ہم چاہے کتنے ہی بڑے ہو جائیں لیکن بچپن نہیں بھولتے۔ بچپن کی محرومیوں اور خوشیوں کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے والد اپنی زندگی کے آخری وقت میں اکثر مجھ سے اپنے بچپن کی باتیں کرتے تھے۔ اپنے اسکول کی باتیں، اپنے گھر کی باتیں، اپنے والدین کی یادیں، اپنے دوست اپنے کھیل اور ان وقتوں میں منائے گئے تہوار کی باتیں۔ میں ان کی باتیں سنتا تھا تو سوچتا تھا کہ انہوں نے مشکلات محرومیوں اور نا آسودگی سے آغاز کرنے والی زندگی میں اپنی محنت، مشکلات، کٹھن حالات اور صلاحیت کے ساتھ اپنے مستقبل کو خوشحال بنایا اور بچوں کو تعلیم اور شعور سمیت ہر ضرورت مہیا کی لیکن پھر بھی یہ اس زندگی کا ذکر نہیں کرتے۔

یہ نہیں کہتے کہ میں نے اپنی جوانی میں یہ کیا یہ دیکھا وغیرہ وغیرہ۔ صرف بچپن کا ہی ذکر کیوں کرتے ہیں؟ والد کا انتقال ہوا تو میری عمر 26 یا 27 برس کے لگ بھگ تھی لیکن جوں ہی میں نے جوانی سے ادھیڑ عمری کا سفر شروع کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ٹھیک کہتے تھے۔ وہ اکثر یہ کہتے تھے کہ 40 سال کی عمر تک میں زندہ رہا تو تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ ہر غلط بات پر تمہیں ٹوکوں گا اور متنبہ کروں گا۔ میں پوچھتا تھا 40 کے بعد کیا ہو گا؟

تو کہتے تھے پھر تم سمجھدار ہو جاؤ گے، پختہ کار ہو جاؤ گے اور زندگی کی حقیقتوں کو اچھی طرح جان لو گے۔ تب واقعی سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن جوں ہی زندگی نے 40 کے پھیرے میں آنا شروع کیا تو یوں لگا جیسے ان کی کہی ہوئی ہر بات ہر حقیقت سے پردہ اٹھنے لگا ہے اور سب کچھ صاف نظر آنے لگا ہے۔ اب سمجھ آنے لگا کہ بچپن کی خوشیاں کیا ہوتی تھیں اور بچپن کی یادیں کیسے انسان کے دماغ سے چمٹ جاتی ہیں۔ کیسے والدین بوڑھے ہو کر بھی وہی جوان دکھتے ہیں اور کیسے ان کی ڈانٹ اور پیار کو یاد کیا جاتا ہے۔

زندگی کے 39 سال اور ہر سال کی 2 عیدیں میں نے پاکستان میں منائیں۔ لیکن گزشتہ سال کی دونوں عیدیں چین کے دار الحکومت بیجنگ میں منائیں۔ سچ پوچھیں تو عید پر ہی احساس ہوا کہ اپنوں کے ساتھ عید منانا کیا ہوتا ہے۔ لیکن زندگی ہے اور اسے جاری رہنا ہے سو غمگین ہو کر دوبارہ خوشحال ہونا بھی اسی زندگی کا حصہ ہے۔

حالیہ دنوں چین میں جشن بہار کا تہوار قریب ہے۔ یہ چینیوں کے لئے سال کا سب سے اہم تہوار ہوتا ہے۔ بالکل ایسا ہی جیسے ہمارے ہاں عید۔ اس تہوار کے لئے ایک ماہ پہلے ہی سے تیاریوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا ء، گھر کو سجانے کی اشیاء، دوستوں رشتہ داروں کو تحائف اور اسی طرح لباس اور دیگر لوازمات سمیت گھر کی تزئین و آرائش پر مبنی تمام ہی اشیاء کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ تہوار چینیوں کے لئے زیادہ اہم اس لئے ہوتا ہے کیوں کہ اس تہوار کے موقع پر ہر فرد اپنے خاندان سے ملتا ہے۔

یہ خوشی وہی زیادہ محسوس کر سکتے ہیں جو گھروں سے دور ہوں۔ چین میں لوگوں کا اپنے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر بڑے شہروں یا بہتر مواقعوں کے مقام پر روزگار کے لئے منتقل ہونا اب ایک عام روایت بن چکا ہے۔ یہ تمام افراد سارا سال گھر اور گھر والوں سے دور رہ کر اپنے روزگار کے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن جیسے ہی جشن بہار کا تہوار آتا ہے تو ان سب کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ اہم ایام اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر پر منائیں۔

تقریباً سات روزہ تعطیلات میں سارا خاندان والدین کے گھر پر جمع ہوتا ہے اور وہاں یہ تعطیلات مل کر گزاری جاتی ہیں۔ اس تہوار کی خاص خاص باتیں بیاں کی جائیں تو نئے سال کے آغاز میں جشن بہار ہر سال ایک مخصوص جانور کے نام سے ہوتا ہے جس میں خرگوش گائے ڈریگن وغیرہ سمیت کل 12 جانور ہیں۔ سال 2023 خرگوش سے موسوم تھا اور اب 2024 ڈریگن سے موسوم ہے۔ اس ضمن میں آپ کو پورے ملک کے کونے کونے میں ہر چیز اس جانور کی طرح نظر آئے گی جس کا وہ سال ہو گا۔

مثلاً ً یہ سال ڈریگن کا سال ہے تو بازاروں، شاپنگ مالز، سڑکوں، دفاتر اور گھروں میں آپ کو بس ڈریگن ہی نظر آئے گا۔ بچوں کے لئے ڈریگن کے کارٹونز، ڈریگن کینڈیز، ڈریگن کے کھلونے اور ڈریگن کی اسٹیشنریز۔ بڑوں کی بات کریں تو لباس پر ڈریگن کی تصاویر سمیت موبائل فونز کورز تک ہر چیز پر آپ کو ڈریگن بنا مل سکتا ہے۔

چینی جشن بہار کا ایک خاص مزہ اس کا رنگ بھی ہے۔ پاکستان میں عید کے تہوار پر ہمیں لباس اور سجاوٹ کے حوالے سے مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن چینی جشن میں سرخ رنگ انتہائی نمایاں ہوتا ہے۔ سجاوٹ اور لباس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ سرخ رنگ زیادہ ہو۔ یہاں تک کہ تحائف کا رنگ بھی لال ہوتا ہے۔

ایک اور خاص بات اس جشن میں نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار ہے۔ اس حوالے سے پوسٹرز اور بینرز پر خصوصی اشعار اور دعائیں لکھی جاتی ہیں۔ ان اشعار اور دعاؤں کو گھر کی دیواروں اور دروازوں پر آویزاں کیا جاتا ہے اور ان کا رنگ بھی سرخ ہوتا ہے۔

جاری ہے۔