انتخابی عمل کو غلط خبروں اور معلومات سے بچائیں


پاکستان کا جمہوری عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پھلائے جانے والی جعلی خبروں، غلط معلومات اور پراپیگنڈہ کی وجہ سے شدید خطرات سے دو چار ہے۔ ریاستِ پاکستان نے تمام تر غیر یقینی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود انتخابات کو ممکن بنایا۔ یقیناً انتخابات 8 فروری کو ہی منعقد ہوں گے۔ تاہم جعلی خبروں اور غلط معلومات کی وجہ سے اس جمہوری عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کی ساکھ متاثر کی جا رہی ہے جس کا اثرات پورے انتخابی عمل، اس کے نتائج اور مستقبل میں منتخب حکومت پر نظر آئیں گے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ کچھ سیاسی قوتیں جو انتخابی میدان میں ہیں اور دن رات جمہوریت کا راگ الاپتی رہتی ہیں۔ ان کے ہی سوشل میڈیا جنگجو مسلسل اسی عمل کے خلاف غلط معلومات پر مبنی پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف کا ایک بیان کہ ”جنرل عاصم منیر کے ہوتے ہوئے کسی سازش کا امکان نہیں“ کو اس اضافے کے ساتھ، ”ہر صورت نواز شریف وزیر اعظم ہوں گے“ کے ساتھ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر پھیلایا گیا جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کے ہونے والے انتخابات کے نتائج پہلے سے ہی طے شدہ ہیں۔ اصل میں میاں شہباز شریف کے دو بیانوں کو ملا کر اس بیان کی تشہیر کی گئی۔ اس وقت پاکستان کے تمام ادارے اور تمام سیاسی شخصیات جعلی خبروں اور غلط معلومات کی زد میں ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔

جعلی خبروں اور غلط معلومات کا پھیلاؤ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی جمہوریتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر ڈیجیٹل خواندگی مفقود ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں پر غلط معلومات پر مبنی خبروں کا پھیلاؤ تیز رفتاری سے ہوتا ہے۔ چلیے جمہوری عمل تو اپنی جگہ پر، جعلی خبروں اور غلط معلومات کی وجہ سے ہماری معاشرتی اخلاقیات بھی تباہ ہو رہی ہیں۔ پاکستان پر افتاد یہ آن پڑی ہے کہ 2018 کے بعد سے ریاستِ پاکستان جو کہ مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے مسائل سے نپٹنے کی جدوجہد کر رہی تھی کو اب سیاسی انتہاپسندی کا بھی سامنا ہے۔

اندیشہ ہے کے ہماری آنے والی نسلیں مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم برداشت سے بھی نبرد آزما رہیں گی۔ اس سیاسی عدم برداشت نے خاندانوں میں تقسیم کو جنم دیا جس کی ایک خوفناک جھلک 24 جنوری کو پشاور میں ہونے والے ایک افسوسناک واقعے میں نظر آتی ہے جب ایک باپ نے اپنے اکتیس سالہ قطر پلٹ بیٹے کو گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لہرانے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اگر آپ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو آپ کو بہت سے ایسے واقعات نظر آئیں گے جہاں قریبی رشتہ داروں نے سیاسی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر لیا۔

ایسے واقعات ہمیں 2018 کے بعد نظر آتے ہیں جب ملکی سیاست میں انتہاپسندانہ بیانیے کو فروغ دیا گیا اور سیاسی رہنماؤں کو غدار، چور، ڈاکو اور بہت غیر معقول القابات سے پکارا گیا۔ جس کی ضد میں دوسری جماعتوں کی طرف سے بھی ایسے ہی بیانیوں نے جنم لیا۔ ان بیانیوں کے ٹکراؤ کی وجہ سے سیاسی انتشار اور عدم برداشت کے رویوں کی مہمیز ملی۔ جس کا اثر معاشرے کے ہر فرد پر ہوا اور آج بھی آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً فیس بک، ایکس (ٹویٹر) ، انسٹاگرام اور وٹس ایپ پر روزمرہ کے ٹرینڈس اور پوسٹس دیکھیں تو ان میں زیادہ تر سیاسی، فوجی، عدلیہ اور الیکشن کمشن کی قیادت کی کردارکشی پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ انتخابی عمل کو متاثر کر رہا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو ان جعلی خبروں کا انتخابی عمل پر کثیر الجہتی اثر ہوا ہے۔ جعلی خبروں نے ووٹروں کو امیدواروں اور ان کی انتخابی مہم کے حوالے سے گمراہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کے حوالے سے عدمِ اعتماد پیدا کیا اور انتخابی عمل کے دوران بدامنی کی وجوہات کا موجب بنیں۔ افواہوں کی وجہ سے کراچی میں انتخابی مہم کے دوران لسانی کشیدگی ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں پر متشدد واقعات ہو رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس خوف کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نا صرف 8 فروری بلکہ اس کے بعد بھی افواہوں کی وجہ سے پرتشدد واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کو جعلی خبروں کے پھیلاؤ سے لاحق خطرات کا ادراک ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں حقائق کی جانچ کرنے والے یونٹس کا قیام، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی خبروں کے خطرات کے بارے میں عوام میں بیداری کی مہم شامل ہیں۔ پاکستانی قوم کے ساتھ ایک مذاق یہ بھی ہے کے جب بھی حکومت افواہوں اور جعلی معلومات پھیلانے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہے تو اسے آزادیِ اظہار یا آزادیِ صحافت کا مسئلہ بنا کر احتجاج کیا جاتا ہے اور دباؤ کے تحت قانون اپنا راستہ نہیں لے سکتا۔

جعلی خبروں اور معلومات کے خلاف کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں اس بات پر متفق ہیں کہ جعلی خبروں اور غلط معلومات کا پھیلاؤ انتخابات کے نتائج کو متاثر کرتا ہے، اداروں اور میڈیا پر عوامی اعتماد کو ختم کر کے جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ 8 فروری کو پولنگ کے عمل اور اس کے بعد آنے والے نتائج کو بھی جعلی خبروں اور افواہوں کے ذریعے متنازع بنا دیا جائے گا جو کے ملک کو مزید سیاسی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ غلط معلومات کے اثر کو روکنے کے لیے ایک ہی نسخہِ ہے کہ ملک کی آبادی کو باخبر شہریوں میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ وہ حقائق کو بہتر طریقے سے جانچ سکیں۔ باخبر شہری جمہوریت کی بقا کے ضامن ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS