کیا نواز شریف مخلوط حکومت چلا پائیں گے؟


مجھے یاد پڑتا ہے جب شہید محترم بینظیر بھٹو 2007 میں ملک میں الیکشن کی تیاری کر رہی تھی، اس کے اکثر پروگرام دبئی کے دیرا شیریٹن ہوٹل میں ہوا کرتے تھے اور مین اکثر ان پروگراموں میں جاتا تھا۔ بی بی بہت خوش تھی کہ ملک مین انتخابات ہو رہے ہیں اور ان کی واحد امید یہ تھی کہ ملک میں شفاف الیکشن ہو گئے تو پی پی پی کی حکومت آ جائے گی۔ اس نے اپنے منشور میں چار ای دیے تھے جس میں ایجوکیشن سرفہرست تھی۔ آج کل بلاول بھٹو زرداری بالکل اپنی والدہ کو ہی فالو کر رہے ہیں۔

ان کا مقابلہ نون لیگ کے ساتھ ہے۔ اور وہ نون لیگ سے اچھی الیکٹورل کمپین چلا رہے ہیں۔ سیکیورٹی کے خدشات کے باوجود وہ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پوڈکاسٹ میں اپنے انٹرویو دے رہے ہیں۔ جبکہ نواز لیگ نے پنجاب میں بھی اپنے کچھ جلسے ملتوی کر دیے ہیں۔ نواز شریف نے ابھی تک سندھ کا ایک دورہ نہیں کیا۔ جبکہ شہباز شریف نے یہ تک کہ دیا کہ بلاول کو اپنا صوبہ دیکھنا چاہیے۔ اس سے لگتا ہے نواز لیگ کا فوکس صرف پنجاب ہے۔

بلاول بھٹو زرداری اپنی تقریروں میں ملک میں سیاسی استحکام، پیار اور محبت کی باتیں کر رہا ہے اور نفرت اور دشمنی کی سیاست کو ختم کرنے کی بھی بات کر رہے ہیں۔ بلاول کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کو پنجاب میں 25 سے 30 سیٹیں حاصل کرنی ہے۔ وہ ایسے تو ممکن نہیں کہ پنجاب میں کھڑے ہو کر یہ کہے کہ نواز شریف نے پنجاب میں سب اچھا کیا ہے۔ بلاول کی ٹارگیٹ آڈینس ہی اینٹی نواز لوگ ہے اور بلاول ان کو اچھی طرح اپنا میسیج دی رہا ہے۔

نواز شریف کو اتنا بڑا چیلنج نہیں ہے وہ سینٹرل پنجاب کی 100 سیٹوں کو جیتنا چاہتا ہے جو اتنا پڑا چیلنج نہیں۔ اس کو نہ سندھ میں سیٹوں کی ضرورت ہے نہ ہے بلوچستان میں۔ وہ سینٹر پنجاب کی سیٹٰوں اور اتحادی تنظیموں کے ساتھ مل کر آرام سے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی نہ تین میں ہے نہ تیرا میں، بلے کا نشان تک بلٹ پیپر پر نہیں، اس لئے یہ انتخابات پاکستان کی آنے والی تاریخ میں ہمیشہ ہمیں ہونٹ کرتے رہیں گے۔ عمران خان جس کو زیرو سے ہیرو بنایا گیا اس کو اگر 5 سال حکومت کرنے دی جاتی تو آج عمران خان کا نام لینے والا نہیں ہوتا۔ مگر ان کو زبردستی ہٹایا گیا۔ اب اس کو زبردستی زیرو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے کیسز کے فیصلے بہت جلد آ رہے لیکن اس سے عمران خان کو الیکشن سے تو باہر کیا جا سکتا ہے لیکن لوگوں کی محبت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آج بھی ہمارے نوجوان عمران خان کو چاہتے ہیں۔ اس الیکشن کا سب سے برا اثر یہ ہو گا کہ نوجوانوں میں آنے والی حکومت کے لیے نفرت پیدا ہو جائے گی۔ وہ اس حکومت کو کبھی قبول نہیں کرین گے۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کٰہ آنے والے حکومت بہت غیر مقبول ہوگی کیوں کہ اکثریت ان کو قبول نہیں کرے گی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف بھی یہ کہ چکے ہیں ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائے گے اور پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو بھی یہ کہ چکے ہیں کہ وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے۔ یہ دونوں اسٹیٹمینٹس بہت خطرناک ہیں کیوں کہ اور کوئی بڑی پارٹی میدان میں نہیں۔ سیاسی پنڈٹس کا کہنا ہے ملک میں آنے والی حکومت کولیشن والی ہوگی مگر ملک کی دو بڑی پارٹی ایک دوسرے سے مل کر حکومت بنانے کہ لیے تیار نہیں تو یہ کولیشن کیسا ہو گا۔ کیا ایک بار پھر جہاز چلے گا اور بندے پورے کیے جائے گے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان استحکام پارٹی حکومت میں بڑا حصا مانگے گی۔ پاکستان استحکام پارٹی کی خواہش پنجاب کا چیف منسٹر لینا ہوگی جو مسلم لیگ کو ان کو دینا مشکل ہو گا۔

مسلم لیگ نون کا کولیشن چلانے کا تجربہ اتنا اچھا نہیں ہے۔ اگر مسلم لیگ نون کو سادی اکثریت حاصل نہیں ملتی تو مسلم لیگ کے لیے حکومت کرنا بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ اب خبریں یہ بھی آ رہی ہیں نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں اور خود ملک کا صدر بننا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تب بھی مسلم لیگ کے لیے یہ بڑا چیلنج ہو گا۔ حمزہ شہباز کو کہاں ایڈجسٹ کریں گے۔ اور فیملی میں سارے اہم عہدے مل گئے تو اسٹیبلشمنٹ اس کو کس نظر سے دیکھے گی۔

ایسے حالات میں یہ ہی لگ رہا ہے کہ ملک کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور آنے والی حکومت ملک میں سیاسی استحکام لانے میں بھی بری طرح ناکام ہوگی۔ اللہ ہمارے ملک پر رحم کریں۔

Facebook Comments HS