اے میرے خدا
اے خدائے بزرگ و برتر۔ میں تیرا ازلی نوکر
اک عرض کرنی تھی سرکار کہ ہم بہت مذہبی لوگ ہیں خیر سے یہ پورا خطہ ہی اپنی غضب کی دینداری کے باعث دنیا کے دیگر ممالک میں مقبول ہے، ہماری دینداری کے چرچے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میں چونکہ اسی خطہ کا باشندہ ہوں اس لئے یہیں کی بات کروں گا اور بتانا یہ چاہوں کہ یہاں جس لیول کی دین داری ہے اس کا موازنہ خدا صاحب دیگر ممالک سے ممکن نہیں۔ الیکشن قریب قریب ہیں سو مذہب کو ہم الیکشن سے کیسے دور رکھ سکتے ہیں، ہم بے حد دیندار ہیں صاحب یہ اس زمین کی زرخیزی کہئے یا شاید ہمارا مذہبی رجحان کہئے کہ ہم اتنے دین دار ہیں کہ ہم نے الیکشن کی بھی ایک آیت (نصر من اللہ و فتح قریب) ڈھونڈ رکھی ہے اور اس پہ کمال ہمارا یہ دیکھئے کہ تمام کی تمام سیاسی جماعتیں اس آیت کا مصداق خود کو سمجھتی ہیں۔
کیا سوشل میڈیا، کیا کوئی بینر ہو، کیا کوئی جلسہ ہو، کارنر میٹنگ ہو یا کوئی میڈیا ٹاک اسی کا دور دورہ ہے، یہ آیت اتنی مشہور ہے اور اتنی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے ترجمہ، تفسیر اور اعراب کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ایک ہمارا ایرانی دوست تھا وہ تو اتنا مذہبی ہو چکا تھا کہ جب ابھی فلسطین و اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی تو وہ یہ آیت زور زور سے پڑھتا تھا میں نے پوچھا بھائی تو یہ کیوں پڑھ رہا ہے؟ کہنے لگا اس میں حسن نصراللہ کا ذکر آیا ہے۔
بروز جمعہ مسجد میں امام صاحب نے بھی الیکشن میں ووٹ پہ زور دیا اور لوگوں کو منبر سے تلقین کی کہ ووٹ ایک شرعی امانت ہے اور امانت میں خیانت کر کے آپ گناہگار ہوں گے ۔ اور پھر آپ کے نام سے رائج مشہور دھمکی (اللہ کا عذاب) دے کر ہمارے وضو تڑوانے کی کوشش کی گئی اور منبر سے فلک شگاف آواز میں جو تھوڑے بہت بھولے بھٹکے مسجد پہنچے انہیں ڈرایا گیا، کہ اگر ووٹ صالح شخص کو نہ دیا تو آپ ہمیں عذاب دے دیں گے بڑی مشکل سے وضو روک کر دو رکعت مکمل کیے اور دفتر کو واپس پہنچا۔ خدا صاحب کتنا آسان ہے عام لوگوں کو ڈرانا، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ یہ مذہب آپ نے ہمیں ڈرانے دھمکانے کے لئے نہیں بنایا تھا مگر مستعمل یہی ہے، اللہ کا عذاب تو ایسا مستند ٹول ہے کہ مسئلہ ہی کوئی نہیں۔
اے میرے خدا، کیا کریں ہم اتنے مذہبی ہیں کہ ہمارا کوئی محلہ، کمپاونڈ، اپارٹمنٹ آپ کے گھر مسجد سے خالی نہیں یعنی اگر بلاشبہ ناپا جائے تو پتہ لگے گا کہ کم و بیش ہر ایک کلو میٹر کے بعد آپ کا گھر پوری مذہبی شان کے ساتھ موجود ہے یہ وہ ذمہ داری ہے جو بحیثیت مسلمان ہم نے اپنے پہ لازم سمجھی ہے پر اے میرے خدا، ہم اتنے ہی کلومیٹر کی صفائی ہم نہیں کر سکے جو کہ آپ کا نصف دین تھا۔ مسجدوں کی ہی تعداد کے برابر اسکول موجود ہیں، اتنے اسکول اور اتنی مساجد کے بعد آپ تعلیم اور مذہب پہ ہمارا حال دیکھیں، دیکھنے کے قابل ہے سرکار۔
اسکولوں کا تذکرہ آیا تو اسکولوں کا عالم یہ ہے کہ والدین کی کوئی قیمت ہی نہیں اصل قیمت فیس کی ہے اتنی اتنی فیس ہیں کہ لگتا ہے کہ تعلیم نے خود کو فیس کے آگے گروی رکھ لیا ہے مگر اے میرے خدا، تعلیم ہے کہ آ کر ہی نہیں دے رہی، شعور ہے کہ ہم سے کوسوں دور ہے، ہم اس ریس میں ہیں جہاں تعلیم خرید تو رہے ہیں مگر اسے حاصل نہیں کر پا رہے۔
کیا کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے اپنے ذمہ رزق لیا صاحب مگر تعلیم نہیں۔
جو میں سمجھ سکا ہوں کہ آپ بندے بناتے ہیں یعنی انہیں تخلیق کرتے ہیں اور پھر اس دنیائے فانی میں بھیجتے ہیں۔ اس دنیا کی کچھ چیزیں آپ نے اپنے ذمہ لی ہیں ظاہر ہے آپ مالک ہو سائیں، وہ ذمہ کعبہ کی حفاظت کا ہے ان میں سے ایک ذمہ قرآن کی حفاظت کا ہے، پھر ایک ذمہ رزق کا آپ نے لیا ہوا ہے، جینا کب تک ہے اور کب یہ جہاں چھوڑنا ہے یہ سب بلاشبہ آپ کے اختیار کار میں ہے، اگر میں یہ کہوں کہ اک خاص پیکج کے ساتھ آپ نے لوگوں کو اس دنیا میں بھیجا ہے۔ ظاہر ہے لوگ کہیں بھی تخلیق کیے جائیں چاہے وہ یورپ کے کسی ملک میں ہو یا مملکت خداداد پاکستان میں ہوں کچھ چیزیں اٹل ہیں۔ جب سے یہ دنیا بنی ہے تب کا تو نہیں پتہ مگر قریب کوئی 1400 سال سے آپ اسی پیکج پہ لوگ اس دنیا میں بھیج رہے ہیں آپ نے پیکج بدلا کیوں نہیں؟
مطلب آپ دیکھیں نا کہ جیسے صارف کو سہولت پہنچانے والی تمام تر ادارے اپنے پیکج وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور ان میں تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں تاکہ وہ ہم آہنگ ہو سکیں موجودہ مسائل سے، مثال کے طور پر موبائل سمز کے مختلف پیکج ہیں کسی کو صرف کال کرنی ہے یا میسج کرنے ہیں تو الگ پیکج، واٹس ایپ اور انسٹا کے الگ پیکج کوئی سوشل میڈیا ڈیل کا پیکج فلاں فلاں یعنی ہر عمر کے حساب سے پیکج بھی ہیں اور وقت کی مناسبت سے انہیں تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے، اب اس طرح یہ ہے کہ ہر عمر ہر مزاج کا پیکج موجود ہے، اس سے آسانیاں ہی ہوئی ہیں عوام الناس کو، مگر اے میرے خدا، آپ کا پیکج نہیں بدلا۔ کیوں؟
میرے دفتر کا چپراسی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ بارہ بارہ گھنٹے کام کر کے بھی وہ بنیادی سہولتیں نہیں دے پا رہا اپنے بچوں کو تعلیم کے اخراجات نہیں پورے ہو کر دے رہے میرا دوست بچوں کو اسکول سے نکلوا چکا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ جس نے رزق ذمہ لیا ہے وہ تعلیم کا ذمہ کیوں نہیں اٹھا رہا۔ اس کے سوال خوفناک حد تک سچ اگل رہے ہیں، میں سمجھ نہیں پا رہا خدا صاحب کے اسے کیسے مطمئن کروں میرے پاس کوئی جواب نہیں ؛
ماسوائے اس کے کہ میں آپ کے آگے گزارش کروں کہ پیکج بدلیں! ہم جتنے لوگ آ گئے آ گئے آپ اب جو نفوس اس دنیا میں بھیجیں ان کا پیکج بدلیں سائیں! ۔ ہم آپ سے نیا پیکج مانگتے ہیں جس میں رزق کے ساتھ رزق کی تقسیم بھی مساوات سے ہو، رزق حاصل کرنے کے لئے جو محنت کی جائے اس میں بھی مساوات کا خیال رکھا جائے، آپ رزق کے ساتھ تعلیم کا بھی ذمہ لیں ہم کھانے کے لئے کمائیں کہ تعلیم کے لئے کوئی ایک چیز تو مکمل آپ عنایت کریں سائیں، بنیادی سہولتوں کا پیکج لائیں سرکار۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول کر اب لوگوں کو خدا بنا بیٹھے ہیں، ایسا لگتا ہے خدا صاحب آپ تو ہمیں اس خطے میں بھیج کر بھول ہی گئے ہیں، دیکھیں نا ہماری طرف، حال تو دیکھیں۔
مشرق وسطی میں دیکھیں! وہاں بچوں کا قتل عام دیکھیں سائیں۔ وہ لوگ اپنے بچے امام و عیسی کے انتظار میں دفنا رہے ہیں ظلم ہو رہا ہے صاحب خطے کے حساب سے پیکج دیں ہمیں محض دنیا میں بھیجنا چھوڑ دیں۔ گزارش ہے سائیں نظر کرم کریں، ہمارے بچوں کی حفاظت کا کوئی انتظام کریں کہ ہمارے جد اور ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ شالا وسدا رہے تیرا سوہنا حرم۔


