پی ٹی آئی کی قیادت کو سزائیں اور بلوچستان میں شورش


آج کی اس مختصر سی تحریر کا مقصد یہ تھا کہ بلوچستان کے شورش زدہ حالات اور بلوچستان اور ایران میں معصوم سرائیکیوں کی شہادت پر کچھ بات کی جائے مگر دیگر اہم موضوعات بھی آج کے بلاگ میں در آئے۔

بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں عدالت نے دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اسی طرح توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا۔ ابھی دیگر مقدمات بھی ہیں جن کے فیصلے عمران خان کے خلاف آ سکتے ہیں۔ مقدمات محض عمران خان پر درج نہیں ہیں پی ٹی آئی کے دیگر کارکنان اور ورکرز بھی مقدمات کی زد میں ہیں۔

یہ وہ ورکرز تھے جو پی ٹی آئی اور نیازی کی محبت میں حدود و قیود سے ماوراء ہو کر صریح غلطیوں کے مرتکب ہو بیٹھے۔ مخصوص بیانیے کے اکسائے ہوئے ان سادہ لوح لوگوں نے 9 مئی 2023 ء کو وسیع پیمانے پر ناصرف پورے ملک کا نظام تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی بلکہ عوامی مقامات، بازاروں، سرکاری و نجی تنصیبات اور سلامتی کے حساس اداروں اور قومی بہادروں اور مشاہیر کی علامات کو بھی اپنے جنون کا نشانہ بنایا۔ اس اضطراب کے دوران کاروباری حلقے اور عام شہری بے چینی میں مبتلاء ہو گئے تھے اور ریاستی نظام کو مفلوج کر دیا گیا تھا۔

سیاست میں اس قسم کے ناپسندیدہ تشدد کو روکنے اور سماج کی تقسیم کے ذمہ دار مشتعل مزاج اور عمران خان کے انتہائی جذباتی قسم کے عشاق کے رد کے لیے اداروں نے اپنی مخصوص حکمت عملی کے ذریعے ناخوشگوار حالات پر بالآخر قابو پا لیا تھا۔ پھر ناخوشگوار حالات کے ذمہ دار قانون کی گرفت میں آنے لگے۔ دوسری طرف ”عشاق عمران“ پہلے سے کہیں بڑھ کر اداروں کی ہرزہ سرائی اور تنقید کرتے لگے۔ پاک فوج کو غدار کہا جانے لگا۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور حاضر سروس آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو غلیظ گالیاں دی جانے لگی۔

عدلیہ کو بھی متنازعہ بنانے کی منظم کوشش کی گئی۔ نیازی کے اندھے معتقدین نے ہی نیازی کے لیے سب سے زیادہ مسائل پیدا کیے۔ آج عمران خان اور بشریٰ پیرنی جن مسائل کا شکار ہے گستاخی معاف وہ عمران خان کے انھی پیروکاروں کے باعث ہے۔ اگر آج بھی متذکرہ بالا بیانیے کے پیروکار اپنے رویوں میں تبدیلی اور امن پسندی لانا شروع کر دیں تو ان کا اپنے مرشد پر احسان ہو گا۔

بلاگ کے اس حصے میں بلوچستان میں جاری بدامنی پر محتاط انداز میں بات ہو جائے۔ گزشتہ دنوں وزیرستان (خیبرپختونخوا ) میں چھے سرائیکیوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ جس پر میڈیا نے خاطر خواہ مذاکرے نشر کیے نہ ہی کسی بڑی سیاسی جماعت کی قومی سطح کی نام نہاد قیادت نے اس سلگتے مسئلے پر کوئی جذباتی اور مصنوعی سا بیان داغا۔ حامد میر بلوچوں کی محبت میں تو مرا جا رہا ہے ذرا مظلوم و مجبور سرائیکیوں پر بھی بات کر لیتا۔ محض ایک آدھ دن تک وزیرستان میں شہید ہونے والے سرائیکی مزدوروں کی شہادت بارے ”غریب وسیب واسیوں“ نے رونا رویا۔

اس کے بعد سرائیکی قوم پرستوں اور سرائیکی دانشوروں نے گویا اس معاملے کو ٹھپ ہی دیا۔ سرائیکی بولنے والوں کو بلوچستان میں برسوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تقریباً ہر ماہ اس قسم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ بلوچستان کے فلاں علاقے میں سرائیکی مزدوروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اب تو ایرانی بلوچستان میں بھی سرائیکیوں کو ہدف بنا کر مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ آخر کس مسیحا کے آگے درد دل بیان کیا جائے۔ لکھنے کو یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس پر مفصل لکھ کر بلوچ بھائیوں کو گزارش کی جا سکتی ہے کہ بلوچ سرمچاروں کی طرف سے مظلوم، مسائل زدہ اور افلاس کا شکار سرائیکیوں کو کن مقاصد کے لیے مارا جا رہا ہے۔

اگر ”بلوچ“ سرائیکیوں کو ”پنجابی“ قرار دے ہلاک کر رہے ہیں تو یہ ان کی بالکل ہی غلط فہمی ہے۔ ”سرائیکی“ ایک الگ زبان، الگ ثقافت اور الگ تہذیب ہے۔ یہ اور بات کہ سرکاری سطح پر ”سرائیکی خطہ“ صوبہ پنجاب کا حصہ ہے اگرچہ سرائیکی صوبے کی جد و جہد جاری ہے اور ہر دور میں مقتدر حلقوں کی طرف سے سرائیکی صوبے کے قیام کا جھوٹا وعدہ کیا جاتا ہے۔

اس وقت جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے سماجی ذرائع ابلاغ کے مطابق بلوچستان کے حالات میں خاصی بے چینی ہے۔ سوشل میڈیا پر بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے مختلف قسم کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف ریاستی ادارے اس حوالے سے کامیاب حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

Facebook Comments HS