ڈیم بناؤ ملک بچاؤ


اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل اور نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک نعمت پانی کی فراوانی ہے جو دنیا کے سب سے بڑے گلیشئرز ہمالیہ اور قراقرم کی بلندیوں سے بہتا ہوا ہمارے میدانی علاقوں کو سیراب کرتا ہے۔ آج ہمارے پاس دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے جو ہمارے 34 ملین ہیکٹر (تقریباً 85 ملین ایکڑ) قابل کاشت رقبے میں سے 16 ملین ہیکٹر رقبے کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آزادی کے وقت ہمارے پاس استعمال کے لئے 67 ملین ایکڑ فٹ پانی تھا جو 1960 تک بڑھ کر 85 ملین ایکڑ فٹ ہو گیا۔

1960 میں پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا جس سے پاکستان کے پانی کے وسائل میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔ اس معاہدے کے مطابق دریائے بیاس، ستلج اور راوی کے پانیوں پر ہندوستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔ اس وقت ہمارے پاس پانی کا سب سے بڑا ذریعہ دریائے سندھ کی صورت میں موجود ہے جس کے پانی کے سر چشمے انڈس، شیوک، گلگت، استور، سرن اور دریائے کابل سے نکلتے ہیں۔ دریائے جہلم، چناب، بیاس، راوی اور ستلج جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کے علاقے پنجند جو اچ شریف سے دس کلو میٹر دوری پر ہے کے مقام پر اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک مشترکہ ندی کے ذریعے ان پانچوں دریاؤں کا پانی 45 کلومیٹر سفر کرتے ہوئے مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ میں جا گرتا ہے یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دریائے سندھ میں مجموعی طور پر سات دریاؤں کا پانی شامل ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ راستے میں آبپاشی کی غرض سے ان تمام دریاؤں سے مختلف نہریں نکالی گئی ہیں اور اضافی پانی ہی آگے جا کر دریائے سندھ میں گرتا ہے اور مجموعی طور پر 516,600 مربع کلو میٹر علاقے کی پانی کی ضروریات کا انحصار اس دریا پر ہے۔ انڈس بیسن سے ہم سالانہ 141.67 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل کرتے ہیں۔ پانی مختلف ندی نالوں سے جب ایک مرکزی جگہ پر جمع ہو کر کسی دریا میں داخل ہوتا ہے اس عمل کو پانی کا بیسن کہتے ہیں جس کے لئے اردو میں طاس کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم کے لئے پنجند میں ایک بیراج بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ کوئٹہ کے پہاڑی علاقوں سے تشکیل پانے والا دوسرا بیسن جو بلوچستان کے ضلع خاران کے صحرا میں داخل ہوتا ہے اس کے مرکزی دھارے میں پشین، لورا، بدو رخشاں، ماشخیل اور دیگر ندیوں کا پانی شامل ہے۔ یہ ایک لاکھ بیس ہزار ایک سو مربع کلو میٹر علاقے کو کور کرتا ہے۔ اس کے پانی کے وسائل بارشوں اور معمولی بارف باری سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہاں سے ہم تقریباً 4.5 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل کرتے ہیں۔ پانی کا تیسرا بڑا ذریعہ مکران کوسٹل بیسن ہے جو ملیر، حب، پورالی، کڈ، ہنگول، نائے، ماشے، دشت، نہنگ اور کیچ کی ندیوں سے تشکیل پاتا ہے جو ایک لاکھ بائیس ہزار چار سو مربع کلو میٹر علاقے کو کور کرتا ہے۔

ہمارے پاس زیر زمین پانی کے ذخائر 72 ملین ایکڑ فٹ ہیں جس میں سے 48 ایکڑ فٹ انڈس بیسن کی مرہون منت ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس زیرزمین پانی کے ذخائر برساتی علاقوں یا پہاڑی علاقوں میں ہیں جہاں پانی سو سے دو سو فٹ کی گہرائی میں دستیاب ہے۔ مختصر یہ کہ پانی کے تمام وسائل کو یکجا کریں تو موجودہ وسائل سے اس وقت ہمارے پاس 240.22 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت پانی کو ذخیرہ کرنے کے تین بڑے منصوبے منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم اور چشمہ بیراج ہیں۔

اس کے علاوہ وارسک، باران ڈیم حب، خان پور، ٹانڈہ، راول، سملی، بخت خان جھیل، منچھر جھیل، کھنجر جھیل اور چوٹیاری جھیل بھی چھوٹے ذخائر کی صورت میں موجود ہیں۔ مٹی اور پتھر سے بننے والا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تربیلا 1976 میں دریائے سندھ پر مکمل کیا گیا جس میں 11.61 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ مٹی وغیرہ کی تہہ جم جانے سے اس کی موجودہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 24.6 ٖ فیصد کمی کے ساتھ اب 7.295 رہ گئی ہے۔

میں نے چند سال پہلے غازی (ہری پور میں جہاں تربیلا ڈیم واقع ہے ) سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ میں مقیم اپنے دوست عبدالمجید عاطر کے ہمراہ اس ڈیم کا مطالعاتی دورہ کیا تھا جو ایک شاندار تجربہ تھا اور ہمارے ساتھ گائیڈ کی صورت میں موجود واپڈا ایکسئین نے پانی اور بجلی کے نظام کے حوالے سے ہمیں مفید اور دلچسپ معلومات دیں۔ منگلا ڈیم کی صورت میں پانی کا دوسرا بڑا ذخیرہ 1967 میں دریائے جہلم پر مکمل ہوا جس میں 5.882 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی جو 13.2 فیصد کمی کے ساتھ اب 4.636 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔

ہمارے پانی کے تیسرے بڑے ذخیرے چشمہ بیراج کی 1972 میں دریائے سندھ پر تعمیر مکمل ہوئی جس میں 0.870 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی جو اب 39.3 فیصد کم ہو کر 0.435 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ پانی کا استعمال آبپاشی، بجلی بنانے، پینے اور صنعتی ضروریات کے لئے ہے۔ 240.22 ملین ایکڑ فٹ موجود پانی کے وسائل میں سے ہم 172.21 ملین ایکڑ فٹ آبپاشی کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ بجلی کے لئے ہائیڈرو پاور کے محض دو ہی بڑے منصوبے منگلا اور تربیلا ڈیم ہیں جبکہ کئی ایک چھوٹے منصوبے بھی ہیں۔

زیادہ تر دیہی اور دیہاتی علاقوں میں زیر زمین پانی ہی پینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے سوائے چند بڑے شہروں کے جن میں کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی شامل ہیں۔ زیر زمین پانی کا 10۔ 15 فیصد گھریلو اور کمرشل ضروریات کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا اسی فیصد جو معیار میں قدرے کم ہوتا ہے دوبارہ زیر زمین پانی کے سسٹم کا حصہ بن جاتا ہے۔ یوں کل پانی کا دو فیصد حصہ پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ صنعت میں ہمارے ہاں عام طور پر پانی چیزوں کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اور مینوفیکچرنگ کے مراحل میں استعمال ہوتا ہے جو کل پانی کا ایک فیصد بنتا ہے۔

جیسا کہ ہم بڑے عرصے سے یہ بات سن رہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ قدرتی طور پر خشک سالی کا ہونا جس پر قابو پانا انسان کے بس کی بات نہیں اور دوسری پانی کے وسائل کو محفوظ کرنے کے منصوبہ جات کے حوالے سے ہماری بڑے پیمانے پر غفلت اور بد انتظامی شامل ہیں۔ بد انتظامی کے شکار نہری نظام کی وجہ سے اس وقت 106 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے پچاس فیصد پانی فصل تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو رہا ہے اور 36 ملین ایکڑ فٹ پانی بغیر کسی استعمال کے سمندر برد ہو جاتا ہے جس کا ایک حصہ اگرچہ سمندری حیات اور سمندر کنارے جنگلی حیات کے لئے کسی حد تک ضروری بھی ہے لیکن اس ضیاع کو بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔

بارشوں کے دنوں میں پانی کی دستیابی ٹھیک رہتی ہے بلکہ نوبت شدید سیلابوں تک پہنچ جاتی ہے جس سے ہر سال ہمیں اربوں روپے کی قیمتی املاک کی تباہی کے ساتھ معصوم انسانی جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ اضافی پانی کو سٹور کرنے کے لئے ہمارے پاس ڈیم نہیں۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر ایک اہم ترین مسئلہ ہے، بد قسمتی سے 1970 کی دہائی کے بعد سے کوئی بڑ ا ڈیم نہیں بن سکا ہے جو ایک مجرمانہ غفلت ہے۔ انرجی بحران اور مہنگی بجلی کے سبب ملکی صنعت کا پہیہ جام ہو چکا ہے کیونکہ بجلی مہنگی ہوگی تو پیداوار

بھی مہنگی ہو گی اور آپ کی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہو جائیں گی۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کے پاس 120 دنوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے جبکہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دن تک کے لئے ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کا پانی ذخیرہ رکھنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانی کی کمی کے باعث جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 21.8 فیصد کم ہو چکا ہے۔ ہمارا پڑوسی ہندوستان 120 سے 220 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مصر صرف دریائے نیل کے ذریعے ایک ہزار دن کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ امریکا اپنے ایک دریا کلوریڈا کے ذریعے 900 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آسٹریلیا چھ سو جبکہ جنوبی افریقہ صرف دریائے اورنج کے ذریعے 500 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی زرعی سائنسدانوں کی ایسوسی ایشن کے چیئرمین جمشید چیمہ کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب 2025 تک پاکستان میں مزید 31 %تک موجودہ آبی ذخائر کم ہو سکتے ہیں جس کے لئے فوری طور پر مناسب اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نا اہل مشیروں اور افسروں کے خلاف تادیبی اقدامات کئیے جائیں جنھوں نے حکمرانوں کو ریاست کے قیمتی وسائل فضول منصوبوں میں ضائع کرنے کے مشورے دیے ہیں کیونکہ ایسے افراد پاکستان کے لئے معاشی ضرب کار ثابت ہوئے ہیں۔ ایک ریاست نا اہل حکمران برداشت کرنے کی متحمل تو ہو سکتی ہے لیکن نا اہل مشیر اور انتظامی افسران برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کو چاہیے کہ مقابلے کا امتحان پاس کرنے والے نام نہاد قابل افسران اور بیرونی ماہرین پر انحصار کرنے کی بجائے پاکستان کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو آن بورڈ لیں اور قومی نوعیت کے منصوبوں میں ان اداروں اور یونیورسٹیوں کے ٹیکنو کریٹ ماہرین، اساتذہ و طلباء کی صلاحیتوں سے استفادہ کریں۔

ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کی تحقیق ملکی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے اور ان مقالہ جات کو لائبریریوں میں سجانے کی بجائے متعلقہ اداروں کو عملی نفاذ کے لئے بھیجا جانا چاہیے، بلکہ سرکاری و نجی اداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے اپنے شعبے میں تحقیق کو یونیورسٹیوں کے تعاون سے فروغ دیں اور تحقیق کے لئے طلباء کو سپانسر کریں۔

آبی وسائل کی کمیابی ا ور ضیاع سے آئندہ سالوں میں پاکستان کی 173 ملین آبادی کو غذائی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کے ایک تخمینے کے مطابق پانی کی کمی اور خشک سالی کے سبب پاکستان کو آئندہ سالوں میں زراعت کی مد میں 90 ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ زراعت پر انحصار کرنے والی پاکستانی معیشت کے لئے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ ہمارے جی این پی میں اس وقت زراعت کا حصہ 35 % ہے جبکہ 44 % لوگ روزگار کے لئے زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔

جبکہ ہماری برآمدات میں زرعی سیکٹر کا حصہ 65 % ہے۔ اس وقت ہماری پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے تو سوچا جا سکتا ہے کہ اہم ترین شعبے زراعت کی تباہی سے غربت کی شرح کہاں پہنچ سکتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے ہر شہری کے لئے 5600 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہو کر 1000 کیوبک میٹر رہ گیا ہے۔ انڈیا میں یہ شرح 1600 جبکہ یورپ میں 3000 کیوبک میٹر سے زائد ہے۔ ہم نے اپنے آبی وسائل کو ضائع کر کے کفران نعمت کیا ہے۔

ہمارے ہاں مون سون میں بارشیں اور سیلاب برسوں سے تباہی مچا رہے ہیں لیکن ہم نے اس تباہی کی روک تھام کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیے ۔ فضول سیاسی لڑائیوں کی بجائے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو پانی کی کمی جیسے سنجیدہ قومی معاملات کو حل کرنے کے لئے مل جل کر بیٹھنا ہو گا ورنہ پاکستانی قوم کو ایسی جمہوریت نما بادشاہی کی کوئی ضرورت نہیں جو عوام کے بنیادی مسائل سے لا تعلق ہو۔ صورتحال یہ ہے کہ واپڈا نے کچھ عرصہ پہلے اپنے 35 آبی منصوبوں کے لئے 100 ارب روپے مانگے ہیں جبکہ اسے 24.12 بلین دینے کا وعدہ کیا گیا۔

پانی کے ضیاع کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی تبدیلی، پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کی کمی اور انڈیا کی طرف سے ہمارے حصے میں آنے وا لے دریائے جہلم اور دریائے چناب کے پانی کی چوری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے لیکن دوسری طرف یہاں آبادی میں اضافے کی شرح 3 %ہے جو سب سے زیادہ ہے۔ پانی کی کمی مستقبل میں وفاق پاکستان کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ہمیں پانی کو اپنی معیشت کا اہم حصہ بنانا ہو گا اور اس سلسلے میں ہمارے پاس ضائع کرنے کے لئے مزید وقت نہیں ہے۔

ہمیں دو شعبوں واٹر ڈویلپمنٹ اور واٹر مینجمنٹ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں چشمہ ڈیم، کالا باغ ڈیم، تھل میں پانی کا ذخیرہ کرنے کا منصوبہ، تربیلا اور منگلا ڈیم کی توسیع، داسو ڈیم، مہمند ڈیم، دیا مر بھاشا ڈیم، میرانی ڈیم، گومل زام ڈیم اور دیگر زیر تکمیل منصوبوں کو بر وقت مکمل کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنے میں مدد ملے گی بلکہ سستی بجلی بھی حاصل ہو گی۔ واٹر مینجمنٹ کے سلسلے میں ہمیں اپنے نہری نظام کو انتظامی لحاظ سے مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

محکمہ آبپاشی کو کسانوں کو پانی کی بچت کے لئے راہنمائی کرنی چاہیے۔ حکومت کو پانی کی بچت کے لئے مغربی ممالک کی طرز پر ضروری قانون سازی کرنی چاہیے۔ زیر زمین پانی کو مربوط نظام کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے۔ کاشتکاروں کو ڈرپ اری گیشن سسٹم کی طرف لانا چاہیے۔ غیر قانونی نکاسی آب کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ محکمہ آبپاشی پانی کے غیر قانونی استعمال اور چوری کو روکنے میں ناکام رہا ہے چنانچہ پانی کا استعمال کرنے والوں کی انجمنیں بنا کر اس سسٹم کو پرائیویٹائز کیا جاسکتا ہے۔

پانی کے آبیانے کی شرح بہت کم ہے جس کی وجہ سے کاشتکار پانی کے وسائل کو قیمتی نہ سمجھتے ہوئے اس کو بے دریغ ضائع کرتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ آبیانے کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔ کسان تنظیموں، پانی استعمال کرنے والی انجمنوں اور پرائیویٹ سیکٹر کو آبی منصوبوں کی تعمیر، انتظام و انصرام اور خبر گیری کے عمل میں شریک کرنا چاہیے اور ایسی تنظیموں کی مشاورت سے ہی آبی وسائل کے استعمال کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں آبی شعبے کے بہت سے مسائل ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم تھوڑی سی توجہ سے 83 ملین ایکڑ فٹ مزید پانی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بہتر انتظامی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہماری معاشی ترقی کے لئے کالا باغ سمیت تمام چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ سیاسی حالات کے پس منظر میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے کیونکہ اس ڈیم کے مخالف سیاسی عناصر عوام میں اپنا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔

کالا باغ سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر نہ کی گئی تو مستقبل قریب میں ملکی سالمیت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی مختلف حکومتیں اگرچہ ڈیموں کی تعمیر کے متعدد منصوبوں کا اعلان کرتی آئی ہیں، لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ طویل مدتی ہونے کے سبب سیاسی حکومتیں ڈیموں کی تعمیر سے کتراتی ہیں کیونکہ یہ ان کے دور حکومت کے دوران مکمل نہیں ہوتے اور یوں اس کا انھیں سیاسی فائدہ نہیں ہوتا جبکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے ایسے منصوبوں پر توجہ دی جاتی ہے جو قلیل مدتی ہوں اگرچہ وہ ملکی معیشت پر بوجھ ہی کیوں نہ ہوں اور ان سے مہنگی بجلی ہی کیوں نہ پیدا ہو۔

یہ ایک بیمار سوچ ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ اجتماعی قومی فائدے کی بجائے انفرادی یا مخصوص گروہ کے لئے فائدہ حاصل کرنے کی سوچ نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ آج سابق صدر ایوب خان کو اگر اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے تو اس کی بہت سی وجوہات میں منگلا اور تربیلا کی تعمیر بھی ہے۔ آنے والی نئی حکومت اگر کوئی ایک بڑا آبی منصوبہ بھی اپنے دور حکومت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے یا شروع کرنے میں کامیاب ہو گئی تو مستقبل کا مؤرخ اس حکومت کو قوم کے محسن کی حیثیت سے یاد کرے گا۔ کسی بھی اور تحریک سے زیادہ اس وقت ڈیم بناؤ ملک بچاؤ کی تحریک ہی کسی بھی سیاسی پارٹی کو عوام کا اعتماد فراہم کر سکتی ہے کیونکہ صورتحال ایسی ہے کہ پانی کے ایک ایک قطرے کی حفاظت ہمارے روشن مستقبل کے لئے بہت ضروری ہو چکی ہے۔

Facebook Comments HS