راحت فتح علی خاں کی دم والی بوتل


موبائل فون کسی عذاب سے کم نہیں، ہر بندہ کیمرہ اٹھائے خبر کی کھوج میں لگا رہتا ہے، ذرا سی بات ہو فوراً لوگ موبائل فون نکال کر ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں، چند روز قبل سوشل میڈیا پر معروف گلوکار راحت فتح علی خاں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گلوکار اپنے ملازم یا شاگرد پر تشدد کر رہے ہیں اور چیخ چیخ کر بوتل کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں، ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا، راحت فتح علی خان کے فینز کو دھچکا لگا کہ ان کا ہیرو کس قدر گھٹیا حرکت کر رہا ہے۔

ہمارے عوام بہت ظالم اور لائی لگ ہیں، ذرا سی بات کہیں سنی یا دیکھی طوفان مچا دیتے ہیں، ان کو سادہ لوح فنکاروں کی معصومیت اور سادگی پر بھی ترس نہیں آتا، فنکار بہت حساس ہوتے ہیں، وہ اپنی چیزوں اور فن سے متعلقہ ہر چیز کو احترام اور عزت دیتے ہیں، وہ ان کے موسیقی کے آلات ہوں، استاد ہوں، کوئی دم والی بوتل یا کوئی بھی ”دم“ لگانے والی چیز ہو، اس کو اپنے سفر کے آغاز سے پہلے احترام کے ساتھ اپنے ملازم یا اسسٹنٹ کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی جاتی ہے کہ اس کا ادب و احترام تم پر واجب ہے۔

گلوکاروں کے بارے میں یہ رائے بھی پائی جاتی ہے وہ گانے گاتے اور موسیقی کے آلات استعمال کرتے ہیں جو کہ اسلام میں جائز نہیں ہے مگر آج تک جتنے فنکاروں اور گلوکاروں کو دیکھا ہے وہ نہایت مذہبی ہوتے ہیں، گلوکار سٹیج پر پرفارم یا گانا سٹوڈیو میں ریکارڈ کرنے سے قبل آیات پڑھتے اور کامیابی کے لئے دعا مانگتے دیکھے ہیں، ممکن ہے بعض گلوکاروں نے اپنے اپنے پیروں سے دم بھی کرایا ہو یا ان کے پیروں نے بوتل پر دم کر کے دیا ہو کہ جب بھی گانا شروع کریں تو اس بوتل میں جو بھی ہے اس کو پی کر کام شروع کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی، قارئین نے اکثر شہروں کی دیواروں پر پیروں اور عاملوں کی وال چاکنگ پڑھی ہوگی جس پر لکھا ہوتا ہے ”عامل بابا کی کرامات، محبوب آپ کے قدموں میں، کامیابی آپ کے قدموں میں ہوگی“ ، سوچنے والی بات ہے کہ پیر صاحب یا عامل دم بوتل پر کرتے ہیں یا اس کے اندر جو مواد ہوتا ہے اس پر کرتے ہیں

ہو سکتا ہے کہ راحت فتح علی خاں کو بھی کسی پیر نے بوتل پر دم کر کے دیا ہو اور بوتل میں پانی ہی ہو مگر راحت فتح علی خاں اپنے شاگرد پر تشدد کرتے ہوئے مسلسل تکرار کر رہے تھے کہ بوتل کہاں ہے، انہوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ دم والا پانی کہاں ہے، ممکن ہے کہ راحت فتح علی خاں کو بوتل سے زیادہ دکھ پانی کا ہو گا اس لئے انہوں نے دم والی بوتل کہہ دیا اب کوئی پیر ”کوڑے پانی“ (کڑوا پانی) پر دم تو نہیں کر سکتا

فنکاروں نے اپنی اپنی اصطلاح بنائی ہوتی ہیں، یہ 90 کی دہائی کا ذکر ہے کہ میں ایک بار ریڈیو ملتان گیا جہاں منصور ملنگی بھی موجود تھے، تھوڑی دیر بعد منصور ملنگی نے پروڈیوسر سے کہا کہ مجھے بریک دیں کیونکہ میری دوا کا وقت ہو گیا ہے، پروڈیوسر نے کہا تھوڑی دیر انتظار کر لیں مگر گلوکار برداشت نہ کرسکے اور پانچ منٹ کا کہہ کر باہر چلے گئے، کچھ دیر بعد میں بھی وہاں سے نکل آیا تو گیٹ کے پاس منصور ملنگی اپنی کار میں ”دوا“ کے گھونٹ لگا رہے تھے جس کی ”خوشبو“ باہر تک پھیلی ہوئی تھی

میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ فنکار اندر سے بہت زیادہ مذہب سے عقیدت رکھتے ہیں، یہ واقعہ میرے ایک دوست نے سنایا جب مشرف دور میں ملتان کے تھیٹرز پر فحاشی کا طوفان برپا تھا، دوست نے قصہ سنایا کہ زارا اکبر ملتان کے ایک تھیٹر میں پرفارم کر رہی تھیں، ہر شو ہاؤس فل جا رہا تھا، زارا اکبر کی شہرت سن کر میرے دوست نے پروڈیوسر سے فرمائش کردی کہ میں نے بھی شو دیکھنا ہے، دوست کیونکہ ملتان کا نامور صحافی تھا تو پروڈیوسر نے اس کے پروٹوکول کا بہت خیال رکھا۔

دوست کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا بلکہ شو شروع ہونے سے قبل زارا اکبر سے خصوصی تعارف بھی کرایا، سٹیج ڈراموں میں چھ، سات رقص آئٹمز پیش کیے جاتے ہیں، زارا اکبر نے دھوم مچا رکھی تھی، ہال پیک تھا، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، زارا اکبر نے شو کے آخر میں خصوصی آئٹم پیش کی، سفید کرتا اور لاچہ پہن رکھا تھا، رقص شروع کرنے کے بعد پانی کی بوتل اپنے جسم پر انڈیلنا شروع کردی جس سے سفید کرتا جسم سے چپک گیا جس پر تماشائیوں بے قابو ہو گئے اور ہال بڑھکوں اور تالیوں سے گونجنے لگا

رش بہت زیادہ تھا اس لئے پروڈیوسر نے زارا اکبر کو وہاں سے نکالنے کے لئے خصوصی راستہ بنایا ہوا تھا، پروڈیوسر نے میرے دوست سے کہا کہ رش بہت زیادہ ہے، دھکم پیل ہوتی ہے لہذا آپ زارا اکبر کے ساتھ ہی باہر نکلیں جب زارا اکبر باہر نکل رہی تھیں تو اس کے بھائی نے کہا اللہ نے بہت عزت دی ہے ہال پیک تھا اور شو انتہائی کامیاب رہا۔

زارا اکبر کا ایک اور واقعہ بھی بیان کر دیتا ہوں، ہوا یوں کہ روزنامہ خبریں ملتان کے شوبز رپورٹر اور میرے دیرینہ دوست آغا محمد علی نے خبر شائع کردی کہ اداکارہ بیک سٹیج پر سگریٹ کے ”دم“ لگاتی ہیں، خبر شائع ہونے پر اداکارہ نے رپورٹر کو دھمکیاں دیں کہ ابھی تمھاری نوکری سے چھٹی کراتی ہوں پھر چند گھنٹوں بعد ہی معروف صحافی اور اخبار کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے اداکارہ کی ریپوٹیشن خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آغا محمد علی کو ملازمت سے فارغ کر دیا جس پر ہم آغا کو طنز کرتے تھے، تم پر اداکارہ نے دم کر دیا ہے۔

چند روز قبل کامیڈین ناصر چنیوٹی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کی تینوں فلمیں سپرہٹ رہی ہیں، اس کی وجہ میری بیوی ہے کیونکہ جب بھی میری فلم ریلیز ہونے والی ہوتی ہے تو میری بیوی عراق چلی جاتی ہے اور روضہ حضرت امام حسین ؑ پر بیٹھی رہتی ہے اور میری کامیابی کے لئے دعا کرتی ہے، اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور میری فلمیں سپرہٹ ہوجاتی ہیں۔

ایک بار یہ بھی دیکھا کہ ایک معروف گلوکارہ کی سٹیج پر اناؤنسمنٹ ہوئی مگر گلوکارہ سٹیج پر نہیں آ رہی تھیں جس کی وجہ معلوم ہوئی کہ وہ دعائیں پڑھ رہی تھیں بعد میں جب ان سے پوچھا کہ آپ دعا کر کے گھر سے نکلا کریں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے پیر صاحب نے دم کیا ہے اور کہا ہے کہ سٹیج پر جانے سے قبل دعا پڑھنی ہے، اکثر فنکار جب سٹیج پر آتے ہیں تو سٹیج کو ہاتھ لگا کر سلام اور توبہ کرتے ہیں

راحت فتح علی خاں نے واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا پر اپنے چاہنے والوں سے معافی مانگ لی ہے گو انہوں نے جس شاگرد پر تشدد کیا اس پر اپنے احسانات کی لمبی فہرست بھی سنا دی حالانکہ یہ کام خدا کی رضا کے لئے کیے جاتے ہیں کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نہیں۔

چند فنکشنز میں بیک سٹیج پر راحت فتح علی خاں کو دیکھا ہے جو ہر کسی کو بہت عاجزی سے ملتے ہیں، بہت ملنسار اور ہنس مکھ ہیں، اپنی ٹیم کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں، چند روز قبل انہوں نے اپنی ٹیم تبدیل کرلی تھی، ویڈیو شرارت بھی ہو سکتی ہے، کیا معلوم یہ کتنا پرانا واقعہ ہے، یہ بھی ان کی عظمت ہے وہ جھوٹ بھی بول سکتے تھے کہ ویڈیو جعلی ہے مگر انہوں غلطی تسلیم کی اور اپنے مداحوں سے معافی بھی مانگ لی، اب نجانے دم والی بوتل کتنی مقدس اور پوتر تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے غصے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

بہرحال یہ اللہ اور اس کے بندوں کا معاملہ ہے جس پر کوئی رائے دینا درست نہ ہو گا، اللہ تعالی چاہے تو پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بھی معاف کر دیتا ہے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ راحت فتح علی خاں نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لئے اسلامی ٹچ دیا ہے اور بوتل کو دم والی بوتل قرار دے دیا جس طرح بانی تحریک انصاف عمران خان نے قاسم سوری کی فرمائش پر ایک جلسہ میں اپنی تقریر میں اسلامی ٹچ دیا تھا۔

Facebook Comments HS