ودرنگ ہائیٹس: عشق پر زور نہیں
عشق۔ اگر پورا ہو جائے تو اپنی ہیئت بدل لیتا ہے اور اگر ادھورا رہ جائے تو ہر اس شخص کی زندگی کو ادھورا کر دیتا ہے جو اس عشق کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ جتنا عشق کے بارے میں پڑھنا آسان ہے اتنا ہی اسے برتنا مشکل ہے۔ ایسے ہی ہلاکت خیز عشق کی داستان ودرنگ ہائیٹس میں بیان کی گئی ہے۔ بظاہر دو گھروں اور ان کے مکینوں کے درمیان گھومتی یہ کہانی جذبات اور احساسات کا ایسا مد و جزر ہے جس میں قدم قدم پر آپ خود کو بھی سیلابی ریلے میں بہتا محسوس کریں گے۔ اس عشق میں عداوت ہے، بغاوت ہے، اداسی ہے اور ہاں نفرت، نفرت بھی ہے۔
ودرنگ ہائیٹس انگریزی زبان کا ناول ہے جس کا ترجمہ سیف الدین حسام نے کیا ہے۔ سیف الدین اردو کے ممتاز ادیب اور مترجم ہیں جبکہ بچوں کے ادب میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ناول کی کہانی کی خصوصیات بیان کرنے سے پہلے مصنفہ کے بارے میں بات کی جانی چاہیے۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ مصنفہ کا یہ پہلا اور آخری ناول تھا اور اسی ایک ناول کی بدولت مصنفہ آج بھی انگریزی ادب میں اپنا ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس ناول میں موجود اداسی اور تنہائی مصنفہ کی خود کی بیتی ہوئی لگتی ہے۔
یہ وہ داستان کرب ہے جو مصنفہ کے قلم کے بجائے دل سے کشید کی ہوئی لگتی ہے۔ ایملی جین برانٹے نامی یہ مصنفہ اپنی واحد تصنیف ودرنگ ہائیٹس کے ذریعے ہی پوری دینا میں پہچانی گئی۔ ابتدا میں ان کے اس ناول کو کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہوئی لیکن ان کی وفات کے بعد یہ ناول شہرت کے آسمان پر پہنچ گیا۔ ایملی کی زندگی مشکل حالات کا نمونہ رہی جس کے اثرات ان کے قلم پر بھی پڑے۔ ان کی دو بہنیں بھی لکھنے لکھانے کی جانب متوجہ رہیں اور اسی لیے ان تینوں کو برانٹے سسٹرز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
شارلٹ برانٹے نے ”جین آئر“ اور این برانٹے نے ”ایگنس گرے“ نامی ناول تخلیق کیے۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ودرنگ ہائیٹس جیسا شاہکار صرف ایملی کے حصے میں آیا۔ یہ شاید ایملی کا کرب ہی تھا جو اسے محض تیس سال کی عمر میں اس دنیا سے منہ موڑنے پر مجبور کر گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایملی کی زندگی ایک معمہ ہی رہی اور آج بھی اس کی زندگی کے کئی واقعات ابھی بھی صیغہ راز میں ہی ہیں۔

ودرنگ ہائیٹس کی اشاعت کے بانوے سال بعد سنہ 1939 میں اس پر پہلی فلم بنائی گئی۔ فلم کو شائقین کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی۔ جس کے بعد بھی متعدد بار بھی اسی ناول پر فلمیں بنیں اور کامیاب بھی ہوئیں۔ آج بھی اس فلم کوایک کلاسیک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ناول میں کہانی اور کرداروں کے علاوہ جس چیز نے اس میں ایک پرسراریت کا عنصر قائم رکھا ہے اوہ اس کے السٹریشنز ہیں۔ فرنینڈو ویسنٹے سانچیز نامی آرٹسٹ نے اس کے متعدد السٹریشنز بنائے جو انتہائی خوبصورتی سے ناول کی پوری کہانی کو بیان کر دیتے ہیں۔
یوں تو ناول کی کہانی دو کرداروں ہید کلف اور کیتھرین کے گرد گھومتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ مزید کردار بھی اس میں جڑنے لگتے ہیں اور یوں کہانی پیچ در پیچ کھلتی چلی جاتی ہے۔ ارنشا اور بیگم ارنشا نامی جوڑا اپنے دو بچوں کیتھرین اور ہنڈلے کے ساتھ ودرنگ ہائئیٹس میں مقیم تھے۔ کافی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے دونوں بچے اچھی صحت و تربیت کے حامل تھے ان دونوں کے آیا کی بیٹی نیلی بھی ان کے پاس پل رہی تھی اور یہ تینوں بالکل دوستووں کی طرح رہتے تھے۔
گو نیلی ان دونوں سے عمر میں بڑی تھی لیکن پھر بھی تینوں کی گاڑھی چھنتی تھی۔ تب ہی ایک روز مسٹر ارنشا کو کام سے دوسرے شہر جانا پڑا۔ لیکن جب وہ وہاں سے واپس آئے تو اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ ایک منحنی اور کالے سیاہ رنگ کا حامل بچہ بھی موجود تھا۔ گھر میں اس بچے کو لے کر بہت لے دے ہوئی لیکن مسٹر ارنشا نے کسی کی ایک نہ سنی اور اس بچے کو ہید کلف کا نام دے کر گھر میں ہی رکھ لیا۔ اس کے بارے میں انھوں نے سب کو یہ ہی بتایا تھا کہ وہ انھیں سڑک کنارے بیٹھا ہوا ملا وہ اسے وہاں چھوڑنا گوارا نہ کر سکے اسی لیے اسے ساتھ لے آئے۔ ودرنگ ہائیٹس میں سوائے کیتھرین کے کسی نے بھی ہید کلف کو قبول نہیں کیا۔
ہنڈلے کو تو اس سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ اس نے ہید کلف کو تنگ کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔ صرف کیتھرین ہی تھی جو ہید کلف کے ساتھ بات بھی کر لیتی تھی اور اس کے لیے دل میں نرم گوشہ بھی رکھتی تھی۔ خود ہید کلف بھی کیتھرین سے ایک انسیت محسوس کرتا تھا لیکن ہنڈلے اسے بالکل برداشت نہیں کرتا تھا۔ مسٹر ارنشا سب دیکھتے لیکن وہ ہید کلف کو گھر سے نکالنے کے لیے کبھی بھی راضی نہ ہوئے۔ دو سال بعد مسٹر ارنشا کی وفات ہو گئی جس کے بعد ہنڈلے کو مکمل طور پر ہید کلف کو اس کی اوقات یاد دلانے کی آزادی مل گئی۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جتنی ہنڈلے اس سے نفرت کرتا تھا اتنا ہی کیتھرین ہید کلف سے محبت کرنے لگی۔
ارنشاء کی ہید کلف سے بڑھتی انسیت کی وجہ سے ہن ڈلے گھر چھوڑ کر دوسرے شہر چلا گیا۔ یوں کیتھرین اور ہید کلف مزید قریب آ گئے لیکن ارنشا کی وفات پر جب ہنڈلے آیا تو اس کے ساتھ اس کی بیوی فرانسس بھی موجود تھی۔ اب ہنڈلے بلا شرکت غیرے ارنشا کی ہر چیز کا ما الک تھا چنانچہ اس نے سب سے پہلے ہید کلف پر یہ قدغن لگائی کہ وہ خود کو اس گھر کا فرد تصور نہ کرے بلکہ ملازم سمجھے۔ ہید کلف نے ہنڈلے کی اس بات کو بھی چپ چاپ مان لیا۔ لیکن اس کی کیتھرین سے دوستی یوں ہی برقرار رہی۔ ہنڈلے کو اس دوستی سے بھی نفرت تھی لیکن وہ کیتھرین کے سامنے کچھ بول نہیں پاتا تھا کیونکہ وہ ایک انتہائی ضدی لڑکی تھی۔
ودرنگ ہائیٹس سے ذرا فاصلے پر گرینج نامی گھر میں لنٹن فیملی رہا کرتی تھی جو مسٹر اور مسز لنٹن، ان کا بیٹا ایڈ گر اور بیٹی ازابیل پر مشتمل تھی۔ ایک روز یوں ہی باتوں باتوں میں کیتھی اور ہید کلف گرینج جا پہنچے۔ اسی اثناء میں کیتھی کو چوٹ لگ گئی اور وہ اپنے گھر آنے سے بھی قاصر ہو گئی۔ تب مسٹر اور مسز لنٹن نے کیتھی کی اچھے سے دیکھ بھال کی۔ کیتھی کا دل بھی ایڈگر اور ازابیل کی وجہ سے بہل گیا۔ یوں ہید کلف اور کیتھی کی دوستی میں دراڑ آ گئی اور ایڈگر کیتھی کی جانب ملتفت ہو گیا۔ کیتھی کو بھی ایڈگر پسند آیا۔
کیتھی پانچ ہفتے گرینج میں رہی۔ فرانسس وہاں اس سے ملنے آتی رہی اور ہنڈلے کی ہدایت کے پیش نظر مسز لنٹن کیتھی کو اچھے انداز و اطوار سکھاتی رہیں۔ اس عرصے کے بعد جب کیتھی ودرنگ ہائیٹس آئی تو اس کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ چکی تھی۔ ہنڈلے کو لگتا تھا کہ شاید اب کیتھی ہید کلف کو بھول جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ودرنگ ہائیٹس آتے ہی کیتھی نے ہید کلف کو یاد کیا۔ دوسری جانب ہید کلف جس کو لگ رہا تھا کہ کیھی گرینج جا کے اسے بھول گئی ہے ایک دفعہ پھر کھل اٹھا۔
لیکن وہ پیار میں شراکت برداشت نہیں کر پاتا تھا یوں اسے کیتھی کا ایڈگر سے گھلنا ملنا پسند نہیں آتا تھا۔ دوسری جانب ہنڈلے ایڈگر کو تو پسند کرتا تھا لیکن ہید کلف کو کیتھی کے ساتھ دیکھنا اسے بالکل گوارا نہ تھا۔ شاید قسمت میں بھی ہید کلف کو کیتھی کا ساتھ نصیب نہیں تھا۔ یوں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ کیتھی نے شادی کے لیے ایڈگر کا انتخاب کیا اور ہید کلف اس صدمے کو برداشت نہ کر پایا اور ودرنگ ہائیٹس چھوڑ کر چلا گیا۔
کیتھی اور ایڈگر کی شادی ہو گئی اور یوں کیتھی اپنی خادمہ اور سہیلی نیلی کے ساتھ گرینج آ گئی۔ یہاں وہ ایڈگر اور ازابیل کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔ کیتھی کی شادی کے کچھ ماہ بعد ایک دن اچانک ہید کلف واپس آ گیا لیکن تب حالات کچھ اور ہی رخ اختیار کر چکے تھے۔ ودرنگ ہائیٹس میں ہنڈلے نے خود کو شراب کے نشے میں ڈبو دیا تھا۔ فرانسس اپنے بچے گیرٹن کو جنم دینے کے دوران مر گئی تھی جس کا صدمے ہنڈلے جھیل نہ پایا اور اس نے خود کو شراب میں ڈبو دیا۔
بیوی کے مرنے کا ایسا دکھ ہوا کہ وہ اپنی سگی اور اکلوتی اولاد کو بھی وہ محبت نہ دے پایا جو اس کا حق تھا۔ یوں ہید کلف جب واپس ودرنگ ہائیٹس آیا تو بازی پلٹ چکی تھی۔ ہنڈلے اب ایک بیکار شخص بن چکا تھا جس کو ہوش و خرد سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ یوں ہید کلف نے نہ صرف گرینج بلکہ ہیرٹن پر بھی قبضہ جما لیا۔ اب ودرنگ ہائیٹس میں صرف ہید کلف کا حکم چلتا تھا۔
دوسری جانب وہ کیتھی سے ملنے گرینج بھی گیا۔ کیتھی بھی اسے اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ ہید کلف کی محبت اس سے کچھ قدم کے فاصلے پر تھی لیکن ایک بار پھر پہنچ سے دور تھی۔ ایڈگر اسے کیتھی کے آس پاس بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ کیتھی بھی ماں بننے والی تھی اس لیے بھی ایڈگر اس سے زیادہ سختی سے پیش نہیں آ سکتا تھا لیکن ہید کلف اور ایڈگر کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی نے کیتھی کو بالکل ختم کر دیا۔ ہید کلف کی طبعیت کی سفاکی اور ایڈگر کی ناراضگی کیتھی کو ختم کر گئی اور یوں اوہ ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دینے کے بعد مر گئی۔ ایڈگر کی بہن ازابیل جو بچپن میں ہید کلف کی جانب دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی اب اچانک ہید کلف میں دلچسپی لینے پر مجبور ہو گئی۔ کیتھی نے اسے ہید کلف سے دور رہنے کا کہا تو اس نے کیتھی کو ہی غلط سمجھا اور ایک روز رات کی تاریکی میں ہید کلف کے ساتھ بھاگ کر اس سے شادی کر لی۔
کیتھی کے بعد ازابیل بھی ایڈگر سے منہ موڑ گئی۔ گرینج میں ایڈگر اکیلا ہو گیا تو ودرنگ ہائیٹس میں ہنڈلے۔ لیکن ایک بار پھر ہید کلف واپس آ گیا لیکن اس بار بھی اکیلا تھا۔ ازابیل کو جلد ہی اس کی حقیقیت کھل گئی کہ وہ کس قدر جنونی اور نفسیاتی شخص ہے یوں ازابیل نے اپنی راہیں اس سے الگ کریں۔ ہید کلف تو واپس آ گیا لیکن ازابیل کو ایڈگر نے اپنانے سے منع کر دیا۔ لیکن پھر جب ایڈگر کو پتہ چلا کہ ازابیل بستر مرگ پر ہے تو بھائی کی محبت نے جوش مارا اور وہ ازابیل کے بیٹے لنٹن کو اپنے گھر لے آیا۔
کیتھرین اور ایڈگر کی بیٹی اگر شکلاً اپنی ماں جیسی تھی تو عادتوں میں بھی کیتھی کا پرتو ہی تھی۔ ہنڈلے لنٹن کو گھر لایا تو کیتھی بہت خوش ہوئی وہ سمجھ رہی تھی کہ اسے ایک ساتھی مل گیا ہے لیکن جب ہید کلف کو پتہ چلا کہ اس کا بیٹا گرینج میں موجود ہے تو اس نے بڑی چالاکی سے کیتھی کو بندی بنایا اور اس کے بدلے لنٹن کو ودرنگ ہائیٹس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ ایڈگر نے مجبوراً لنٹن کو ہید کلف کے پاس بھیج دیا لیکن اس کے بعد وہ زیادہ جی نہ سکا۔
ایڈگر کی موت کے بعد ہید کلف کے ذہن میں ایک شیطانی منصوبہ پکنا شروع ہو گیا وہ جانتا تھا کہ ودرنگ ہائیٹس سے لے کر گرینج تک صرف اس کی حکمرانی ہی ہو سکتی ہے چنانچہ اس نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ کیتھی اور اس کی پھوپھی کے بیٹے لنٹن کی شادی کردی جائے تاکہ دونوں طرف کی جائیداد اس کے حصے میں آ جائے۔ لنٹن پیدائشی بیمار بچہ تھا ہید کلف کو اس سے کوئی محبت نہیں تھی وہ جانتا تھا کہ وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا یوں اس کی شادی کے بعد کیتھی کی دولت بھی ہید کلف کی ہو جائے گی رہا گیرٹن تو اسے اس سے سب کوئی سروکار نہ تھا ہید کلف نے اسے گھر کے نوکر کی طرح بنا رکھا تھا۔
ہید کلف کے منصوبے کہاں تک کامیاب ہوئے۔ لنٹن، کیتھی اور گیرٹن کے ساتھ کیا ہوا یہ سب جاننے کے لیے آپ اس لازوال ناول کا مطالعہ ضرور کریں۔
اب اگر ناول کی اشاعت اور طباعت کے سلسلے میں اظہار خیال نہ کیا جائے تو یہ اس ناول کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔ بک کارنر جہلم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی ہر کتاب کی اشاعت میں ان کا تجربہ اور کتابوں سے ان کی عمیق محبت جھلکتی ہے۔ ودرنگ ہائیٹس میں بھی السٹریشنز ہوں یا پھر اس کا سرورق بل کارنر نے اس ناول کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے ہیں جس کے لیے گگن شاہد صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ناول کو ہاتھ میں لیتے ہی اس کی پیپر کوالٹی، طباعت اور بائنڈنگ سے لے کر بہترین پروف ریڈ تک ادارے کی کتابوں سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ناول کو ایک بار ہاتھ میں لینے کے ساتھ ہی آپ نہ صرف اس کی خوبصورتی بلکہ کہانی کے گنجلک لیکن فصیح انداز بیان میں کھوتے چلے جائیں گے اور یوں آپ خود کو عشق کے سیلابی ریلے میں ڈوبتا محسوس کریں گے۔


