رائج انتخابی نسق اور راہ نجات


1970 میں ہونے والے پاکستان کے پہلے عام انتخابات واحد حقیقی انتخابات تھے جس کے نتائج نے ملک کے کرتا دھرتاؤں کی آنکھیں کھول دیں اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہم جوابدہ نہ ہوجائیں۔ اس فکر نے انہیں ایک نکاتی غیر رسمی پالیسی پر یکجا کر دیا کہ ”ملک کے وسیع تر مفاد میں“ آزادانہ انتخابات کی حماقت پھر کبھی دھرائی نہ جا سکے۔

ان انتخابات کے نتائج پر اصولی موقف نظر انداز کرنے کا نتیجہ ملک کے دو لخت ہونے کی صورت سامنے آیا جس وجہ سے فوج کا مورال گرا اور بھٹو نے اسے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھرپور فائدہ اٹھا کر طاقت کی خالی جگہ پر کرتے ہوئے ملک پر وہ تسلط قائم کیا جس نے جمہوریت کا گلا گھونٹ ڈالا۔ اسٹیبلشمنٹ کی لگامیں کسنے کے لیے جمہوریت کو قوت دینے کے بجائے ایک متوازی فوج بنام فیڈرل سیکیورٹی فورس یا ایف ایس ایف بنالی۔

اس تسلط کے زیر اثر 1977 کے انتخابات ہوئے جس نے ملک میں انارکی پھیلا دی تو دوسری طرف روس کے حوالے سے افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی نے اسٹیبلشمنٹ کو شہ دی کہ وہ اس ”نادر موقع“ سے فائدہ اٹھائے، یوں آرمی چیف جنرل ضیا، بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ تب سے انتخابات کے ”مطلوبہ نتائج“ کی بھاری ذمہ داری ”صرف ایک“ نے سنبھال لی اور تب سے یہ انہی کی مرضی کے مرہون منت ہے۔

تبدیل ہوتے ان حالات کو آئین کے مطابق کرنے کے بجائے بہت سی سیاسی جماعتوں نے جن میں زیادہ تر دائیں باؤ کی جماعتیں شامل تھیں، اپنے سیاسی سفر کا ڈھب اسی طرز پر ڈھال لیا اور تب سے سیاست دان نہ سیاست کرتے ہیں نہ ہی عوام کی خدمت بلکہ اب یہ صرف اور صرف سوکنوں کی طرح ”پیا من بھانے“ کی کوشش کرتے ہیں جس کے لیے ہر اصول اور حق کے گلے پر بے دریغ چھری پھیری جاتی ہے، جس میں ضیاء کی شدید مخالف بائیں بازو کی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی بھی شامل ہو چکی ہے۔

اس کار خیر میں نام نہاد ”مذہبی“ سیاست دان اور جماعتیں بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ پیش پیش ہیں۔ اسلام کے نام پر ہی سیاست کرنے والے اس ناز برداری کی دوڑ میں شریعت کے خلاف سیاسی اعلانات اور عمل میں تامل نہیں کرتے۔

حاصل یہ ہے کہ دائیں بازو، بائیں بازو، سیکولر اور مذہبی افکار کے حامل عوام اپنے اپنے نظریات سے مطابقت کے لحاظ سے جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں مگر یہ جماعتیں ”صرف ایک“ کا ساتھ لینے کے لیے عوام کے حقوق کی قربانی دیتی ہیں جس کی سادہ مثال آئی ایم ایف کی جانب سے سرکاری اخراجات میں کمی کے مسلسل اصرار کے جواب میں اس کے بجائے عوام پر ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ لادنا ہے اور عوام کے سامنے آئی ایم ایف کو فرعون بنا کر پیش کرنا ہے تاکہ خود کو بے قصور ظاہر کیا جس کے ۔

پاکستان جس انتظامی اور سیاسی بحران کا شکار ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ ملک معاشی اور معاشرتی انتشار کا شکار ہو چکا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ملک اور عوام کے حقیقی مفاد میں اب ملک کو حقیقی معنوں میں آئین اور قانون کے تحت چلایا جائے۔ یہ کام تب ہی ہو سکتا ہے جب عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہوئے نہ صرف ذاتی مفادات سے بلکہ گروہی، لسانی، فرقہ وارانہ سمیت ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف اس ملک اور اس کی عوام کے مفاد میں اصول پسند اور مخلص افراد کا چناؤ کریں کہ یہی ایک واحد راہ نجات ہے۔

Facebook Comments HS