اردو اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان


اسٹیبلشمنٹ، اردو، میڈیا منیجمنٹ، ذہن سازی، شہری پاکستان، قوم پرست رجحانات، عمران خان، الیکشن 2018، آج 2024

اس پوسٹ کو جو مرضی عنوان دے لیں لیکن ہے یہ اردو کی اثر پذیری کے حوالے سے، اردو جو پاکستان کی قومی زبان ہے جو ہمارے مقتدر طبقات ہمارے لئے پسند کی ہے جبکہ خود وہ اپنے لئے انگریزی کو پسند کرتے ہیں۔ اور وہ جو خود تو انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم پاکستانیوں پر حکومت اردو کے ذریعے کرتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک تجزیے کے لئے اگر صرف الیکشن 2018 کے نتائج کا ہی ٹیسٹ کیس کے طور پر جائزہ لیں تو حیرت انگیز پر عمران خان کی کامیابی ملک بھر میں صرف ان ان جگہوں پر نظر آتی ہے جہاں جہاں اردو کا چلن ہے اور اردو میڈیا کا نفوذ و اثر ہے اور یہ محض اتفاق نہیں ہے۔

عمران خان کی شخصیت سازی کی کوششیں سالوں پر محیط رہیں اور اس عرصے میں ان کے ہینڈلرز نے اردو میڈیا کے ذریعے سے ان کے حوالے سے نا صرف ان کے لئے موثر طور رائے عامہ کی ذہن سازی کی بلکہ ان کی شخصیت کو بغیر کسی نظریے، معاشی و سماجی پروگرام یا وژن کے ہی سرف لفاظی کے بل بوتے پر رائی سے پہاڑ بنا کر بھی پیش کیا۔

اگر اس کا صوبہ وار جائزہ لیں تو ان کے ووٹ بنک کی مندرجہ ذیل تصویر و تفصیل سامنے آتی ہے۔

پنجاب : جی ٹی روڈ سمیت وسطی پنجاب میں اردو اب روزمرہ کا حصہ ہے اور یہاں چھوٹے بڑے شہر بھی بڑی تعداد میں ہیں اور یہیں عمران خان کو نشستوں اور ووٹوں کی کثیر ترین تعداد حاصل ہو سکی جبکہ جنوبی پنجاب جہاں ابھی دیہی آبادی زیادہ ہے اور ملتان بہاولپور کے علاوہ اردو کا چلن زیادہ نہیں ہے وہاں عمران خان کو زیادہ کامیاب ہوتا نا دیکھ کر بالواسطہ طور پر جنوبی صوبہ محاذ بنوایا گیا اور نئے صوبے کے نعرے کی آڑ میں اس کے امیدواروں کو کامیاب کرا کر بعد میں تحریک انصاف میں شامل کرایا گیا۔

سندھ : سندھ میں کراچی حیدرآباد جیسے بڑے شہر جہاں کی زبان اردو ہے وہاں عمران خان کو بھرپور کامیابی ملی جبکہ چھوٹے شہروں جیسے سکھر میرپور خاص اور نواب شاہ وغیرہ میں بھی اچھے ووٹ ملے جو تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے نشستوں میں منتج نا ہو سکے جبکہ دیہی سندھ میں جہاں اردو کا روزمرہ استعمال نہیں ہے بلکہ کسی حد تک مزاحمت پائی جاتی ہے اس کے علاوہ سندھی میڈیا بھی بہت مضبوط ہے وہاں سے تحریک انصاف کا رزلٹ مایوس کن رہا۔

بلوچستان : بلوچستان بہت بڑے رقبے کے ساتھ بہت کم آبادی پر مشتمل ہے آبادیاں بھی دوردراز اور تعداد میں چھوٹی چھوٹی جن تک مواصلات کی سہولت پوری طرح دستیاب نہیں اور اخبارات کی پہنچ بھی نہیں جہاں روزمرہ کاروبار اور رابطے کے لئے بھی بلوچی اور پشتو استعمال ہوتی ہیں اس لئے بلوچستان میں بھی تحریک انصاف کا انتخابی رزلٹ اور عمران خان کی مقبولیت دونوں مایوس کن رہیں سوائے کوئٹہ کے جہاں شہر بھی موجود ہے اور اردو بھی، اس کے علاوہ صوبے کی پشتون بیلٹ میں بھی کچھ حصہ حاصل کیا گیا جس کی وجہ آگے بیان کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا : اس صوبے میں عمران خان کی دو بار اور دوسری بار تو دو تہائی کامیابی کی وجہ بھی دو مختلف ہیں نمبر ایک تو جی ٹی روڈ جو طورخم تک ہے کے دونوں اطراف پشاور ویلی جس میں صوبے کی کثیر آبادی اور شہر موجود ہیں جو پنجاب ہی کی طرح اردو آشنا ہیں اور یہاں بھی وہی کلیہ لاگو ہوا جو باقی پاکستان میں ہوا لیکن یہاں ایک اور اہم عنصر بھی عمران خان کی مقبولیت میں شامل ہوا اور وہ تھا عمران خان کے پشتون ہونے کے تاثر کا جس کے نتیجے میں پشتون قوم پرستوں کے ایک بڑے حلقے نے انہیں پشتون احیاء کی علامت کے طور پر لیا اور اس طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور عمران خان کی حمایت دوگنی ہو کر دو تہائی اکثریت میں تبدیل ہوتی نظر آئی (اسی رویے کے کچھ اثرات بلوچستان کے پشتون علاقوں میں بھی نظر آئے تھے ) ۔

اب 2018 کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیں تو دو باتیں قوت کے ساتھ سامنے آتی ہیں ایک تو شہری پاکستان اور دوسری اردو میڈیا کے زیراثر علاقوں سے کامیابی جو آگے چل کر ایک ہی بات نظر آتی ہے کہ شہری پاکستان میں ہی اردو لکھی بولی اور سمجھی جاتی ہے اس لئے اردو میڈیا کی اثر پذیری بھی یہیں تک اپنا سحر قائم کر سکتی ہے۔

اردو میڈیا کی جس طاقت کے بل بوتے پر جنہوں نے کچھ ہی سالوں میں عمران خان کو جن جن اذہان پر سوار کرایا تھا وہی اگر چاہیں گے تو انہی ٹولز کے ذریعے کچھ سالوں میں انہی لوگوں میں رسوا بھی کرا سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو متبادل بھی لا سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو آئندہ کے لئے بچا کر بھی رکھ سکتے ہیں لیکن تھوڑی سی کانٹ چھانٹ کے ساتھ۔

میڈیا سے مراد ریڈیو، ٹی وی، اخبارات جرائد، سوشل میڈیا، فلم اور دیگر ذرائع۔
شہری پاکستان سے مراد وہ تمام قصبے، چھوٹے بڑے شہر جن کی آبادی ایک دو لاکھ سے زیادہ ہے۔

دیہی پاکستان سے مراد وہ تمام گاؤں گوٹھ چھوٹے بڑے دیہات جہاں لوگ اپنی مقامی زبان میں روزمرہ انجام دیتے ہیں جنہیں اس کے لئے اردو کی ضرورت نہیں پڑتی اور جہاں اردو میڈیا کی موثر موجودگی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS