ہی فکر سی ہوئی، کہ اس کی خیریت معلوم کروں۔ وہ فون اٹھاتے ہی بولی میڈم میں تو مرتے مرتے بچی ہوں، مجھے چھ بوتلیں خون کی لگی ہیں کیونکہ ایک دم بلیڈنگ شروع ہو گئی تھی، شکر ہے اب میں ٹھیک ہوں اور گھر پر ہوں ڈاکٹر نے مکمل بیڈ ریسٹ کا کہا ہے۔
میں پریشان ہو گئی اور پو چھا جب اتنی پیچیدہ صورتحال تھی تو ڈاکٹر نے آپریشن کیوں نہیں کیا، کہنے لگی بیس دسمبر کو نواں مہینہ شروع ہو جائے گا تو وہ فوراً آپریشن کر دے گی، میں بار بار اس کو کہہ رہی تھی، سارہ آپ کو ہاسپٹل میں ہی رہنا چاہیے تھا، لیکن وہ بہت مطمئن تھی، اور کہہ رہی تھی بس آپ نے میرے لیے بہت دعا کرنی ہے۔ پھر کوئی ہفتہ بھر میرا بھی اس سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اور میرے ذہن میں تھا کہ اب تو بیس تاریخ نزدیک ہے بس خدا کرے وہ خیر خیریت سے فارغ ہو جائے۔
لیکن بیس سے پہلے ہی سترہ دسمبر کو یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی، میں نے سب سٹاف ممبرز کو کال کی تو سب سکتے میں تھے، کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ یہ ہو گا، وہ اپنے تین عدد معصوم بچوں کو ماں کی آغوش سے نہ چاہتے ہوئے بھی محروم کر گئی تھی، کہ اس رب کائنات کی رضا کے آگے بے بس تھی، وہ اپنی سانسیں اپنی پیدا ہونے والی بیٹی کو سونپ کر خود اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی تھی۔
اس کے گھر پہنچے تو بس ہر طرف دکھ بکھرا تھا، اس کے والد اور بھائیوں کی آنکھوں کو دیکھ کر لگتا تھا گویا خون رو رہی ہوں، میاں کا بھی یہی حال تھا، بہن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح بہن کو اٹھا دے، اور کوئی اسے یقین دلا دے کہ یہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا اور کچھ نہ تھا۔ ہائے رے بے یہ بے بسی کی انتہا ہے۔ بس یہ دنیا ایک عجیب گورکھ دھندا ہے۔
اس کے بھائی نے اس کی چار سالہ بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا، جس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے، اور مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنی قیمتی متاع حیات کے کھو جانے کے غم میں نڈھال ہے، وہ خالی خالی نظروں سے ماں کی نرم گرم آغوش کی متلاشی ہے، مجھ سے زیادہ دیر تک اسے دیکھا نہ گیا۔ اس کا سات سال کا بیٹا اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ بھاگ دوڑ رہا تھا، شاید ابھی اسے اس بات کا انداز نہیں تھا کہ اس کا کتنا بڑا نقصان ہو چکا ہے۔ اب ماں کی گود اسے کبھی نصیب نہیں ہو گی۔ ممتا کا محبت بھرا لمس اب کبھی اس کے وجود کو چھو نہ سکے گا۔ لیکن یہ احساس محرومی تو عمر بھر کے لئے تھا۔
اب شاید سارہ کو ہمیشہ کے لئے الوداع کہنے کا وقت آ گیا تھا، میرے دل و دماغ دونوں اس چہرے کو دیکھنے سے انکاری تھے، میں تو صرف اور صرف وہ ہی تصویر اپنی آنکھوں میں سجائے رکھنا چاہتی تھی، جو ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور ایک خوبصورت لڑکی کی تھی، جلد ناراض ہو جانے والی اور پھر جلد ہی خوش ہو جانے والی، ہر آنے والی مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرنے والی، وہ اپنی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز سے گزری، لیکن اس نے سب کا بہادری سے مقابلہ کیا، اپنے گھر والوں اور دوستوں کی سپورٹ سے بہت سے معاملات سے سمجھوتہ کیا، اسے ہمیشہ آگے بڑھنے کی لگن رہی، جیسے تیسے کر کے اس نے اپنا گھر خرید لیا، میاں کے پاس موٹرسائیکل تھی، اس نے کمیٹیاں ڈال کر، گاڑی خرید لی، اس دن اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا، اس نے مجھے بتایا ہم نے گاڑی لے لی ہے، چھوٹی ہے لیکن خیر ہے، بعد میں بڑی لے لیں گے۔
اس کو ہر چیز کی جلدی تھی، اب وہ اپنی زندگی میں، اپنے چھوٹے سے خوبصورت آشیانے میں اپنے دو بچوں اور میاں کے ساتھ بہت خوش تھی، مطمئن تھی، بقول شاعر؛ دھپاں دے نال لڑلڑ کے میں لبھیاں اپنیاں چھاواں؛ اور اب جب وہ اس چھاؤں میں ہنسی خوشی زندگی جی رہی تھی تو نجانے اس کے آشیانے کو کس کی نظر لگ گئی تھی، کہ وہ چند لمحوں میں ہی اس کی زندگی کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔
وہ دس پندرہ دن بعد مجھے فون کیا کرتی تھی، اور خوب باتیں کرتی تھی، ہنس ہنس کے اپنے بچوں کی شرارتوں کا بتاتی، مجھے بھی اس کے فون کا انتظار رہتا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہی اس نے مجھے بتایا تھا، کہ میں امید سے ہوں، ہمارا ارادہ تو نہیں تھا بس اب ہو گیا ہے تو دعا کریں خیر خیریت سے ہو جائے۔ اب سو چتی ہوں شاید تیسری پریگنینسی کے پہلے دن سے ہی اس کی زندگی کے دن کم ہونا شروع ہو گئے تھے کاش جب پہلے اس کو خون کی سات عدد بوتلیں لگی تھی، تبھی ڈاکٹر آپریشن کر دیتی، بچہ چاہے بچتا یا نہ بچتا، ماں تو بچ جاتی اور آج اس کے دو جگر گوشے ماں کی ممتا سے محروم نہ ہوتے۔
کبھی سوچتی ہوں اگر ڈیلیوری میں کوئی پیچیدہ مسائل تھے، تو تیسرا بچہ ہی نہ پیدا کرتی، ڈاکٹر نے اس کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا، کہ صؤرتحال اب بھی پیچیدہ ہے کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ یہ ہی سوچتی ہو گی دو ہفتوں کی تو بات ہے، تو پھر بچے کی زندگی کو کیوں خطرے میں ڈالوں، اور بچے کی زندگی بچاتے بچاتے وہ اپنی زندگی ہار گئی تھی۔ کاش وہ اپنی زندگی کی فکر کرتی، اپنے ان دو بچوں کے لئے خود کو خطرے میں نہ ڈالتی۔
پتہ نہیں ہر روز کتنی عورتیں زچگی کی ان پیچیدگیوں کی وجہ سے، اور بر وقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ کتنے بچے ماں کی ممتا سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس دکھ کا اندازہ تبھی ہوتا ہے جب کوئی اپنا چلا جاتا ہے، جس سے آپ کا خلوص کا، دوستی کا رشتہ ہوتا ہے، اور یہ احساس کے رشتے ہی تو زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اور ان رشتوں سے جڑی خوبصورت یادیں دل و دماغ سے چپک کر رہ جاتی ہیں، جن سے چاہتے ہوئے بھی آپ چھٹکارا نہیں پا سکتے۔
سارہ کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی پائیدار رشتہ تھا، اور اس رشتے کا نہ بھولنے والا احساس ہمیشہ میرے وجود کا حصہ رہے گا۔


