گلوبلائزیشن اور چترال کے ثقافتی کھیل
ہم جب بڑے ہو رہے تھے تو دنیا چھوٹی ہوتی جا رہی تھی۔ زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ رہی تھیں اور دنیا ایک ”گلوبل ویلج“ میں تبدیل ہو رہی تھی۔
گلوبل ویلج کی یہ اصطلاح مجھے اس قدر بھلی لگی کہ سکول میں میرے مضمون نامکمل ہوتے جب تک میں فراٹے بھر بھر کر یہ نہ لکھ دیتا کہ دنیا ایک گاؤں میں بدل چکی ہے۔ دانستہ یا غیر دانستہ، لیکن ہمارے اساتذہ نے، ہماری درسی کتابوں نے اور ہمارے بڑوں نے ہمیں ”گلوبلائزیشن“ کو ایک نعمت کی طرح دیکھنا سکھایا۔ ہم اس کے گن گاتے رہے اور اس میں اپنے تمام تر مسائل کا حل ڈھونڈنے لگے۔ اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی تھی کہ امریکہ، فرانس، انگلستان اور ہم، ایک ہی گاؤں میں آباد ہونے والے تھے۔ یہ سراسر ایک مہربانی ہی تو تھی کہ ترقی کی تمام چابیاں ہمیں کسی تحفے کی طرح تھالی میں رکھ کر پیش کی جا رہی تھیں۔ ہم خوش تھے، اور کیوں نہ ہوتے۔ ہم پے در پے ترقی کی منزلیں طے کر رہے تھے اور اس سودے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں تھا۔
گلوبل ویلج میں قیام کے کئی سالوں بعد ہمیں آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا کہ اس ترقی کی جو قیمت ہم نے ادا کی وہ قیمت اس ترقی سے کئی زیادہ انمول تھی۔ ہم گھاٹے کا سودا کر آئے تھے لیکن مسئلہ گمبھیر تب ہوا جب ہم نے ”گلوبلائزیشن“ کی دکان کے باہر ”خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا“ لکھا ہوا دیکھا۔
اس سودے میں سب سے زیادہ نقصان ہماری ثقافت کو ہوا۔ ہم انگریزی سیکھتے ہوئے یہ سوچنا ہی بھول گئے کہ ہم اپنی مادری زبان (کھوار) کو بھول رہے تھے۔ ہم فٹبال کھیلتے کھیلتے ”شپیڑ کیڑی“ نام کے ایک کھیل کو بھول گئے، ہم کرسمس مناتے مناتے نوروز، پھاتک اور پھیندیک کی تاریخ تک بھول گئے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمیں ہمارا کلچر ادنٰی اور حقیر لگنے لگا۔ ہم بچوں کو کھوار سکھاتے ہوئے ہچکچا گئے، ہم اپنی رسومات کو گنواتے ہوئے پانی پانی ہو گئے اور اور جب اپنی ثقافت کے دفاع کا وقت آیا تو ہماری ٹانگیں کانپنے لگیں اور پیروں تلے زمین نہ رہی۔ ہم خود سے شرمندہ تھے۔
اس گھٹن سے بچنے کے لئے ہم نے ثقافت کو آدھا طلاق دے دیا۔ باقی کو ہم نے ناچ گانے اور سلائی کڑھائی تک محدود کر کے رکھ دیا۔
ہم سے جب بھی چترال کی ثقافت کے بارے میں پوچھا گیا تو ہم نے ٹوپی سیدھی کی اور ناچنا شروع کر دیا۔
رک گئے تو یہی بتا سکے کہ چترالی ثقافت، کھوار زبان، سلائی کڑھائی، کچھ پکوان، ستار، کھپوڑ، شادی بیاہ اور بس۔
ہمارا طرز تعمیر، ہمارا رہن سہن، ہمارے محاورے، ہماری اقدار، ہمارے لطیفے، ہماری لوک کہانیاں، تہذیب، تمدن، کھیل کود، سوچ، ہمارے خوف، ہماری خوشیاں، روحوں سے عقیدت، فطرت سے محبت، ہماری توہم پرستی، ہمارے قہر و مہر کے فقرے، ہماری باہمی محبت۔
ہمیں ان میں سے کچھ یاد نہیں رہا۔ بس ڈھول کی تھاپ سنی اور ناچنا، گانا شروع کر دیا۔
سوشیالوجی میں کئی ایسی تھیوریز ہیں جو کہتی ہیں بڑے کلچرز، چھوٹے کلچرز کو کھا جاتے ہیں۔ ہمارا کلچر بھی چھوٹا ثابت ہوا۔ اس قدر چھوٹا کہ امریکہ کا عالمگیر کلچر چند دہائیوں میں ہی اسے نگل گیا۔ ہم چند سالوں میں امریکہ کے رنگ میں رنگ گئے۔ ہماری اپنی شناخت بہت تھوڑی رہ گئی۔
سوچیے دنیا کی اس سے بدنما تصویر اور کیا ہوگی کہ اس میں یکسانیت ہو مگر تنوع نہ ہو۔
دنیا کی تمام ثقافتیں مل کر ہی ایک رنگین دنیا تشکیل دے سکتی ہیں۔ اور اس کی رنگا رنگی کو قائم رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ ”ڈائیورسٹی“ کو قبول بلکہ ”سیلیبریٹ“ کیا جائے۔
چترالی ثقافت کے کئی عناصر بھلائے جا چکے ہیں۔ ان کی جگہ ہم نے اکثر مغربی متبادل اختیار کر لیے ہیں اور یوں چترال کی اپنی شناخت اور انفرادیت گھٹتی جا رہی ہے۔
ان عناصر میں سے ایک اہم عنصر وہ کھیل اور تماشے ہیں جو ہماری ثقافت کا اٹوٹ حصہ ہیں (یا پھر یوں کہیے کہ تھے ) ۔
ہم فٹبال اور کرکٹ کے سحر میں ایسے مبتلا ہو گئے کہ اپنے علاقے کے کھیلوں کو پس پشت ڈال دیا۔
گلی میں فٹبال کھیلتے کسی بچے کو روک کر چترال کے ثقافتی کھیلوں میں سے کسی پانچ کا نام پوچھیے اور وہ بغلیں جھانکنے لگ جائے گا۔ حالانکہ وہ بچہ بے قصور ہے، بغلیں جھانکنے کا کام تو ہم بڑوں کا ہونا چاہیے۔
کرکٹ اور فٹبال واقعی پرلطف کھیل ہیں۔ ان کو کھیلنا کسی صورت غلط نہیں لیکن یہ ہمارے ثقافتی کھیلوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے علاقے کے کھیل ہماری جدا تاریخ، جغرافیہ اور منفرد سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کھیلوں میں ہمارے اسلاف کا علم، ان کا طرز حیات، ان کی سوچ اور ان کی یادیں محفوظ ہیں۔
شپیر کیڑی، پائی دریک، پوت غاڑ، کھوشنا بلی اور کئی ایسے کھیل جو ہم دس پندرہ سال پہلے تک بڑے شوق سے کھیلتے تھے۔ وہ اب پوری طرح بھلائے جا چکے ہیں۔ ہم شاید وہ آخری نسل ہیں جنہوں نے فٹبال کے ساتھ پوت غاڑ بھی کھیلا، کرکٹ کھیل کر تھک گئے تو گاؤں کی لڑکیوں کے ساتھ جاکر شپیر کیڑی بھی کھیلا۔
کرکٹ نے ہمیں بس مقابلہ کرنا اور وقت گزارنا سکھایا لیکن شپیر کیڑی نے ہمیں بتایا ایک ماں اپنے بچوں کی رکشا کے لئے کیا کچھ کر گزرتی ہے۔
ہمارے ثقافتی کھیلوں میں فطرت سے محبت، بھائی چارگی، اشتراک، ایثار اور بڑوں کی عزت و تکریم کے پیغامات پوشیدہ تھے (ہیں ) ۔ ہم نے ان کھیلوں کو چھوڑا تو یہ پیغامات بھی آہستہ آہستہ بھلا دیے گئے۔
ستم یہ کہ ہماری ثقافت کے خود ساختہ رکھوالے ناچ گانے اور عورت کو چاردیواری میں قید رکھنے کو ہی ثقافت سمجھتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہماری ثقافتی کھیل ماضی کا حصہ بن جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے بھرپور مہم چلائیں۔ عین ممکن ہے ان کھیلوں کے ساتھ محبت اور ایثار کا جذبہ بھی زندہ ہو جائے۔
مجھے نہیں معلوم ان کھیلوں کو دوبارہ زندہ کس طرح کرنا ہے لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ ان کھیلوں کو زندہ نہ کیا گیا تو اس کا نقصان بہت بڑا ہو گا۔
لکھاری کا کام مسائل کو حل کرنا نہیں ان کی صحیح نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے میں نے ایک مسئلے کی صحیح نشاندہی کردی ہے۔
اپنے رسم و رواج کھو بیٹھے
باقی اب خاندان میں کیا ہے


